ای سی سی اجلاس، گاڑیوں کے درآمد میں تبدیلی ودیگراہم فیصلوں کی منظوری
اشاعت کی تاریخ: 9th, December 2025 GMT
اسلام آباد:(نیوزڈیسک) اقتصادری رابطہ کمیٹی نے گاڑیوں کی درآمد کے طریقہ کار میں تبدیلی کی منظوری دے دی اور گاڑیوں کی درآمد کی مدت دو سال سے بڑھا کر تین سال کر دی ہے۔
وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی زیر صدارت اقتصادی رابطہ کمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں پاور ڈویژن نے آئندہ مالی سال کے سرکلر قرضہ منصوبے پر بریفنگ دی جبکہ کمیٹی نے پاور سیکٹر میں مالی پائیداری اور کارکردگی بہتر بنانے کی ہدایت کی گئی اور پاور ڈویژن کو مالی مدد بتدریج کم کرنے کا درمیانی مدت منصوبہ تیار کرنے کا حکم دیا گیا۔
اجلاس میں بیرون ملک سے گاڑیوں کی درآمد کے طریقہ کار میں تبدیلیوں کی منظوری دے دی گئی اور نئی پالیسی کے تحت درآمدی گاڑیوں پر تحفظ اور ماحولیاتی معیار لاگو ہوں گے، گاڑیوں کی درآمد کی مدت دو سال سے بڑھا کر تین سال کر دی گئی۔
فیصلہ کیا گیا کہ درآمد شدہ گاڑیاں ایک سال تک کسی دوسرے کے نام منتقل نہیں کی جا سکیں گی۔
اقتصادی رابطہ کمیٹی کے اجلاس میں صرف رہائش کی منتقلی اور تحفہ اسکیم برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا، پیٹرول کمپنیوں اور ڈیلروں کے منافع میں 5 سے 10 فیصد تک ایڈجسٹمنٹ کی منظوری دی گئی۔
اجلاس میں منافع میں نصف اضافہ فوری جبکہ نصف ڈیجیٹائزیشن کی پیش رفت سے مشروط قرار پایا گیا اورپیٹرولیم ڈویژن کو یکم جون 2026 تک پیش رفت رپورٹ دینے کی ہدایت کی گئی۔
وزیرخزانہ کی زیرصدارت اجلاس میں کلوروفارم کی درآمد پر پابندی لگانے کی منظوری دے دی گئی، کلوروفارم کی درآمد صرف ادویہ ساز کمپنیوں کو قومی ریگولیٹری اتھارٹی کے اجازت نامے کے ساتھ ہو گی۔
اسی طرح شیشے بنانے والی کمپنی کی رعایتی گیس نرخ کی درخواست مسترد کر دی گئی، پاکستان ڈیجیٹل اتھارٹی کے لیے ایک ارب 28 کروڑ روپے کی اضافی رقم منظور کر لی گئی اور کابینہ ڈویژن کے ترقیاتی اخراجات کے لیے اضافی فنڈز جاری کرنے کی منظوری بھی دی گئی۔
اجلاس میں ہاؤسنگ اور تعمیرات ڈویژن کے لیے 5 ارب روپے مختص کرنے کا فیصلہ کیا گیا اور پاسکو کو بند کرنے اور واجبات نمٹانے کے لیے خصوصی کمپنی بنانے کی منظوری دی گئی اور خصوصی کمپنی کے انتظامی اور مالی معاملات طے کر دیے گئے۔
اقتصادی رابطہ کمیٹی نے پی آئی اے ہولڈنگ کمپنی لمیٹڈ کے لیے پنشن اور طبی اخراجات کے سلسلے میں بجٹ ایلوکیشن جاری کرنے کی اصولی منظوری دی گئی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: گاڑیوں کی درا مد رابطہ کمیٹی کی منظوری اجلاس میں گئی اور کے لیے
پڑھیں:
وفاقی کابینہ، ادویات ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم نفاذ کی باقاعدہ منظوری دے دی
اسلام آباد،وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال (mustafa kamal)نے کہا ہے کہ وفاقی کابینہ نے ملک بھر میں ادویات پر ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ کی باضابطہ منظوری دے دی ہے۔
اس سلسلے میں ڈرگ لیبلنگ اینڈ پیکنگ رولز 1978 میں ضروری ترامیم کی بھی منظوری دے دی گئی ہے۔منگل کو جاری بیان کے مطابق وفاقی وزیرِ صحت نے کہا کہ یہ فیصلہ پاکستان میں جعلی ادویات کے خاتمے کی جانب ایک بڑا اور تاریخی قدم ہے۔
پہلی بار ملک میں ہر دوا کو ڈیجیٹل طریقے سے ٹریک اور ویریفائی کیا جا سکے گا، جس سے جعلی، غیر معیاری اور نقلی ادویات کی مؤثر نشاندہی اور ان کے خاتمے میں مدد ملے گی۔
انہوں نے کہا کہ نئے نظام کے نفاذ کے بعد عام صارفین باآسانی دوا کی میعادِ استعمال، قیمت اور دیگر اہم معلومات کی مستند تصدیق کر سکیں گے، جس سے عوام کا ادویات کے نظام پر اعتماد مزید مضبوط ہوگا۔
مصطفیٰ کمال نے بتایا کہ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان اس جدید نظام کو ملک بھر میں نافذ کرے گی۔ نئے قواعد کے تحت تمام دوا ساز کمپنیوں اور درآمد کنندگان کے لیے لازم ہوگا کہ وہ ہر دوا کے پیک پر معیاری ٹو ڈی بارکوڈ اور سیریلائزیشن ڈیٹا درج کریں۔
وفاقی وزیرِ صحت نے کہا کہ یہ اہم اقدام پاکستان میں ادویات کی سپلائی چین کو محفوظ، شفاف اور معیاری بنانے کے لیے کیا گیا ہے۔
حکومت ادویات کے شعبے کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے اور ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ سے جعلی ادویات کے خلاف ایک مضبوط اور مؤثر دیوار قائم ہوگی۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان جدید ٹیکنالوجی کے استعمال میں خطے کے نمایاں ممالک میں شامل ہوگا۔ اس نظام کے ذریعے نگرانی کے روایتی طریقوں کی جگہ جدید ڈیجیٹل نظام لے گاجس سے عوام کی صحت، زندگی اور اعتماد کا مکمل تحفظ یقینی بنایا جا سکے گا۔
مزید پڑھیں:میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
وفاقی وزیرِ صحت کے مطابق ڈریپ کی جانب سے صنعت کو سہولت فراہم کرنے کے لیے جلد تکنیکی رہنما اصول جاری کیے جائیں گے، جبکہ متعلقہ فریقین کے ساتھ مشاورتی اجلاس بھی منعقد کیے جا چکے ہیں تاکہ نظام کے مؤثر اور مرحلہ وار نفاذ کو یقینی بنایا جا سکے۔