Jasarat News:
2026-06-03@02:50:58 GMT

چچا کارل مارکس اور ماموں آئی اے رحمن

اشاعت کی تاریخ: 9th, December 2025 GMT

چچا کارل مارکس اور ماموں آئی اے رحمن

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

آئی اے رحمن صاحب سے پوچھا جانا چاہیے کہ کیا یہی بھارت میں ’’آزادی کی تحریک‘‘ کو ’’نئی زندگی‘‘ فراہم کرنے کا عمل ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ سوویت یونین اس کے انقلاب یا سوشلسٹوں کا بھارت یا پاکستان کی آزادی کی تحریک سے کوئی تعلق ہی نہیں تھا۔ سوشلسٹ ابتدا میں پاکستان کے قیام کے خلاف تھے مگر تحریک پاکستان کے آخری مراحل میں ’’ماسکو‘‘ کے ’’اشارے‘‘ پر وہ تحریک میں شامل ہوگئے۔ لیکن ان کی وفاداریاں اسلام کیا پاکستان اور اس کے ورثے کے ساتھ بھی نہیں تھیں۔ ان کی ہمدردیاں یا تو ’’ماسکو‘‘ کے ساتھ تھیں یا ’’پیکنگ‘‘ کے ساتھ یا سوشلزم کے ساتھ۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کے حکمران طبقے اور عوام نے کبھی سوشلسٹوں پر اعتبار نہیں کیا۔ سوویت یونین کے خاتمے اور کمیونزم کی تحلیل کے بعد اکثر سوشلسٹوں نے ’’امریکی کیمپ‘‘ میں شمولیت اختیار کرلی۔ چناں چہ اب پاکستان میں انہیں یا تو ’’امریکی لابی‘‘ کا آدمی سمجھا جاتا ہے یا ’’بھارتی لابی‘‘ کا۔ بدقسمتی سے اس الزام میں کافی صداقت نظر آتی ہے۔
آئی اے رحمن نے دعویٰ کیا ہے کہ سوویت یونین نے تقریباً 100 نوآبادیات کو آزادی حاصل کرنے میں مدد دی مگر انہوں نے مثال ایک بھی نہیں دی۔ بلاشبہ سوویت یونین کا انقلاب سوویت یونین تک محدود نہ رہا بلکہ تقریباً آدھی دنیا اس کے زیر اثر آگئی لیکن اس کی وجہ آزادی کی تحریکوں کی حمایت نہیں تھی بلکہ اس کی وجہ یہ تھی کہ سوویت یونین نے عسکری طاقت کے زور پر اپنے انقلاب کو دوسرے ملکوں میں ’’برآمد‘‘ کیا۔ خود سوویت یونین نے مختلف ملکوں میں مداخلت کی اور یورپی طاقتوں کی جگہ ایک نئی نو آبادیاتی یا امپیریل طاقت بن کر اُبھرا۔ سوویت یونین کی یہی توسیع پسندی بالآخر اسے افغانستان لائی اور افغانستان پر قبضہ سوویت یونین کے لیے بھیانک خواب بن کر اُبھرا۔ یہاں تک کہ سوویت یونین کے صدر گوربا چوف نے افغانستان کو سوویت یونین کے لیے رِستا ہوا زخم قرار دیا۔ اب اگر دوسرے ملکوں پر قبضہ، دوسرے ملکوں میں سازشوں اور طاقت کے ذریعے حکومتوں کی تبدیلی آزادی کی تحریکوں کو نئی زندگی فراہم کرنے کا عمل ہے تو بلاشبہ سوویت یونین نے وسطی ایشیا سے مشرقی یورپ تک اور مشرقی یورپ سے لاطینی امریکا تک آزادی کی تحریکوں کو تقویت فراہم کی ہے۔
آئی اے رحمن نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ سوویت انقلاب نے ’’انسانی حقوق‘‘ کو ناقابل تقسیم (وحدت) بنادیا۔ انسانی حقوق اور سوویت یونین؟ انسانی حقوق اور سوشلسٹ انقلاب؟ خدا کی پناہ۔ یہ تو سفید جھوٹ سے بھی آگے کی چیز ہے۔ کسی بھی مذہب کو اختیار کرنا انسان کا بنیادی حق ہے مگر سوویت انقلاب نے روس ہی میں نہیں وسطی ایشیا کی تمام مسلم ریاستوں میں اسلام کو فنا کرنے میں کوئی کسر نہ چھوڑی۔ قرآن کی تعلیم ممنوع قرار دے دی گئی۔ مساجد بند کردی گئیں یا انہیں کسی اور مصرف کے لیے بروئے کار لایا جانے لگا۔ یہاں تک کہ مسلمانوں کو نام تک بدلنے پر مجبور کردیا گیا۔ اظہار کی آزادی انسان کا بنیادی حق ہے مگر سوویت یونین یا کسی بھی سوشلسٹ ریاست میں اس کا کوئی وجود نہ تھا۔ کوئی سوشلزم، سوویت رہنماؤں، پولٹ بیورو یا کمیونسٹ پارٹی کے خلاف ایک لفظ نہیں کہہ سکتا تھا۔ کوئی یہ جرأت کرتا تو مار دیا جاتا تھا یا سائبیریا بھیج دیا جاتا تھا۔ گورکی ایک سوشلسٹ ادیب تھا مگر اے لینن سے ’’اختلاف‘‘ تھا۔ چناں چہ لینن نے ایک بار کہا کہ مجھے معلوم نہیں کہ جب انقلاب آئے گا اور انسانیت اپنا جشن منائے گی تو گورکی کو کن لفظوں میں یاد کیا جائے گا۔ گورکی نے کہا کہ اگر انقلاب لانے والے انسان ہوں گے تو وہ میرا ذکر احترام سے کریں گے اور اگر وہ انسان ہی نہیں ہوں گے تو مجھے اس کی کوئی فکر نہیں کہ وہ میرا ذکر کن الفاظ میں کریں گے۔ ٹراٹسکی سوشلسٹ انقلاب کا فکری رہنما تھا اور اس کا مقام لینن سے کم نہ تھا مگر ٹراٹسکی بہت جلد سوویت یونین سے فرار ہونے پر مجبور ہوگیا۔ مگر سوویت یونین کا ’’انقلاب‘‘ اتنا ’’انسانی‘‘ اور اتنا ’’انسانی حقوق‘‘ کا پاسدار تھا کہ اس نے ٹراٹسکی کا تعاقب کیا اور اسے ’’دیارِ غیر‘‘ میں قتل کردیا۔ غور کیا جائے تو اس منظر نامے میں کئی کئی ہزار کلو میٹر تک ’’انسانی حقوق‘‘ نام کی کوئی چیز موجود نظر نہیں آتی تو پھر آئی اے رحمن نے انسانی حقوق کے تصور کو سوویت یونین کے انقلاب سے کیوں وابستہ کیا؟ آئی اے رحمن نے یہ بھی کہا ہے کہ سوویت یونین کا انقلاب لوگوں کے سیاسی اور ثقافتی حقوق کو بھی تسلیم کرنا تھا۔ حضور والا یہ آپ کس دنیا کی باتیں کررہے ہیں۔ مثلاً سیاسی جماعتوں کا قیام ایک بنیادی سیاسی حق ہے مگر سوویت یونین ہی نہیں پوری سوشلسٹ دنیا میں کمیونسٹ پارٹی کے سوا کسی سیاسی جماعت کا وجود نہ تھا۔ اسی لیے کمیونسٹ سیاسی نظام کو one party rule کہا جاتا تھا۔ چین میں آج بھی یہی صورتِ حال ہے۔ مسلم دنیا میں ثقافت کی جڑیں مذہب میں پیوست ہیں۔ سوال یہ ہے کہ جب سوویت یونین کے انقلاب میں وسطی ایشیا کی مسلم ریاستوں میں ثقافت کی جڑ ہی کاٹ دی تھی تو پھر کہاں کی ثقافت اور کہاں کے ثقافتی حقوق؟۔ سوویت یونین کا انقلاب اتنا ہولناک تھا کہ وہ جہاں گیا اس نے تخلیق کے سوتے خشک کردیے۔ اس کی سب سے بڑی مثال خود سوویت یونین ہے۔ جس روس نے سوشلسٹ انقلاب سے پہلے دوستو وسکی اور ٹالسٹائے جیسے ناول نگار اور چیخوف جیسے افسانہ نگار پیدا کیے وہ سوشلسٹ انقلاب کے بعد دوستو وسکی، ٹالسٹائے اور چیخوف کا سایہ بھی پیدا نہ کرسکا۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ سوشلسٹ انقلاب روس کی تہذیبی، تاریخی اور تخلیقی روح کو کھا گیا۔ ایسا انقلاب کسی کے ثقافتی حقوق کا بھلا کیا تحفظ کرتا؟ مزے کی بات یہ ہے کہ ویسے تو سوویت یونین اور اس کا انقلاب ’’نظریے‘‘ کی بات کرتا تھا مگر پاکستان سمیت کئی مسلم ملکوں میں سوویت یونین اور اس کے مقامی ایجنٹوں نے ’’قوم پرستی‘‘ کو ہوا دی تا کہ معاشرے میں مذہب اور مذہبی قوتیں کمزور پڑ جائیں اور بالآخر بے معنی ہوجائیں۔ تو عزیزانِ گرامی قدر یہ ہے سیکولر اور سوشلسٹ دانش وروں کے Icon کا قصہ۔

