کم عمر بچے کی گاڑی چلاتے پرانی ویڈیو وائرل، ’کیا یہ وہی ابوذر ہے جس کی گاڑی سے 2 لڑکیاں جاں بحق ہوئیں؟‘
اشاعت کی تاریخ: 3rd, December 2025 GMT
اسلام آباد کے تھانہ سیکرٹریٹ کے علاقے میں پیش آنے والے حادثے میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس محمد آصف کے بیٹے ابوذر کی مبینہ اوور اسپِیڈ لینڈ کروزر کی ڈرائیونگ سے 2 نوجوان لڑکیاں جاں بحق ہو گئیں۔
پولیس کے مطابق ملزم نے ابتدائی تفتیش میں بتایا کہ حادثے سے چند لمحے قبل وہ سنیپ چیٹ پر ویڈیو بنا رہا تھا، تاہم حادثے کے بعد اس نے اپنا موبائل فون پھینک دیا۔ پولیس نے کہا ہے کہ موبائل فون کو تلاش کر کے مبینہ ویڈیو کو چیک کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد حادثہ، جج کے کم عمر بیٹے کی گاڑی کی ٹکر سے 2 جوان لڑکیاں جاں بحق
حادثے کی خبر کے وائرل ہونے کے بعد سوشل میڈیا پر جولائی 2018 کی ایک پرانی ویڈیو بھی گردش کر رہی ہے جس میں ایک کم عمر لڑکے کو گاڑی چلاتے اور ساتھ والی نشست پر ایک شخص موجود دیکھا جا سکتا ہے۔ صارفین اس بات پر سوال کر رہے ہیں کہ آیا ویڈیو میں نظر آنے والا بچہ وہی ابوذر ہے جو حالیہ حادثے میں ملوث ہے۔
وحید مراد نے ویڈیو شیئر کرتے ہوئے سوال کیا کہ کیا وہی ابوذر ریکی ہیں جنہوں نے V8 گاڑی سے اسلام آباد میں دو لڑکیوں کو کچل دیا؟ ان کا کہنا تھا کہ یہ ویڈیو جولائی 2018 کی ہے۔ اس وقت جسٹس محمد آصف ریکی کوئٹہ میں وکالت کر رہے تھے۔ انہیں رواں سال 20 جنوری کو بلوچستان ہائی کورٹ کا ایڈیشنل جج مقرر کیا گیا اور اگلے ماہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں ٹرانسفر کیا گیا۔
کیا وہی ابوذر ریکی ہیں جنہوں نے V8 گاڑی سے اسلام آباد میں دو لڑکیوں کو کچل دیا؟
یہ ویڈیو جولائی 2018 کی ہے جو انسٹاگرام پر موجود ہے۔ اُس وقت اس بچے کی عمر آٹھ برس تھی اور یہ کوئٹہ میں لینڈ کروزر چلا رہا ہے۔ ساتھ والی نشست پر کوئی شخص موجود ہے۔
جسٹس آصف ریکی اُس وقت کوئٹہ میں… pic.
— A.Waheed Murad (@awaheedmurad) December 2, 2025
امتیاز گل نے لکھا کہ اگر یہ ویڈیو حقیقی ہے تو یہ تشویشناک ہے۔
wonder if this is true https://t.co/ngeumIaWbn
— Imtiaz Gul (@ImtiazGul60) December 2, 2025
احمد بھٹی نے کہا کہ پنجاب کے قانون کے مطابق کم عمر ڈرائیور کے خلاف کارروائی نہیں ہوتی بلکہ اس کے والد کے خلاف قانونی کاروائی کی جاتی ہے۔
پنجاب میں قانون ہے کہ کم عمر ڈرائیور کیخلاف کارروائی بجائے اس کے خود ہو اس کے والد کیخلاف ہوتی ہے https://t.co/cuCVLN0ZEo
— Ahmed Bhatti (@Rayahmadbhatti) December 2, 2025
ایک صارف کا کہنا تھا کہ ویڈیو میں نظر آنے والا بچہ 10,12 سال کا ہے۔ اس کا مطلب اب وہ 18 سال سے بڑا ہے اور اس کی عمر کے حوالے سے جھوٹ بولا جا رہا ہے۔
ابچہ دس بارہ سال کا ہے۔ اسکا مطلب اب وہ اٹھارہ سے بڑا ہے اور جھوٹ بولا جا رہا ہے۔
— Ahmad Waqass Goraya Baloch ???????? (@AWGoraya) December 2, 2025
واضح رہے کہ اس وقت جسٹس محمد آصف ریکی کوئٹہ میں وکالت کر رہے تھے۔ انہیں رواں سال 20 جنوری کو بلوچستان ہائی کورٹ کا ایڈیشنل جج مقرر کیا گیا اور اگلے ماہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں ٹرانسفر کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: اسکوٹی پر سوار لڑکیوں کو کچلنے کا واقعہ، جج کے بیٹے کا جسمانی ریمانڈ منظور
