عمران خان کی بہنوں نے ملاقات کی اجازت نہ دینے پر اڈیالہ جیل کے قریب دھرنا دیدیا
اشاعت کی تاریخ: 9th, December 2025 GMT
عمران خان کی بہنوں نے ملاقات کی اجازت نہ دینے پر اڈیالہ جیل کے قریب دھرنا دیدیا WhatsAppFacebookTwitter 0 9 December, 2025 سب نیوز
راولپنڈی (سب نیوز)پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر اور پارٹی کے بانی عمران خان کی بہنوں کو آج ملاقات کی اجازت نہ ملی جس پر انہوں نے جیل کے قریب فیکٹری ناکے پر دھرنا دیدیا۔
اڈیالہ جیل میں ملاقات کا وقت ختم ہوگیا، بیرسٹر گوہر اور بانی پی ٹی آئی کی بہنوں کو ملاقات کی اجازت نہ مل سکی۔بانی پی ٹی آئی کی بہنوں کو پولیس نے فیکٹری ناکے پر روکا، علیمہ خان کی جانب سے کارکنان کو پرسکون رہنے کی ہدایت کی گئی اور وہ کارکنان کو ناکے سے پیچھے ہٹاتی رہیں۔ان کا کہنا تھاکہ پولیس کے ساتھ ہماری کوئی لڑائی نہیں، پولیس والے ہمارے بھائی ہیں یہ ہمارے ساتھ بہت اچھے ہیں، کارکنوں کو اس لیے پیچھے کررہی ہوں کیونکہ خواتین ساتھ ہیں، پولیس والے خود پریشان ہیں۔
علیمہ خان کا کہنا تھاکہ ملاقات کی اجازت عرصے سے نہیں دی جارہی، میری بہن نے گزشتہ ملاقات پر کوئی سیاسی گفتگو نہیں کی، بانی پی ٹی آئی کو کس کے احکامات پر قید تنہائی میں رکھا گیا ہے، ہم ملاقات کیلئے آئے پچھلے ایک ماہ سے اسی مقصد کیلئے آ رہے ہیں۔ادھر ملاقات کی اجازت نہ دینے پر عمران خان کی بہنوں نے اڈیالہ جیل کے قریب فیکٹری ناکے پر دھرنا دے دیا جس میں اراکین قومی اسمبلی جنید اکبر، شاہد خٹک، خیبر پختونخوا کابینہ کے اراکین مینا خان، شفیع جان و دیگر موجود ہیں۔اڈیالہ جیل جانے والا راستہ بند ہے اور پولیس کی بھاری نفری فیکٹری ناکے پر موجود ہے۔
دوسری جانب وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ کا کہنا ہے کہ قانون کی خلاف ورزی کے بعد بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کا ایک فیصد بھی امکان نہیں، ملاقات کسی کی خواہش پر نہیں قانونی بنیادوں پر بند ہوئی ہے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبربشری بی بی بانی پی ٹی آئی کو دھوکا دینے کا سوچ بھی نہیں سکتیں،بہن مریم وٹو بشری بی بی بانی پی ٹی آئی کو دھوکا دینے کا سوچ بھی نہیں سکتیں،بہن مریم وٹو نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور ایرانی وزیر خارجہ میں رابطہ، علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال ملک مزید انتشار اور کشیدگی کا متحمل نہیں ہوسکتا، سیاست سے لفظ کشیدگی ختم ہونا چاہئے، بیرسٹر گوہر ای سی سی نے گاڑیوں کی درآمد کے طریقہ کار میں تبدیلی کی منظوری دیدی بھارتی درآمدی اشیا پر مزید ٹیرف عائد کرینگے، ٹرمپ نے مودی کو متنبہ کردیا بانی پی ٹی آئی کے سرکاری ڈاکٹروں سے چیک اپ اور میڈیکل رپورٹس کو نہیں مانتے، سلمان اکرم راجہ کا اعلانCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: عمران خان کی بہنوں ملاقات کی اجازت نہ جیل کے قریب اڈیالہ جیل
پڑھیں:
پاکستان بحریہ سعودی عرب کی خواہش پر حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے گی، ایمبیسیڈر عمران علی
پاکستان کے سابق سفیر عمران علی کا کہنا ہے کہ اگر سعودی عرب نے خواہش ظاہر کی کہ پاکستان اپنی بحریہ کے ذریعے حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے تو پاکستان بھی اس پر پورا اترتے ہوئے ویسا ہی کرے گا۔
یہ بھی پڑھیں: ’پاک سعودی دفاعی معاہدہ محض مالی یا وقتی تعلق نہیں بلکہ فعال حکمت عملی کا حصہ ہے‘
وی نیوز کے ساتھ خصوصی گفتگو میں انہوں نے کہا کہ سعودی عرب پاکستان کی ریڈلائن ہے اور دونوں ممالک کے مابین دفاعی معاہدے کا یہ مطلب نہیں کہ صرف ان کی سرزمین پر حملے کی صورت میں دفاعی تعاون ہوگا بلکہ پاکستان اس سلسلے میں سعودی عرب کی خواہشات پر پورا اترے گا۔
