data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

251210-11-5
میرپورخاص(نمائندہ جسارت) ٹاؤن کمیٹی حسین بخش مری کے ملازمین کی تنخواہوں کی عدم فراہمی کے خلاف سراپا احتجاج، دفاتر کی تالا بندی ۔تفصیلات کے مطابق ملازم رہنما موہن لال کے مطابق 2023ء میں ٹاؤن کمیٹی حسین بخش مری کو ختم کر کے 246 سرکاری ملازمین کو میونسپل کارپوریشن میرپورخاص کی آفس رپورٹ کرنے کا حکم جاری کیا گیا تھا جس کے بعد میونسپل کارپوریشن نے جولائی 2025ء کو ٹاؤن میر شیر محمد تالپور کی آفس رپورٹ کرنے کا حکم دیا گیا لیکن اس دوران ٹاؤن میر شیر محمد تالپور کی جانب سے ہمیں تنخواہیں فراہم کی گئی جس کے نتیجے میں ہم ملازمین کے گھروں میں فاقہ کشی جیسی صورتحال ہے اور آج ہم مجبور ہو کر ٹاؤن میر شیر محمد تالپور کے آفس میں تالا بندی کرتے ہوئے تنخواہوں کی فراہمی کا مطالبہ کر رہے ہیں اور مطالبات کی منظوری تک احتجاج جاری رہے گا ۔دوسری جانب ٹاؤن میونسپل کمشنر ممتاز چنا کا کہنا ہے کہ ملازمین کی تنخواہوں کے لیے ٹاؤن میر شیر محمد تالپور نے 2024ء میں ہی لوکل گورنمنٹ ڈپارٹمنٹ کو ملازمین کی تنخواہوں کے حوالے سے فائل جمع کرائی تھی لیکن فائل پر اعتراض لگا کر ہمیں فائل واپس کی گئی جس کے بعد فائل پر اعتراض ختم کر کے ہم نے دوبارہ فائل سیکرٹری لوکل گورنمنٹ کو بھیج دی ہے اور امید ہے کے 15 سے 20 دنوں کے اندر مذکورہ ملازمین کی تنخواہوں کے مسائل مستقبل بنیادو پر حل کیا جائے گے۔ اس موقع پر ٹاؤن میر شیر محمد تالپور کے عوامی چیئرمین ولی محمد ناریجو اور وائس چیئرمین نیاز محمد چاکی کا کہنا ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی میرپورخاص ڈویژن کے سینئر رہنما MNA پیر آفتاب حسین شاہ جیلانی نے صوبائی وزیر سمیت سیکرٹری لوکل گورنمنٹ سے ملازمین کی تنخواہوں کے مسائل کو جلد حل کرنے پر زور دیا ہے اور ہم اپنے ملازمین کے جائز مسائل کو حل کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں ان شاء اللہ جلد ملازمین کے تنخواہوں کا مسئلہ حل کر دیا جائے گا جبکہ ایپکا شہید ثاقی کے متحرک رہنما مظہر علی عباسی اور سندھ یونائیٹڈ پارٹی ضلع میرپورخاص کے صدر لالا اظہر پٹھان نے ملازمین کے احتجاجی دھرنے میں شرکت کر کے اپنے تعاون کی یقین دہانی بھی کرائی۔

سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: ملازمین کی تنخواہوں کے ملازمین کے

پڑھیں:

ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت

اسلام آباد:

 قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کے چیئرمین جاوید حنیف خان کا کہنا ہے کہ ملک میں زیادہ تر ٹیکسز آئی ایم ایف کی شرائط کے تحت عائد کیے جاتے ہیں اور سب کو معلوم ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ کپیسٹی چارجز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔

ایکسپریس کے مطابق قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کا اجلاس چیئرمین جاوید حنیف خان کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں گزشتہ بیس برس کے دوران ملکی برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ نہ ہونے کی وجوہات پر تفصیلی غور کیا گیا۔

جاوید حنیف خان نے کہا کہ سب کو معلوم ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ کپیسٹی چارجز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ملک میں زیادہ تر ٹیکسز بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی شرائط کے تحت عائد کیے جاتے ہیں۔

