اڈیالہ جیل کے قریب علیمہ خان کا دھرنا جاری، پولیس نے ممکنہ آپریشن کیلیے تیاریاں مکمل کر لیں
اشاعت کی تاریخ: 9th, December 2025 GMT
اڈیالہ جیل کے قریب علیمہ خان کا دھرنا جاری ہے جبکہ پولیس نے کارروائی کے ممکنہ آپریشن کے لیے تیاریاں مکمل کر لی ہیں۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق صورتحال کشیدہ ہونے کے پیشِ نظر فیکٹری ناکے پر اضافی پولیس نفری طلب کرلی گئی ہے اور خواتین اہلکاروں کو بھی دھرنے کے مقام پر پہنچنے کی ہدایت جاری کر دی گئی ہے۔
دھرنے کے مقام پر اڈیالہ روڈ کی لائٹس بند کر دی گئی ہیں جبکہ کسی بھی ممکنہ آپریشن کے پیش نظر پریزن وینز اور پانی چھڑکنے والی گاڑیاں بھی طلب کرلی گئی ہیں۔ پولیس حکام صورت حال پر نظر رکھے ہوئے ہیں اور دھرنے کے شرکا کو منتشر کرنے کے حوالے سے مختلف آپشنز پر غور کیا جارہا ہے۔
ادھر علیمہ خان اپنے مؤقف پر ڈٹی ہوئی ہیں اور دھرنے کے شرکا کی تعداد میں بھی اضافہ دیکھا جارہا ہے۔ انتظامیہ نے کہا ہے کہ امن و امان کی صورتحال برقرار رکھنے کے لیے ضروری اقدامات کیے جائیں گے۔
واضح رہے کہ پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر اور عمران خان کی بہنوں کو آج ملاقات کی اجازت نہ ملی جس پر انہوں نے جیل کے قریب فیکٹری ناکے پر دھرنا دیدیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: دھرنے کے
پڑھیں:
شہید آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کی تیاریاں، 3 روزہ تقریبات کا اعلان
ایرانی میڈیا میں شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی تدفین سے متعلق دعؤوں کے حوالے سے نئی تفصیلات سامنے آئی ہیں، جبکہ ایرانی حکام کی جانب سے مبینہ طور پر تدفین کے انتظامات کے حوالے سے تیاریوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایرانی خبررساں ایجنسی کے مطابق تہران کے نائب میئر برائے سماجی و ثقافتی امور محمد امین توکلی زادہ نے کہا ہے کہ تدفین سے قبل 3 روزہ عوامی تقریبات کا انعقاد کیا جائے گا، جن کے دوران عوام کو عظیم شہید راہنما کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کا موقع دیا جائے گا۔ محمد امین توکلی زادہ کے مطابق عوامی تقریبات کے اختتام پر نمازِ جنازہ ادا کی جائے گی، جس کے بعد جلوس کا آغاز ہوگا، تہران میں یہ جلوس کم از کم 24 گھنٹے تک جاری رہ سکتا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ بعد ازاں تقریبات ایران کے اہم مذہبی مراکز قم اور مشہد میں بھی جاری رہیں گی، شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی خواہشات کے مطابق تدفین مشہد میں روضۂ امام رضاؑ کے قریب کیے جانے کا امکان ہے۔
ایرانی حکام کے مطابق یہ تقریب ملک کی جدید تاریخ کے بڑے عوامی اجتماعات میں شمار ہو سکتی ہے، تہران میں انتظامات اس انداز سے کیے جا رہے ہیں کہ ایک کروڑ 50 لاکھ سے 2 کروڑ افراد تک ان تقریبات میں شرکت کر سکیں۔ ان کے مطابق انتظامات کی مجموعی نگرانی پاسدارانِ انقلاب کریں گے جبکہ بلدیاتی حکام اور دیگر ریاستی ادارے لاجسٹک اور عوامی سہولیات کی فراہمی میں معاونت کریں گے۔ تاہم ان دعؤوں اور تفصیلات کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