بدین کے عوام کے مسائل سننے کیلیے آیا ہوں،ناصر حسین شاہ
اشاعت کی تاریخ: 10th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251210-11-10
بدین (نمائندہ جسارت) صوبائی وزیر بلدیات ہاؤسنگ و ٹاؤن پلاننگ سید ناصر حسین شاہ بدین پہنچ کر ضلع کونسل ہال میں کھلی کچہری کے دوران عوامی مسائل سنے۔ اس موقع پر چیئرمین ضلع کونسل و صدر پیپلز پارٹی ضلع بدین جام علی اصغر ہالیپوتہ، ترجمان سندھ حکومت عبدالواحد ہالیپوتہ، ڈپٹی کمشنر بدین یاسر بھٹی، ایس ایس پی بدین قمر رضا جسکانی، اسپیشل اسسٹنٹ منصور شاہانی، جنرل سیکرٹری ڈاکٹر سجاد علی چانڈیو، ایم پی اے حاجی تاج محمد ملاح، ایم پی اے میر اللہ بخش ٹالپر، ایم پی اے ارباب امان اللہ، ایم پی اے بی بی یاسمین شاہ، وائس چیئرمین فدا حسین مندھرو، سابق ایم پی اے محمد نواز چانڈیو، انفارمیشن سیکرٹری پیر وقار شاہ، پیر صالح محمد قریشی، رضوان قائم خانی، ڈپٹی سیکرٹری انفارمیشن حاجی میر ملاح، سیڈا چیئرمین قبول محمد کھٹیان سمیت مختلف محکموں کے افسران اور سیاسی رہنما موجود تھے۔ کھلی کچہری سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی وزیر سید ناصر حسین شاہ نے کہا کہ بلاول بھٹو زرداری کی ہدایت پر بدین کے عوام کے مسائل سننے کیلیے آیا ہوں۔ چیئرمین کے احکامات پر وزیراعلیٰ سندھ نے صوبائی کابینہ کے تمام وزرا کو صوبے کے تمام اضلاع میں کھلی کچہریاں منعقد کرنے کی ہدایات دی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چیئرمین پیپلز پارٹی کی ہدایت پر ہر یونین کونسل میں کم از کم 50 لاکھ روپے تک کے ترقیاتی کام کرائے جائیں گے۔ بلاول بھٹو کے وژن کے تحت سندھ میں ترقی، تعلیم، صحت اور امن و امان کے لیے کوششی جاری ہیں۔ بدین کے ایم این ایز، ایم پی ایز، پارٹی عہدیداران اور ورکر جب بھی چیئرمین پیپلز پارٹی سے ملتے ہیں تو وہ اپنے ضلع بدین کے عوام کے مسائل اور فلاح و بہبود کی بات کرتے ہیں۔ کھلی کچہری میں شہریوں نے پولیس، تعلیم، صحت، ریونیو، پبلک ہیلتھ، سوئی گیس، آبپاشی، ایجوکیشن ورکس، ہائی وے، ماحولیات، زراعت، ڈرینیج، نادرا، سندھ بینک اور آر ٹی اے سمیت مختلف محکموں سے متعلق شکایات پیش کیں۔ صوبائی وزیر نے شہریوں کو یقین دلایا کہ ہر جائز مسئلے کا حل ضرور کیا جائیگا۔ تمام شکایات نوٹ کرلی گئی ہیں۔ یہ کھلی کچہری صرف رسمی کارروائی نہیں بلکہ اس کا باقاعدہ فالو اپ بھی کیا جائے گا اور بہت جلد دوبارہ کھلی کچہری منعقد کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ فصلوں کی قیمت سے متعلق پارٹی کا واضح مؤقف ہے کہ ہاری کو اس کی محنت کا زیادہ سے زیادہ معاوضہ ملے۔ آئی ایم ایف سے مذاکرات کی وجہ سے فی الحال اجناس کی قیمتوں میں اضافہ نہیں ہوسکتا انہوں نے کہا کہ کھلی کچہری میں زیادہ تر مسائل اجتماعی نوعیت کے تھے۔ منشیات کے خاتمے کے لیے سندھ حکومت مؤثر اقدامات کر رہی ہے، جس علاقے سے بھی منشیات کی شکایات بڑھیں گی وہاں کے ایس ایچ او کو فوری معطل کیا جائے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کھلی کچہری ایم پی اے نے کہا کہ بدین کے
پڑھیں:
پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن میں قائممقام وائس چانسلر کی تعیناتی کیلیے سینیٹ کا اجلاس طلب
پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن میں قائمقام وائس چانسلر کی تعیناتی کیلیے سینیٹ کا اہم اجلاس31 جولائی کو طلب کر لیا گیا جس میں صدر پاکستان و چانسلر کی ہدایات پر قائمقام وی سی کی تعیناتی سے متعلق ایجنڈے پر دوبارہ غور کیا جائے گا۔
تفصیلات کے مطابق صدر پاکستان نے 24اپریل کو ریفرنس وزارت تعلیم کو بھجوایا ہے جس میں بطور چانسلر پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن ایکٹ کی شق8(6)کے تحت سینٹ کے 17ویں اجلاس کے ایجنڈا نمبر13پر دوبارہ غور کرنے کی ہدایات جاری کی ہیں۔
دستیاب دستاویز کے مطابق 5 جنوری2026 کو ہونے والے سینیٹ کے17ویں اجلاس میں سابق وائس چانسلر پروفیسر حناطیبہ خلیل کو بطور وائس چانسلر کام جاری رکھنے کی منظوری دی گئی حالانکہ پروفیسر حنا طیبہ خلیل دو ٹرم مکمل کر چکی تھیں۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے تعلیم نے بھی پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن کے سینٹ اجلاس (جس میں حناطیبہ خلیل کو قائمقام وائس چانسلر ذمہ داریاں جاری رکھنے کی منظوری دی) کو کالعدم قرار دینے کی سفارش کر رکھی۔
قائمہ کمیٹی کی چیئرپرسن بشری انجم بٹ نے اجلاس کے دوان کہا تھا کہ عبوری وائس چانسلر کی تعیناتی سے متعلق ایوان صدر نے واضح کیا تھا کہ ایجنڈے کی منظوری نہیں لی گئی تھی۔
ذرائع نے بتایا کہ بشری انجم بٹ نے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن کی وائس چانسلر کی تعیناتی سے متعلق ریفرنس ایوان صدر کو بھجوایا جس میں کہا گیا کہ انسٹی ٹیوٹ کے فیکلٹی ممبران ،افسران اور سٹیک ہولڈرز کی جانب سے الزامات لگائے کہ پروفیسر حناطیبہ خلیل وائس چانسلر بد انتظامی اور اختیارات کے غلط استعمال کی پریکٹس میں ملوث ہیں۔
انسٹی ٹیوٹ کی پروکیورمنٹ اور مالی معاملات میں بے ضابطگیوں سمیت انسٹی ٹیوٹ میں گورننس کے بدترین صورتحال ہے، اس کے علاوہ گرلز ہاسٹل کی تعمیر سے متعلق 450 ملین کے ٹینڈرز میں مبینہ بے ضابطگیاں بھی ہوئی ہیں۔
ایوان صدر نے سینیٹر بشری انجم بٹ کی جانب سے بھجوائے گئے ریفرنس پر اپنی سفارشات وزارت تعلیم کو بھجوا دی ہیں،
وزارت تعلیم کے ذرائع نے سینیٹ اجلاس کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایوان صدر کی ہدایات کی روشنی میں سینئر فیکلٹی ممبر کو ہی قائمقام وائس چانسلر پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن تعینات کیا جائے گا اور اس حوالے سے سنیارٹی لسٹ منگوا لی گئی ہے،