کبھی سویا کبھی جاگا؛ ٹرمپ کو کابینہ اجلاس میں نیند پریشان کرتی رہی؛ دلچسپ ویڈیو وائرل
اشاعت کی تاریخ: 3rd, December 2025 GMT
79 سالہ ڈونلڈ ٹرمپ چاک و چوبند اور متحرک نظر آنے کے لیے لاکھ جتن کرتے رہتے ہیں تاکہ اپنے ناقدین کو غلط ثابت کرسکیں لیکن ہر بار یہ کوشش کامیاب نہیں ہوتی۔
مریکی نشریاتی ادارے سی این این کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ وائٹ ہاؤس میں کابینہ اجلاس کے دوران جہاں وہ دنیا کی متعدد جنگیں ختم کروانے کا دعویٰ کرتے رہے وہیں وہ خود نیند سے بھی جنگ کرتے نظر آئے۔
یہ کابینہ اجلاس دوپہر کو ہوا تھا اور تقریباً 2 گھنٹے 18 منٹ جاری رہا جس میں زیادہ تر وقت وزرا صدر ٹرمپ کی جنگیں رکوانے کی کوششوں کی تعریفیں کرتے رہے۔
تاہم صدر ٹرمپ پر نیند کا غلبہ رہا۔ وہ کبھی اونگھنے لگتے تو کبھی آنکھ بند کر کے مکمل طور پر سو جاتے اور کبھی اچانک اُٹھ جاتے۔
صدر ٹرمپ کی نیند کی جھپکیوں کے دوران کابینہ اجلاس تو ختم ہوگیا لیکن اپنے پیچھے کئی سوالات کھڑے کرگیا۔
بالخصوص یہ کہ صدر ٹرمپ متعدد بار اپنے حریف سابق صدر جوبائیڈن کو ’’ نیند ‘‘ کے معاملے پر طنز کرتے ہوئے اس عہدے کے لیے نااہل قرار دے چکے ہیں۔
اس ویڈیو کے وائرل ہونے کے بعد سے ایک بار پھر یہ بحث زور پکڑنے لگی ہے کہ امریکی صدر کے اہم ترین اور آزمائش سے بھرے عہدے کے لیے عمر کا تعین اور صحت کتنا اہم ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کابینہ اجلاس
پڑھیں:
ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ مذاکرات معطلی کی رپورٹس کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہمارے درمیان مذاکرات جاری ہیں۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹرتھ سوشل پر جاری بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ یہ جعلی خبریں کہ ایران اور امریکا کے درمیان چند روز قبل بات چیت بند ہوئی ہے، یہ سب غلط اور بے بنیاد خبریں ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے درمیان بات چیت مسلسل جاری ہے جو چار دن پہلے، تین دن پہلے، دو دن پہلے، ایک دن پہلے اور آج بھی جاری رہے ہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے مذاکرات کے حوالے سے کہا کہ یہ کہاں تک پہنچتے ہیں کوئی نہیں جانتا لیکن میں نے ایران کو کہا ہے کہ کسی نہ کسی صورت آپ معاہدہ کریں، آپ گزشتہ 47 سال سے یہی کر رہے ہیں اور اس کو کسی صورت مزید جاری رکھنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی ہے۔
https://truthsocial.com/@realDonaldTrump/posts/116681581361115247قبل ازیں امریکی سیکریٹری اسٹیٹ مارکو روبیو نے سینیٹ کی خارجہ کمیٹی کو بتایا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات میں چند ماہ کا عرصہ لگ سکتا ہے اور اس کے لیے ماہرین کی ٹیم درکار ہوگی جو معاملات طے کرے گی۔
انہوں نے کہا کہ ایران کے ساتھ معاہدے کے لیے بغیر ٹول کے آبنائے ہرمز بحال کرنے کی ضرورت ہے جبکہ امریکا نے آبنائے ہرمز کی بحالی کے لیے ایران کو پابندیوں میں نرمی کی پیش کش نہیں کی ہے۔