انہوں نے کہا کہ سعودی عرب پاکستان کی مستقل ’ریڈ لائن‘ ہے اور دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون محض معاہدوں تک محدود نہیں بلکہ تاریخی اور برادرانہ تعلقات پر مبنی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر سعودی عرب کو پاکستان سے کسی بھی نوعیت کے تعاون کی ضرورت پیش آئی تو اسلام آباد اس کی توقعات پر پورا اترے گا۔
ایمبیسیڈر عمران علی نے وزیراعظم پاکستان اور سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے درمیان حالیہ رابطے کو اہم سفارتی پیغام قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے واضح ہو گیا ہے کہ پاکستان اس معاملے میں سعودی عرب کے ساتھ مضبوطی سے کھڑا ہے۔
مزید پڑھیے: وی ایکسکلوسیو: پاکستان، سعودی عرب دفاعی معاہدہ امت مسلمہ کو متحد کرسکتا ہے، وفاقی وزیر سردار یوسف
انہوں نے کہا کہ سعودی عرب نے اشتعال انگیزی کے باوجود انتہائی متوازن اور ذمہ دارانہ کردار ادا کیا ہے اور پاکستان بھی یہی چاہتا ہے کہ مسلم دنیا مزید تقسیم نہ ہو۔ ان کے مطابق اگرچہ ایران کو اپنے مؤقف پر نظرثانی کرنی چاہیے تاہم امریکا کی بعض کارروائیاں بھی کشیدگی میں اضافے کا باعث بنی ہیں۔
ایران کے پاس 2 ہفتوں کی مہلتان کا کہنا تھا کہ ایران کے پاس کشیدگی کم کرنے کے لیے صرف 2 ہفتوں کی مہلت ہے اور اگر تہران آبنائے ہرمز سے متعلق سخت مؤقف ترک کرکے دوبارہ مذاکراتی عمل کی طرف آ جائے اور پاکستان کی ثالثی کو موقع دے تو خطے میں جاری بحران پر قابو پایا جا سکتا ہے۔
عمران علی نے کہا کہ پاکستان پہلے بھی ایران اور امریکا کے درمیان ایک قابل قبول مفاہمتی دستاویز تیار کرا چکا ہے اس لیے اب بھی اسلام آباد مؤثر ثالث کا کردار ادا کر سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کو جذباتی فیصلوں کے بجائے وسیع تر علاقائی اور عالمی تناظر میں حکمت عملی اپنانا ہوگی۔
ایمبیسیڈر عمران علی کے مطابق ایران کی موجودہ پالیسی کا مقصد عالمی تجارت اور تیل کی ترسیل پر دباؤ ڈال کر دنیا کو غزہ کے مسئلے پر متوجہ کرنا ہے تاہم یہ حکمت عملی اب الٹا اثر دکھا رہی ہے۔ ان کے بقول ریڈ سی اور باب المندب میں کشیدگی سے عالمی تجارت اور مسلم ممالک کو زیادہ نقصان پہنچ رہا ہے جبکہ اسرائیل اور امریکہ پر مطلوبہ دباؤ نہیں پڑ رہا۔
عالمی جنگ کے امکانات نہیںعالمی جنگ کے خدشات پر انہوں نے کہا کہ تیسری عالمی جنگ کے امکانات کم ہیں کیونکہ روس اور چین براہ راست اس تنازع میں شامل ہونے سے گریز کریں گے تاہم خلیجی خطے میں محدود علاقائی جنگ کا خطرہ موجود ہے خاص طور پر اگر کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا تو یورپ سمیت دنیا کی توانائی منڈی بھی متاثر ہو سکتی ہے۔
مزید پڑھیں: پاک سعودی دفاعی معاہدہ، آج یوم تشکر منایا گیا
ایران کے اندر ممکنہ رجیم چینج سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں اس کا امکان کم ہے کیونکہ ریاستی کنٹرول مضبوط ہے، البتہ ایران کو جنگی کامیابی کے بیانیے کے بجائے امن اور سفارت کاری کو ترجیح دینی چاہیے۔
پاکستان امریکا سے براہ راست مالی معاونت حاصل کرےپاکستان کی سفارتی کامیابیوں کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حالیہ ثالثی کی کوششوں سے عالمی سطح پر پاکستان کا مثبت تشخص ابھرا ہے تاہم اس سفارتی کامیابی کو معاشی فوائد میں تبدیل کرنا ضروری ہے۔
انہوں نے تجویز دی کہ پاکستان کو اپنی سب سے بڑی معاشی ضرورت یعنی مالی خسارے کے لیے امریکا سے براہ راست مالی معاونت حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔
یہ بھی پڑھیے: پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان اب تک کتنے معاشی معاہدے اور اُن پر کیا پیشرفت ہوئی؟
ایمبیسیڈر عمران علی کے مطابق پاکستان کو اسلحے سے زیادہ معاشی استحکام کی ضرورت ہے اور حالیہ سفارتی کردار کو اسی مقصد کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پاک سعودی دفاعی معاہدہ حوثی باغی سابق سفیر عمران علی سعودی عرب پاکستان کی ریڈ لائن سعودی عرب کی خواہش