خیرپور،صوبائی کابینہ کو منظوری،مختلف سرکاری محکموں کو مراسلے جاری
اشاعت کی تاریخ: 10th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251210-11-9
خیرپور (جسارت نیوز ) سندھ حکومت کی صوبائی کابینہ کی منظوری کے بعد، سروسز جنرل ایڈمنسٹریشن اینڈ کوآرڈینیشن ڈپارٹمنٹ (SGA&CD) کی ہدایات کے مطابق ڈپٹی کمشنر خیرپور الطاف احمد چاچڑ نے ضلع کے 24 مختلف سرکاری محکموں کے اعلیٰ افسران کو مراسلہ جاری کرتے ہوئے ہدایت کی ہے کہ وہ اپنے محکموں میں گریڈ 1 سے گریڈ 4 تک کی خالی آسامیوں پر 2213 امیدواروں کو جوائننگ جاری کریں۔اسی سلسلے میں ڈپٹی کمشنر الطاف احمد چاچڑ کی جانب سے جاری خط میں جن محکموں کو ہدایات دی گئی ہیں، ان میں ڈپٹی کمشنر آفس خیرپور،ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر،ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسرز (ایلمنٹری، سیکنڈری اور ہائر سیکنڈری) ،ڈسٹرکٹ پاپولیشن ویلفیئر آفیسر،میڈیکل سپرنٹنڈنٹ، خیرپور میڈیکل کالج، ایڈیشنل ڈائریکٹر، سوشل ویلفیئر ڈیپارٹمنٹ، ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر (پرائمری)، ڈپٹی ڈائریکٹر، لائیو اسٹاک اینڈ اینیمل ہسبنڈری، ایڈیشنل ڈائریکٹر، ایگریکلچر ایکسٹینشن، پروجیکٹ ڈائریکٹر، ڈائریکٹوریٹ آفس، ڈسٹرکٹ فوڈ کنٹرولر، ایگزیکٹو انجینئر، ایری گیشن ویسٹ ڈویژن، ایگزیکٹو انجینئر ، پروونشل ہائی وے ڈویژن، ایگزیکٹو انجینئر، پبلک ہیلتھ ڈویژن II (رانی پور،ایگزیکٹو انجینئر، ٹیوب ویل ڈویژن،ایگزیکٹو انجینئر، ٹیوب ویل رانی پور ڈویژن، ایگزیکٹو انجینئر، بلڈنگز ڈویژن خیرپور، ایگزیکٹو انجینئر، پبلک ہیلتھ ڈویژن I خیرپور، ایگزیکٹو انجینئر، ہائی ویز ڈویژن خیرپور،ایگزیکٹو انجینئر، رانی پور ڈرینیج ڈویژن، ایگزیکٹو انجینئر، ڈرینیج ڈویژن خیرپور، ایگزیکٹو انجینئر، ورکشاپ ڈویژن اسکارپ خیرپور، ایگزیکٹو انجینئر، ایری گیشن ایسٹ ڈویژن خیرپور،لیبر آفیسر (فیکٹریز) ، لیبر ڈپارٹمنٹ، تمام محکموں کو ہدایت کی گئی ہے کہ منتخب امیدواروں کو فوری طور پر جوائننگ آرڈرز جاری کئے جائیں اور حکومتی فیصلے پر مکمل عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ایگزیکٹو انجینئر ڈویژن خیرپور ا فیسر
پڑھیں:
کراچی میں 2 سال قبل شروع ہونیوالی مفت شٹل سروس کمرشل بنیاد پر چلائی جارہی ہے
کراچی سے دوسرے شہروں میں جانے کے لیے شہر میں جگہ جگہ قائم بس اڈے دو سال پہلے ختم کرکے شہر سے باہر منتقل کر دیے گئے تھے، شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔
حکومت نے مسافروں کی سہولت کے لیے مفت شٹل سروس شروع کی تھی تاکہ مختلف مقامات سے مسافروں کو کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے، مگر یہ شٹل سروس اب ٹرمینل تک محدود نہیں رہی بلکہ روٹ پرمٹ کے بغیر کمرشل بنیادوں پر کراچی سے حیدرآباد تک بھی چلائی جا رہی ہے۔
محکمہ ٹرانسپورٹ سندھ نے اگست 2024 میں آپریشن کرتے ہوئے شہر کے مختلف انٹر سٹی بس اڈے ختم کیے اور بڑی کوچز کے شہر میں داخلے پر پابندی عائد کی تھی۔
مسافروں کی سہولت کے لیے وزیر ٹرانسپورٹ شرجیل انعام میمن نے مفت شٹل سروس شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا تھا کہ تقریباً 50 شٹل گاڑیاں چلائی جا رہی ہیں تاکہ مسافروں کو مختلف مقامات سے کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے۔ لیکن شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔
ادھر ٹرانسپورٹرز اپنی سواریاں مختلف ذرائع سے کراچی بس ٹرمینل تک پہنچا رہے ہیں، جس کے اضافی اخراجات بھی انہیں خود برداشت کرنا پڑ رہے ہیں۔
محکمہ ٹرانسپورٹ کا بتانا ہے کہ اس روٹ کے لیے شٹل سروس کے پاس کوئی روٹ پرمٹ موجود نہیں۔
جیو نیوز نے اس حوالے سے کراچی بس ٹرمینل انتظامیہ سے مؤقف لینے کی کوشش کی، مگر ان کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا۔