لبرل نظام اب ٹوٹ بھوٹ کا شکار ہو چکا ہے، الکساندر اسٹب کا تجزیہ
اشاعت کی تاریخ: 3rd, December 2025 GMT
فن لینڈ کے صدر نے فارن افیئرز میں کہا کہ دنیا میں عالمی مغرب، عالمی مشرق اور عالمی جنوب کے درمیان ایک تین طرفہ مقابلہ جاری ہے، اس نے عالمی طاقت کے مراکز کو تین حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے، یعنی امریکا اور مغرب، دوسرا چین اور روس اور تیسرے ترقی پذیر ممالک ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ یورپی ملک فن لینڈ کے صدر الکساندر اسٹب نے خبردار کیا ہے کہ دنیا، اس وقت مغرب، مشرق اور عالمی جنوب کی باہمی رقابت کا دور دیکھ رہی ہے، اور اس صورتحال نے ترقی پذیر ممالک کو پہلے سے زیادہ طاقتور بنا دیا ہے۔ بین الاقوامی امور کے متعلق اسٹب نے امریکی جریدے فارن افیئرز میں خبردار کیا ہے کہ وہ لبرل نظم جو دوسری عالمی جنگ کے بعد قائم ہوا تھا، اب دم توڑ رہا ہے۔
واضح رہے کہ صدر اسٹب کے ملک کی روس کے ساتھ سرحد ملتی ہے اور جو بیک وقت نیٹو اور یورپی یونین کا رکن ہے۔ انہوں نے اپنے مضمون میں کہا ہے کہ اس وقت دنیا تین بڑے قطبوں کی رقابت کا سامنا کر رہی ہے، عالمی مغرب، عالمی مشرق اور عالمی جنوب۔ فن لینڈ کے صدر کے امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ بھی اچھے تعلقات ہیں۔ انہوں نے موجودہ بین الاقوامی حالات اور عالمی طاقتوں کی رقابت کے بارے میں بھی گفتگو کی۔
اسٹب نے لکھا ہے کہ ہم بے نظمی کی ایک نئی دنیا میں رہ رہے ہیں، وہ لبرل اور سرمایہ دارانہ قانون پر مبنی عالمی نظام جو دوسری جنگ عظیم کے بعد ابھرا تھا، اب ختم ہو رہا ہے، کثیرالجہتی تعاون کی جگہ کثیر قطبی مقابلہ لے رہا ہے، موقع پرستی پر مبنی سودے بین الاقوامی قوانین کے دفاع سے زیادہ اہم ہو گئے ہیں، وہ جو یوکرین جنگ میں سختی سے یوکرین کے حامی رہے ہیں، چند ماہ قبل یہ بھی کہہ چکے ہیں کہ فن لینڈ کو روس کے ساتھ سیاسی سطح پر دوبارہ تعلقات کی بحالی کے لیے "ذہنی طور پر تیار رہنا چاہیے۔
تاہم اسٹب کا کہنا تھا کہ ماسکو سے دوبارہ روابط کا انحصار یوکرین جنگ کے خاتمے اور مجموعی طور پر تعلقات کی بحالی سے متعلق مذاکرات کی پیشرفت پر ہوگا۔ فن لینڈ کے صدر نے فارن افیئرز میں کہا کہ دنیا میں عالمی مغرب، عالمی مشرق اور عالمی جنوب کے درمیان ایک تین طرفہ مقابلہ جاری ہے، اس نے عالمی طاقت کے مراکز کو تین حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے، یعنی امریکا اور مغرب، دوسرا چین اور روس اور تیسرے ترقی پذیر ممالک ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: مشرق اور عالمی جنوب فن لینڈ کے صدر
پڑھیں:
سونے کی قیمت میں نمایاں کمی
عالمی اور مقامی مارکیٹس میں سونے کی قیمت میں نمایاں کمی دیکھی گئی۔آل پاکستان صرافہ جیمز اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن کے مطابق فی تولہ سونا ایک ہزار 800 روپے سستا ہوگیا، جس کے بعد سونے کی نئی قیمت 4 لاکھ 35 ہزار 636 روپے ہوگئی، اسی طرح 10 گرام سونے کی قیمت میں ایک ہزار 543 روپے کی کمی ہوئی، جس کے بعد نئی قیمت 3 لاکھ 73 ہزار 487 روپے مقرر کی گئی ہے۔دوسری جانب عالمی مارکیٹ میں بھی سونے کی قیمت میں کمی کا رجحان دیکھا گیا، جہاں فی اونس سونا 18 ڈالر سستا ہونے کے بعد 4 ہزار 96 ڈالر پر آگیا۔