Juraat:
2026-06-03@07:50:00 GMT

خیالات کو قید نہیں کیا جا سکتا

اشاعت کی تاریخ: 4th, December 2025 GMT

خیالات کو قید نہیں کیا جا سکتا

اونچ نیچ
آفتا ب احمد خانزادہ

ژاں پال سارتر کا ایک فلسفیانہ ناول ہے، جو 1938 میں شائع ہوا(La Nausee اصل عنوان ) "Nausea” تھا۔ یہ
سارتر کے پہلے ناول کی نشاندہی کرتا ہے اور یہ وجودیت کا ایک بنیادی متن ہے۔ کہانی بوویل نامی ایک افسانوی قصبے میں ترتیب
دی گئی ہے، جو اس سے ملتی جلتی ہے۔ فرانسیسی بندرگاہی شہر لی ہاورے۔ یہ بیانیہ ایک فرانسیسی مصنف انٹوئن روکینٹن کی پیروی کرتا
ہے جو ایک گہرے وجودی بحران کا تجربہ کرتا ہے۔ جیسے جیسے وہ اجنبیت اور مضحکہ خیزی کے جذبات سے دوچار ہوتا ہے، روکینٹن
خود وجود کی نوعیت سے خوفزدہ ہو جاتا ہے۔ وہ متلی کے اپنے احساسات کو بیان کرتا ہے، جو زندگی کی بے معنی اور من مانی نوعیت کے
بارے میں اس کے شعور کی علامت ہے۔ یہ احساس اپنے آس پاس کی دنیا کے ساتھ اس کے مقابلوں سے پیدا ہوتا ہے، جس سے
وہ حقیقت کے جوہر اور اس کے اندر اس کی جگہ پر سوال اٹھاتا ہے۔
سارتر نے Roquentinکے تجربات کو آزادی، ذمہ داری،اور بظاہر لاتعلق کائنات میں معنی کی تلاش جیسے موضوعات کو
تلاش کرنے کے لیے استعمال کیا ہے۔ ناول میں اس خیال کو شامل کیا گیا ہے کہ افراد کو اپنی اقدار اور زندگی کا مقصد خود بنانا چاہیے، کیونکہ روایتی ڈھانچے اور عقائد تسلی بخش جوابات فراہم کرنے میں ناکام رہتے ہیں۔سو لہویں اور ستر ہویں صدی میں یورپ کے ہر ملک میں فلسفیوں اور سائنس دانوں پر الحاد اور بغا وت کے الزام لگا کر انہیں زندہ جلاد یا جاتا تھا اور کبھی انہیں جیل کے
تنگ و تاریک کمروں میں سسک سسک کر مرنے کے لیے چھوڑ دیا جاتا لیکن علم و حکمت کی ان قندیلوں کو جہالت کے دامن سے
بجھانے کی کو شش ناکام رہی ،برونو کوروم میں زندہ جلادیاگیا لیکن اس کے خیال کو جلانے کے لیے ساری دنیا کا ایندھن ناکافی تھا۔ اگر علم و دانش کے یہ علم بردار کلیسا کی تلواروں سے ڈر جاتے تو آج انسان کس حالت میں ہوتا ۔یورپ کا احتسا ب عالموں کو زندہ
جلانے میں کامیاب ہوگیا لیکن احتساب انسانی غور و فکر کو زنجیروں میں نہ جکڑ سکا یورپ کے اس عہد کی اگر تعزیری تاریخ پر غور کیا جائے تو وہ بھیانک اور لرزہ خیز سزائوں کا ایک مسلسل عہد دکھائی دے گا۔ اس عہد میں انسانی ذہن کو قید کر نے کی کو شش میں انسانی
جسم کو زندہ جلایاگیا جسم جل گیا لیکن ذہن زندہ رہا جرم وسزا کے اس دور کے بعد خیالات باقی رہے کیونکہ خیال نہیں مٹا یاجاسکتا ۔
خیالات کو قید نہیں کیاجاسکتا خیال آزاد ہے فوج کے حملوں کی روک تھام کی جاسکتی ہے لیکن خیالات کے حملوں کو نوک سنگین سے
نہیں رو کا جاسکتا۔ وحشت اور بربریت سے تہذیب و تمد ن تک کا یہ سارا سفر راتوں رات طے نہیں ہواانسان کو یہ سفر طے کر نے