سوشل میڈیا پر صارفین نے ویڈیو پر مختلف ردعمل کا اظہار کیا۔ امتیاز گل نے لکھا کہ اگر یہ ویڈیو حقیقی ہے تو یہ تشویشناک ہے، جبکہ احمد بھٹی نے کہا کہ پنجاب کے قانون کے مطابق کم عمر ڈرائیور کے خلاف کارروائی نہیں ہوتی بلکہ اس کے والد کے خلاف قانونی کاروائی کی جاتی ہے۔
پولیس حادثے کی مزید تحقیقات کر رہی ہے اور موبائل فون کی بازیابی اور ویڈیو کی تصدیق کے بعد مزید قانونی کارروائی متوقع ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسلام آباد ہائی کورٹ کوئٹہ میں وہی ابوذر یہ ویڈیو کیا گیا کے خلاف
پڑھیں:
واشنگٹن میں کیمیائی ٹینک دھماکہ: ہلاکتوں کی تعداد 11 ہوگئی، تمام لاپتا افراد کی لاشیں برآمد
امریکی ریاست واشنگٹن میں ایک کاغذ سازی کے کارخانے میں کیمیائی ٹینک پھٹنے کے واقعے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 11 ہو گئی ہے۔ حکام کے مطابق تمام لاپتا افراد کی لاشیں ملبے سے نکال لی گئی ہیں، جبکہ حادثے کی وجوہات اور ماحولیاتی اثرات کا جائزہ لینے کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔
امریکی ریاست واشنگٹن میں ایک صنعتی تنصیب پر کیمیائی ٹینک پھٹنے کے المناک حادثے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 11 تک پہنچ گئی ہے۔ حکام نے ہفتے کے روز تصدیق کی کہ لاپتا قرار دیے گئے تمام نو افراد کی لاشیں ملبے سے برآمد کر لی گئی ہیں۔
حکام کے مطابق ابتدائی طور پر حادثے کے فوراً بعد دو ہلاکتوں کی تصدیق ہوئی تھی، جبکہ دیگر افراد لاپتا ہو گئے تھے۔ امدادی اور بحالی کی ٹیموں نے پورے ہفتے متاثرہ مقام پر سرچ آپریشن جاری رکھا، جس کے دوران عمارت کے اندر ملبے کو ہٹانے کے ساتھ ساتھ ڈرونز کی مدد سے علاقے کا فضائی جائزہ بھی لیا گیا۔
کاؤلٹز 2 فائر اینڈ ریسکیو کے ڈپٹی چیف کرٹ اسٹیچ نے بتایا کہ امدادی کارکنوں نے انتہائی دشوار حالات میں ملبے کے نیچے پھنسے افراد کی تلاش جاری رکھی اور بالآخر تمام لاپتا افراد کی لاشیں برآمد کر لی گئیں۔
حادثہ منگل کے روز لانگ ویو شہر میں واقع نپون ڈائنو ویو پیکیجنگ (Nippon Dynawave Packaging) کے کارخانے میں پیش آیا، جہاں ’وائٹ لِکر‘ نامی کیمیائی محلول سے بھرا ایک بڑا ٹینک اندرونی دباؤ کے باعث پھٹ گیا تھا۔ یہ محلول سوڈیم ہائیڈرو آکسائیڈ اور سوڈیم سلفائیڈ پر مشتمل ہوتا ہے اور کاغذ کے گودے (Paper Pulp) کی تیاری میں استعمال کیا جاتا ہے۔
حکام کے مطابق متاثرہ ٹینک میں تقریباً 9 لاکھ گیلن (34 لاکھ لیٹر) کیمیائی محلول موجود تھا۔ بعد ازاں کیے گئے ٹیسٹوں سے یہ بات سامنے آئی کہ کچھ مقدار قریبی دریائے کولمبیا تک پہنچ گئی تھی، تاہم اب تک فضائی معیار یا لانگ ویو شہر کے پینے کے پانی پر کسی منفی اثرات کی نشاندہی نہیں ہوئی۔
نپون ڈائنو ویو پیکیجنگ جاپان کی دوسری بڑی کاغذ ساز کمپنی Nippon Paper Industries کی مکمل ملکیتی ذیلی کمپنی ہے۔ جاپانی کمپنی نے 2016 میں سیئٹل کی لکڑی اور جنگلاتی مصنوعات تیار کرنے والی کمپنی Weyerhaeuser سے لانگ ویو کا یہ پلانٹ 225 ملین ڈالر میں خریدا تھا۔
حکام نے کہا ہے کہ حادثے کی مکمل تحقیقات جاری ہیں اور اس بات کا تعین کیا جا رہا ہے کہ ٹینک کے اندر دھماکے یا انہدام کی اصل وجہ کیا تھی۔ ساتھ ہی ماحولیاتی ماہرین بھی قریبی علاقوں میں ممکنہ آلودگی کے اثرات کا مسلسل جائزہ لے رہے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں