سندھ حکومت ریٹائرڈ ملازمین کے مسائل حل کرے ،پروفیسرمراد
اشاعت کی تاریخ: 10th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
حیدرآباد(اسٹاف رپورٹر ) سندھ پنشنرز گرینڈ الائنس کے چیف آرگنائزر پروفیسر محمد مراد چھوڈو آرگنائزر محمد قاسم پٹھان سید امان اللہ شاہ مشوانی سید علی رضا شاہ میر مدد علی تالپور اور دیگر نے حیدرآباد پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے متنبہ کیاہے کہ اگر سندھ حکومت نے ریٹائرڈ ملازمین کو گروپ انشورنس اور بینول فنڈز کا اجرا نہ کیا گیا تو بلاول ہاؤس اور وزیر اعلیٰ ہاؤس کے سامنے احتجاج کیا جائیگا انہوںکہا کہ 1971ء سے سندھ حکومت کے ملازمین کی تنخواہوں سے گروپ انشورنس کٹوتی کے باوجود ریٹائرڈ سرکاری ملازمین کو گروپ انشورنس سے محروم رکھا جا رہا ہے۔ اس لیے ہمارا مطالبہ ہے کہ بلوچستان کی طرح سندھ کے سرکاری ملازمین کو 1971ء سے گروپ انشورنس کی ادائیگی کی جائے۔ انہوں نے کہاکہ وزیر اعظم شہباز شریف نے 2022 ء پنشنرز کے 10 فیصد کا اضافہ کے اعلان پر ملک تین صوبوں نے تو عمل کیا مگر سندھ حکومت نے اس اعلان کو نظر انداز کردیا ایسا محسوس ہوتاہے کہ سندھ پاکستان سے باہر ہے ایک ہی ملک میں دو قانون ریٹائرڈ ملازمین کے ساتھ ظلم ہے انہوں نے کہاکہ سندھ ہاء کورٹ کراچی میں سال 2022 ء میں گڑوپ انشورنس کے حوالے سے دائر کردہ پٹیشن پر اج تک شنواء نہیں کی گء ہمیشہ تاریخ دی جاتی ہے انہوں نے کہاکہ16 دسمبر کو سندھ کابینہ کمیٹی کے اجلاس میں پنشنرز کے مطالبات کو شامل کرکے ان کی منظوری دی جائے۔ ان کا کہنا تھاکہ سندھ حکومت کا ریٹائرڈ ملازمین کے ساتھ رویہ افسوسناک ہے پنشن میں اضافہ کے بجائے کٹوتی کی گئی ہے۔ انہوں نے کہاکہ ریٹائرڈ ملازمین سال 2018ء سے اپنے مطالبات کے حق میں سڑکوں پر ہیں مگر حکومت اس جانب کوئی توجہ نہیں دے رہی۔ انہوں نے حکومت سے ریٹائرڈ ملازمین کی گروپ انشورنس بینول فنڈز اور صحت کارڈ کے فوری اجرا کا مطالبہ کیا۔ قبل ازیں سندھ پنشنرز گرینڈ الائنس نے اپنے مطالبات کے حق میں پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ریٹائرڈ ملازمین گروپ انشورنس سندھ حکومت انہوں نے
پڑھیں:
ٹک ٹاکر حکیم بابر کیس میں ملزمان کا موقف بھی سامنے آگیا
سیالکوٹ(نیوز ڈیسک) ٹک ٹاکر حکیم بابر سے متعلق مبینہ زہر خوری کیس میں نامزد ملزم صفدر کے بھائی ملک سلیم کھوکھر کا ویڈیو بیان منظر عام پر آگیا جس میں انہوں نے تمام الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔
ویڈیو بیان میں ملک سلیم کھوکھر نے دعویٰ کیا کہ محمد افضل عرف حکیم بابر نے سوشل میڈیا پر ویوز حاصل کرنے کیلئے خود کو زہر خورانی کا شکار ظاہر کرنے کا ڈرامہ رچایا، اسپتال کی رپورٹ میں بھی یہ بات سامنے آئی ہے کہ حکیم بابر کو کسی قسم کا زہر نہیں دیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ حکیم بابر نشے کے عادی ہیں اور کسی مبینہ اوور ڈوز کے واقعے کو ان کے خاندان پر ڈالنے کی کوشش کی جا رہی ہے، ان کے خاندان کا حکیم بابر کے ساتھ کسی قسم کا کوئی ذاتی تنازع یا دشمنی موجود نہیں۔
ملک سلیم کھوکھر انکشاف کیا کہ حکیم بابر کا اصل نام افضل ہے اور وہ کوئی مستند حکیم نہیں بلکہ تعلیمی طور پر بھی میٹرک پاس نہیں ہیں، جھوٹے مقدمے کی وجہ سے میرا خاندان شدید ذہنی دباؤ اور پریشانی کا شکار ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ رات کے وقت پولیس کی جانب سے دو بار گھر پر چھاپے مارے گئے، کو ہراساں مت کیا جائے۔
انہوں نے ڈی پی او سیالکوٹ اور آئی جی پنجاب سے اپیل کی کہ کیس کی شفاف اور میرٹ پر انکوائری کی جائے اور حقائق کی روشنی میں فیصلہ کیا جائے۔
مزید پڑھیں۔مشرق وسطیٰ کی صورتحال، خام تیل کی قیمتوں میں 2 فیصد اضافہ