میں صدیا ں لگیں قربانیوں اور جدوجہد کی بہت طویل داستان ہے اس سارے سفر نے ایک بات ثابت کر دی کہ انسان عظیم ہے
اور عوام سپر یم ہیں دنیاکی تاریخ میں خدا کے بعد کر شمے عوام نے ہی کرکے دکھائے ہیں یہ عوام ہی ہیں جنہوں نے آمروں ، بادشاہوں کے تاج و تخت اچھا ل کر پھینک دئیے جنہوں نے اپنے خالی ہاتھوں سے بڑے بڑے ٹینک الٹ کر رکھ دئیے بڑے بڑے ظالم ، جابر بادشاہ اور آمران ہی عوام کے ڈر و خوف کی وجہ سے ملک چھوڑ کر فرار ہوگئے ۔
دنیا بھر کے عوام نے خو شحالی اور ترقی کی منزلیں ، جمہوریت اور ووٹ کی طاقت کے ذریعے طے کی ہیں پاکستان کا قیام ایک عوامی جدو جہد کا نتیجہ ہے نہ کہ عسکر ی جدو جہدکااوریہ جمہوریت ہی ہے جس کا وعد ہ ان کے آبائو اجداد سے کیا گیا تھا ان سے کہا گیا تھا کہ وہ ایک جمہوری ملک میں رہیں گے جمہوری ملک وہ ہوتا ہے جہاں عوام سپریم ہوتے ہیں جہاں ہر شہر ی بلاکسی جبر اپنے ووٹ کا آزادانہ استعمال کرسکے جہاں آزادانہ اور منصفا نہ انتخابات ہوتے ہیں جس کے نتیجے میں پارلیمنٹ کا قیام عمل میں آتا ہے جو با اختیار ہوتی ہے پارلیمنٹ کو لامحدود اختیارات حاصل ہوتے ہیں وہ عدلیہ کے اختیارات میں کمی سمیت ہر طرح کی قانون سازی کی مجاز ہے پارلیمنٹ کی منظورکر دہ ترمیم کسی عدالت میں چیلنج نہیں کی جاسکتی پارلیمنٹ آئین میں جو چاہے ترمیم کرسکتی ہے، قائداعظم نے نئی دہلی میں رائٹر کے نمائندے ڈون کیمپل کو انٹرویو دیتے ہوئے 1946 میں کہا تھا” نئی ریاست ایک جدید جمہوری ریاست ہوگی جہاں حاکمیت اعلیٰ عوام کے پاس ہو گی ”۔ 11 اگست 1947 کو پاکستان بننے سے 3 دن قبل پاکستان کی آئین سازاسمبلی کے صدر کی حیثیت سے کئے گئے اپنے تاریخی خطاب میں انہوں نے انسانوں پر مشتمل آئین ساز اسمبلی کو بار بار پاکستان کا مقتدر اعلیٰ کہہ کر مخا طب کیا۔ روسو کہتا ہے ”میں کیسا آدمی ہوں ، اس کا فیصلہ کو ئی شخص یا چند اشخاص نہیں کرسکتے ۔ بلکہ یہ فیصلہ کرنے کا حق فقط عوام ہی کو حاصل ہے اور میں اس کا فیصلہ کرنے کا حق عوام ہی پر چھوڑتا ہوں ”۔ تو جناب ملک کے اہم فیصلے کسی شخص یا چند اشخاص پر کیسے چھوڑ ے جاسکتے ہیں ۔شخص یا چند اشخاص غلط ہو سکتے ہیں لیکن عوام کبھی غلط فیصلے نہیں کر تے ۔ ملک عوام کے لیے ہوتے ہیں نہ کہ عوام ملک کے لیے عوام سے زیادہ سمجھ دار اور عقل مند کوئی بھی نہیں ہوسکتا ۔ ریاست ایک منفر د کلیت ہوتی ہے آپ اس میں جانبدار ی تلاش نہیں کرسکتے ، کیونکہ اس میں آئین سب سے افضل ہوتاہے اور یہ نہ صرف ذہنی قوتوں کی نمائند گی کرتا ہے بلکہ اس میں تمام اخلاقی اور علمی ہمہ گیریت کی صورت پذیری بھی ہوتی ہے ۔