شاہنواز فاروقی دانیال عدنان.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: آزادی کی تحریک سوویت یونین نے سوویت یونین کے سوویت یونین کا آئی اے رحمن نے سوشلسٹ انقلاب کا انقلاب ملکوں میں مگر سوویت کے ساتھ اور اس

پڑھیں:

جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں

دنیا ایک ایسے دوراہے پر کھڑی ہے جہاں ترقی اور بقا کے درمیان فاصلہ تیزی سے کم ہوتا جا رہا ہے۔ ہم نے صدیوں تک یہ سمجھا کہ فطرت ہمارے لیے ایک لامحدود خزانہ ہے جس سے ہم جتنا چاہیں لے سکتے ہیں مگر اب زمین ہمیں بتا رہی ہے کہ ہر نعمت کی ایک قیمت ہوتی ہے۔ بڑھتی ہوئی گرمی، بے موسم کی بارشیں، خشک سالی، سیلاب اور آلودگی محض موسمی واقعات نہیں رہے بلکہ ایک بڑے ماحولیاتی بحران کی نشانیاں بن چکے ہیں۔

 آج جب یورپ میں گرمی کی نئی لہر ریکارڈ توڑ رہی ہے۔ پرتگال اپنے مئی کے مہینے کا سب سے زیادہ درجہ حرارت دیکھ رہا ہے۔ اسپین، فرانس اور اٹلی میں خطرے کے الارم بج رہے ہیں،یہ انسانی تہذیب کے لیے ایک تنبیہ ہے۔ جنگلات میں آگ لگنے کے خطرات بڑھ رہے ہیں اور دنیا بھر کے ماہرین ماحولیات مسلسل خبردار کر رہے ہیں تو یہ صرف موسم کی تبدیلی کی خبر نہیں بلکہ انسانی طرز زندگی پر ایک سنجیدہ سوالیہ نشان ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہم اب بھی ان انتباہات کو معمول کی خبروں کی طرح نظرانداز کرتے رہیں گے یا اپنے مستقبل کے بارے میں سنجیدگی سے سوچنا شروع کریں گے؟

 ہم اکثر سمجھتے ہیں کہ موسمیاتی تبدیلی کا مسئلہ کہیں دور قطب شمالی کے پگھلتے ہوئے گلیشیئرز یا بحرالکاہل کے ڈوبتے ہوئے جزیروں کا مسئلہ ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ مسئلہ اب ہمارے گھروں، ہماری گلیوں اور ہمارے شہروں تک آ پہنچا ہے۔ پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جو موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں حالانکہ دنیا میں کاربن کے اخراج میں ہمارا حصہ نہ ہونے کے برابر ہے۔