اجلاس میں رکن کمیٹی عالیہ کامران نے کہا کہ پاکستان کی صرف ایک فارماسیوٹیکل کمپنی کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم کیا گیا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ آلو جلد خراب ہو جاتے ہیں انہیں برآمد کرنے کے لیے کیا اقدامات کیے جا رہے ہیں؟ عالیہ کامران نے مزید کہا کہ ملک میں حلال فوڈ اتھارٹی تو موجود ہے لیکن تاحال اس کے قواعد و ضوابط مرتب نہیں کیے گئے جبکہ ایسا سازگار ماحول بھی پیدا نہیں ہو رہا کہ بیرونی سرمایہ کار پاکستان آ کر سرمایہ کاری کریں۔

قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں لائف انشورنس نیشنلائزیشن ترمیمی بل 2026ء بھی زیر بحث آیا۔ اس موقع پر سیکریٹری تجارت جواد پال نے بتایا کہ کمپنی کا نام اسٹیٹ لائف انشورنس لمیٹڈ رکھا جائے گا۔ کمیٹی کے رکن مرزا اختیار بیگ نے استفسار کیا کہ آیا یہ کمپنی پبلک پرائیویٹ لمیٹڈ ہوگی یا سرکاری ادارہ ہوگا اس پر حکام نے وضاحت کی کہ اگر حکومت کے پاس 51 فیصد شیئرز ہوں گے تو کمپنی پبلک شمار ہوگی، بصورت دیگر اسے پرائیویٹ تصور کیا جائے گا۔

سیکریٹری تجارت جواد پال نے مزید بتایا کہ کمپنی وزارت کے ماتحت ہی رہے گی تاہم اس کا بورڈ آزاد ہوگا اس پر کمیٹی کے ایک رکن نے رائے دی کہ اگر بورڈ کو آزاد بنانا مقصود ہے تو اسے آزادانہ طور پر کام کرنے کی بھی اجازت ہونی چاہیے۔

چیئرمین جاوید حنیف خان نے کہا کہ یہ کمپنی بہرحال ایس او ایز ایکٹ کے تحت قائم کی جائے گی۔

سیکریٹری تجارت نے واضح کیا کہ کسی پبلک لمیٹڈ کمپنی کے غیر محدود شیئرز نہیں ہو سکتے۔

اجلاس کے دوران صوبائی قوانین اور اثاثوں کی منتقلی کے معاملات پر بھی گفتگو ہوئی چیئرمین جاوید حنیف خان نے کہا کہ پراپرٹی یا اثاثوں کی منتقلی پر صوبائی قوانین نافذ ہوتے ہیں لہٰذا یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس بل کے ذریعے صوبائی قانون کو کیسے بائی پاس کیا جا سکتا ہے؟ انہوں نے خبردار کیا کہ اسٹیمپ ڈیوٹی یا متعلقہ فیسوں کے حوالے سے صوبے کسی بھی وقت سوال اٹھا سکتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ صوبوں میں انشورنس کے تقریباً دو ٹریلین روپے کے اثاثے موجود ہیں اس لیے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اتنے بڑے اثاثوں پر اسٹیمپ ڈیوٹی کی مالیت کتنی ہوگی؟چیئرمین کمیٹی نے اس بات پر زور دیا کہ کوئی بھی ایسا قانون نہیں بنایا جا سکتا جو صوبوں کے مفادات کو متاثر کرتا ہو۔

متعلقہ مضامین

  • کفایت شعاری اقدامات، حکومت نے مارکیٹوں اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں توسیع کردی گئی
  • کفایت شعاری اقدامات میں بڑا ریلیف ؛ مارکیٹوں کے اوقات کار میں توسیع
  • عید تعطیلات کے بعد کاروباری اوقات کار پھر تبدیل کردئیے گئے
  • ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت
  • نواز شریف گلگت بلتستان روانہ، انتخابی مہم میں حصہ لیں گے
  • امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا
  • اے پی ایس شہدا کے لواحقین کو معاوضہ پیکج کی عدم ادائیگی، سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا
  • قدرت کا حیرت انگیز شاہکار، ہولونگ درخت کے ’ہیلی کاپٹر پھلوں‘ کی حسین اڑان