آئین میں سب سے اہم بات تو عوام کی سیاسی صورت حال کی نمود ہے۔ ہیگل کہتا ہے ”ہرآئین اپنے دور کا غماز ہوتاہے اور وہ سیاسی اصولوں کی کلیت ہوتا ہے ہم پرانی تاریخ کے کسی عظیم آئین سے جدید آئین کے بارے میں کچھ نہیں سیکھ سکتے ۔ وہ کہتا ہے
” اب ریاست اور عوام کا تعلق کیا ہے ریاست ، اس کے قوانین ، اس کی انتظامیہ شہریوں کے حقوق اس کی طبعی خصو صیات اس کے پہا ڑ ، آ ب و ہوا ، ملک ، شہریوں کی جائیداد ، تاریخ ، ریاست ، اسلاف کے کار نا مے ، ان کی یاد، ان سب کا تعلق عوام سے ہے اور ان کی زندگی میں رواں دواں ہے یہ سب ان کا ہے جیسے وہ خود اس کے ہیں کیونکہ ان کی ہستی (Being) ہے یہ سب مل کر روح عصر بنتی ہے اور ہر شہر ی اس کا نما ئند ہ ہے اوراس سے اس نے جنم لیا ہے اور وہ اسی میں بستا ہے ” ۔ آخری اورقطعی آزادی جسے انسان سے چھینا نہیں جاسکتا ” نہ ” کہنے کی آزادی ہے اور یہ ہی سارتر کے نظریہ قدرت و اختیار کا سنگ بنیاد ہے۔ سارتر کہتا ہے کہ انسان کی آزادی یہ ہے کہ وہ ”نہ ” کہے ۔ ہر انسان اپنی اخلاقی قدریں خود تخلیق کرتا ہے اس لیے وہ اپنے اعمال میں مطلق العنا ن ہے اور جس راہ عمل کو چاہے بلا رو ک ٹوک انتخاب کر سکتا ہے۔ جے جی فریزر کردار پر بحث کرتے ہوئے لکھتاہے ” کسی قوم یا فرد میں استحکام کی سب سے بڑی علامت یہ ہے کہ وہ حال کو مستقبل پر قربان کر دے یہ خصوصیت جس فرد میں جتنی زیادہ ہوگی اتنا ہی اس کا کر دار مستحکم ہوگا جب ایک انسان اپنی زندگی کی آسائشیں بلکہ خود زندگی کو قربان کر دیتا ہے تاکہ مستقبل بعید میں آنے والی نسلوں کو آزادی اور صداقت کی بر کات میسر آسکیں ۔ یہ ہی انسان کی عظمت ہے ۔ سقرا ط، برو نو ، وکلف، شیخ الاشراق سہروردی نے اپنی جانیں کسی ذاتی فائدے کے حصو ل کے لیے قربان نہیں کی تھیں بلکہ اپنے عقائد و اصول کی پاسبانی کرتے ہوئے مو ت کو خندہ پیشانی سے دعوت دی تھی۔ سقراط کے دوستوں نے کہا ”ہم محا فظوں کو رشوت دے کر آپ کو بھگانے کی کو شش کررہے ہیں ”۔ سقراط نے بھا گنے سے انکار کر دیا اور کہا ”میں ایتھنز والوں کو بتانا چاہتا ہوں کہ انسان اپنے اصولوں کو اپنی جان سے زیاد ہ عزیز رکھ سکتاہے ۔ سقراط ، برونو،و کلف نے ” نہ ” کہا اور اپنی جان دے دی ۔اور صرف ”نہ” کہنے کی وجہ سے یہ سب صدیوں بعد آج بھی زند ہ ہیں ۔ لیکن ان کے قاتلوں کے نام سے آج کوئی بھی واقف نہیں ہے ۔ عوام طاقت کا اصل سر چشمہ ہوتے ہیں طاقت اور فیصلے کر نے کا محو ر شخصیات نہیں بلکہ عوام ہوتے ہیں پاکستان کے عوام اپنا معاشرہ بدلنے کی مسلسل کو ششیں کررہے ہیں کیونکہ وہ عقل اور شعور کے مالک ہیں۔ مثالی معا شر ہ قائم کرنے میں شاید کئی سال اور لگ جائیں لیکن عوام کو اپنی کامیابی پریقین ہے کیونکہ ان پر حقیقت آشکار ہو گئی ہے کہ صرف مثالی معا شرہ قائم کرنے سے ہی مثالی انسان کا ظہور ممکن ہے ۔
٭٭٭