کراچی اس کی ایک زندہ مثال ہے۔ اس شہر میں گرمی صرف ایک موسم نہیں ،ایک آزمائش ہے۔ مئی اور جون کی دوپہر میں جب سورج آگ برساتا ہے تو سڑکوں پر چلنے والا عام آدمی کسی پناہ گاہ کی تلاش میں ہوتا ہے، لیکن اسے سایہ کہاں ملے؟ ہمارے شہر کی بڑی شاہراہوں پر درخت کم ہوتے جا رہے ہیں۔

نئی سڑکیں بنتی ہیں، فلائی اوور بنتے ہیں، کنکریٹ کے جنگل پھیلتے جاتے ہیں مگر درختوں کی تعداد گھٹتی جاتی ہے۔ میں اکثر سوچتی ہوں کہ ایک مزدور جو صبح سے شام تک دھوپ میں محنت کرتا ہے، ایک خاتون جو بس اسٹاپ پر کھڑی ہے،ایک طالب علم جو پیدل گھر جا رہا ہے، ایک ٹریفک پولیس اہلکار جو گھنٹوں دھوپ میں کھڑا رہتا ہے ان کے لیے شہر نے کیا انتظام کیا ہے؟ ان کے لیے سایہ کہاں ہے؟ کون سا درخت لگایا گیا ہے۔

 یورپ میں جب درجہ حرارت بڑھتا ہے تو حکومتیں عوام کو خبردار کرتی ہیں۔ شہریوں کے لیے حفاظتی ہدایات جاری کی جاتی ہیں۔ ہمارے ہاں گرمی کا سامنا زیادہ تر فرد کی اپنی ذمے داری سمجھ لیا جاتا ہے، گویا سورج سے بچنا بھی ایک ذاتی مسئلہ ہے اجتماعی نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ درخت صرف خوبصورت منظر کے لیے نہیں ہوتے۔ وہ زندگی ہوتے ہیں ،وہ فضا کو صاف کرتے ہیں ،زمین کو ٹھنڈا رکھتے ہیں ،پرندوں کو گھر دیتے ہیں اور انسانوں کو سانس لینے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔ ایک درخت کاٹنا صرف ایک درخت کاٹنا نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کے حصے کی ٹھنڈک چھین لینا ہے۔

 موسمیاتی تبدیلی کا مسئلہ صرف درجہ حرارت کا مسئلہ بھی نہیں، یہ انصاف کا مسئلہ ہے دنیا کے امیر ممالک نے دو صدیوں تک صنعت کاری کے نام پر فضا میں کاربن بھرا اور آج اس کی قیمت وہ ممالک ادا کر رہے ہیں جو پہلے ہی غربت بے روزگاری اور بنیادی سہولیات کی کمی کا شکار ہیں۔ اس تمام صورتحال میں سب سے زیادہ پریشان کن چیز شاید ہماری بے حسی ہے۔ ہم ہر سال گرمی کے نئے ریکارڈ بنتے دیکھتے ہیں سیلاب آتے دیکھتے ہیں خشک سالی بڑھتی دیکھتے ہیں مگر پھر بھی اسے ایک عارضی خبر سمجھ کر بھول جاتے ہیں۔

زمین کی تاریخ ہمیں ایک عجیب سبق دیتی ہے۔ سائنس دان بتاتے ہیں کہ اربوں سال پہلے جب زمین کے ماحول میں آکسیجن کی مقدار اچانک بڑھی تھی تو اس وقت موجود بے شمار جاندار اس تبدیلی کو برداشت نہ کر سکے۔ اس واقعے کو بعض اوقات عظیم آکسیجنی تباہی کہا جاتا ہے اور اسے زمین کی اولین عظیم حیاتیاتی تبدیلیوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ زندگی ختم نہیں ہوئی تھی لیکن زندگی کی بہت سی اشکال ختم ہو گئی تھیں۔ کچھ نئی انواع نے جنم لیا اور ارتقا کا سفر آگے بڑھتا رہا۔یہ بات ہمیں یاد رکھنی چاہیے کہ فطرت انسان کے بغیر بھی زندہ رہ سکتی ہے لیکن انسان فطرت کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا۔

آج ہم خود اپنے ہاتھوں سے فضا میں کاربن بھر رہے ہیں۔ کارخانوں کا دھواں، بے ہنگم شہری پھیلاؤ، جنگلات کی کٹائی، فضائی آلودگی اور لامحدود منافع کی دوڑ ہمیں ایک ایسے راستے پر لے جا رہی ہے جہاں ایک نئی ماحولیاتی تباہی کا خطرہ موجود ہے۔ شاید زمین باقی رہے گی، سمندر باقی رہیں گے، پہاڑ باقی رہیں گے اور شاید زندگی کی کوئی نئی شکل بھی باقی رہے، لیکن یہ ضروری نہیں کہ اس دنیا میں انسان اسی طرح موجود رہیں جیسے آج ہیں۔ ارتقا کا عمل رکتا نہیں زندگی کسی نہ کسی صورت اپنا راستہ نکال لیتی ہے۔ سوال صرف یہ ہے کہ کیا ہم اپنی جگہ برقرار رکھ سکیں گے؟

 یہ بات کسی خوف پھیلانے کے لیے نہیں کہی جا رہی بلکہ اس لیے کہ ہم حقیقت کو سمجھ سکیں۔ جو زہر ہم ماحول میں بو رہے ہیں وہ آخرکار ہماری اپنی سانسوں میں شامل ہو رہا ہے۔ جو درخت ہم کاٹ رہے ہیں ان کی کمی ہمارے اپنے جسموں پر گرمی کی صورت میں ظاہر ہو رہی ہے۔ جو دریا ہم آلودہ کر رہے ہیں وہی آلودگی ہماری اپنی زندگیوں میں واپس آ رہی ہے۔اس لیے شاید وقت آ گیا ہے کہ ہم ترقی کے معنی پر دوبارہ غور کریں۔ کیا ترقی صرف اونچی عمارتوں کا نام ہے؟ کیا ترقی صرف نئی شاہراہوں اور بڑے منصوبوں کا نام ہے؟ یا پھر ترقی کا مطلب یہ بھی ہے کہ ایک شہر میں چلنے والا انسان سایہ پا سکے صاف ہوا میں سانس لے سکے اور آنے والی نسلوں کے لیے ایک قابلِ رہائش دنیا چھوڑ سکے؟

دنیا کی یہ بدلتی حالت شاید ہمیں ایک آخری موقع دے رہی ہے۔ ایک موقع کہ ہم اپنے رویوں پر نظرثانی کریں اپنی ترجیحات بدلیں اور زمین کے ساتھ اپنے رشتے کو دوبارہ سمجھیں، کیونکہ فطرت انتقام نہیں لیتی وہ صرف اپنا توازن بحال کرتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ جب وہ توازن بحال ہوگا تو کیا ہم اس کا حصہ ہوں گے یا تاریخ کی کسی معدوم نسل کی طرح صرف ایک یاد بن کر رہ جائیں گے۔

متعلقہ مضامین

  • امام خمینی، فکر، قیادت اور انقلاب کا استعارہ
  • جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں
  • لاہور بلدیاتی الیکشن، 159 یوسیز کا اضافہ، مجموعی تعداد 433 ہوگئی
  • لاہور میں بلدیاتی الیکشن کیلئے حلقہ بندیوں کی ابتدائی فہرست کا اجرا
  • لاہور میں بلدیاتی الیکشن کیلئے حلقہ بندیوں کی ابتدائی فہرست جاری کر دی گئی
  • صدر زرداری کی اٹلی کے صدر ور عوام کو یومِ جمہوریہ پر مبارکباد
  • ایران، امریکا مذاکرات: یورپی یونین بھی پاکستان کے کردار کی معترف لیکن مسئلے کا حل تاحال تاخیر کا شکار کیوں؟
  • خطے میں تنازعات کے پُرامن حل کیلئے کوششیں جاری رکھیں گے: اسحاق ڈار
  • نمائندہ یورپی یونین کایا کالاس وفد کے ہمراہ پاکستان پہنچ گئیں
  • یورپی یونین کی اعلیٰ نمائندہ برائے امور خارجہ آج اسلام آباد پہنچیں گی