.

ذریعہ

ذریعہ: Juraat

کلیدی لفظ: ہوتے ہیں ہوتا ہے کرتا ہے نہیں کی کہتا ہے کے لیے ہے اور

پڑھیں:

فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان

12 سال پہلے یہ منصوہہ 25 ارب روپے مکمل ہو جانا تھا، تاہم اب اس کی لاگت 200 ارب روپے سے زائد ہو چکی ہے اور آنے والے وقت تخمینی لاگت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔ اسلام ٹائمز۔ شہر قائد میں اضافی پانی کا منصوبہ ’کے فور‘ کی تکمیل میں مزید تین سال لگ سکتے ہے، جبکہ منصوبے کا اصل کام تو ابھی شروع ہی نہیں ہوا، جب وہ ہوگا تو شہر کی مرکزی سڑکیں متاثر ہوگی، حکام نے بتایا کہ 12 سال پہلے یہ منصوہہ 25 ارب روپے مکمل ہو جانا تھا، تاہم اب اس کی لاگت 200 ارب روپے سے زائد ہو چکی ہے اور آنے والے وقت تخمینی لاگت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔ تفصیلات کے مطابق کراچی میں پانی کی طلب 1 ارب 20 کروڑ گیلن ہے، جبکہ رسد 65 کروڑ گیلن ہے شہر کو مزید پانی فراہم کرنے کیلئے کے فور منصوبہ بنانے کا اعلان کیا تھا، لیکن حکومتین تبدیل ہوتی رہی لیکن یہ منصوبہ 20 سال سے زیر التواء ہے۔ 2014ء میں اس منصوبے کو وفاق اور سندھ حکومت نے مل کر بنانا تھا، جس کی لاگت 25 ارب روپے بتائی گئی تھی لیکن پھر کھٹائی میں پڑ گیا، تاہم پھر اس کو واپڈا کو دیا گیا اور اس کی مکمل ہونے کی ڈیڈ لائن بھی دی گئی لیکن اس میں مکمل نہیں ہو سکا۔ کئی ڈیڈ لائن گزر گئیں لیکن منصوبہ مکمل نہیں ہوسکا، تاہم اب وفاقی وزیر احسن اقبال نے دسمبر 2026ء کی ڈیڈ لائن دی ہے۔

کے فور منصوبہ 2026ء میں بھی مکمل نہیں ہو سکے گا، اس کی مکمل ہونے کا امکان 2029ء کی جنوری تک ہے۔ کے فور منصوبے پر وفاق کی جانب سے تین کام کئے جانے ہیں، جن میں ٹراسمیشن لائن، پمپنگ اسٹیشن اور فلٹر پلانٹ بنانے کے کام کی ذمہ داری ہے، جبکہ سندھ حکومت کے پاس چار کام کرنے تھے، اس میں اراضی مہیا کرنا، آگمینٹیشن، الیکٹرک سپلائی اور اری گیشن کی ذمہ داری تھی، جو کینچھر جیل سے پانی فراہم کرنے میں مدد کریگا۔ اس منصوبے کا ابھی بہت کام کرنا باقی ہے، آگمیٹیشن کا نیپا سے حسن اسکوائر کا نومبر 2025ء سے اب تک کام مکمل نہیں ہوسکا، بلکہ بین الاقومی مالیاتی ادارے نے اس کو غیر معیاری قرار دے دیا ہے اور ابھی تو بہت کام باقی ہے، جب یہ لائنیں شہر کی مرکزی راستوں میں ڈالی جائیں گی اس وقت شہریوں کو آمدورفت میں مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑیگا۔

متعلقہ مضامین

  • کشمیر کا وہ گاوٴں جس کے باسی فون چارج کرنے کے لیے 45 کلومیٹر دور جاتے ہیں
  • بجٹ میں سولر پینلز پر عائد ٹیکس میں کتنے فیصد اضافہ کیا جا سکتا ہے؟
  • امریکا ایران جنگ سے معاشی بحران پیدا ہوا ہے اور مہنگائی بھی بےتحاشہ بڑھ گئی ہے
  • فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان
  • ‏‏سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو
  • صدر زرداری کی اٹلی کے صدر ور عوام کو یومِ جمہوریہ پر مبارکباد
  • باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
  • قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے، یہ عمران خان کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر دیکھ بھی نہیں سکتے، علیمہ خان
  • نابالغ بچے کا نان نفقہ کسی معاہدے سے ختم نہیں کیا جا سکتا: لاہور ہائیکورٹ
  • سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود