برطانوی چانسلر ریچل ریوز نے نیا مالیاتی سال کا بجٹ پیش کر دیا
اشاعت کی تاریخ: 27th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
لندن: برطانوی چانسلر ریچل ریوز نے نئے مالیاتی سال کا بجٹ پیش کرتے ہوئے متعدد اہم معاشی فیصلوں کا اعلان کیا ہے۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق بجٹ میں آمدنی کی کم از کم حد کو مزید تین برس، یعنی 2031 تک منجمد رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، جس کے اثرات لاکھوں ٹیکس دہندگان پر پڑیں گے۔
چانسلر نے بتایا کہ توانائی بلز میں کمی کے لیے گرین لیویز میں کٹوتی کی جائے گی، جس کے نتیجے میں آئندہ برس اپریل سے ہر گھرانے کو 150 پاؤنڈ تک ریلیف ملے گا۔
مجوزہ بجٹ کے مطابق 2 ملین پاؤنڈ سے زائد مالیت کے گھروں پر 2,500 پاؤنڈ سالانہ ٹیکس لاگو ہوگا۔ 5 ملین پاؤنڈ سے زائد کے مکانات پر 7,500 پاؤنڈ سالانہ ٹیکس عائد کیا جائے گا۔ الیکٹرک اور پلگ اِن ہائبرڈ گاڑیوں پر نیا ٹیکس نافذ کر دیا گیا ہے۔
بجٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ فیول ڈیوٹی کو اگست 2026 تک منجمد رکھا جائے گا، جس کے بعد اس میں مرحلہ وار اضافہ کیا جائے گا۔
چانسلر نے اعلان کیا کہ چائلڈ بینیفٹ کی 2 بچوں تک محدود کرنے کی شرط آئندہ برس اپریل سے ختم کر دی جائے گی۔
حکومت نے نوجوانوں کے لیے بھی اہم قدم اٹھاتے ہوئے کہا کہ 18 ماہ سے بے روزگار نوجوانوں کو معاوضے کے ساتھ کام کی جگہ فراہم کی جائے گی تاکہ ان کی روزگار تک رسائی آسان ہو سکے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء) حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا، ایف بی آر نے پہلے 11 ماہ میں 11 ہزار 257 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا ، مئی میں 994 ارب روپے وصول کیے ۔ تازہ ترین حکومتی اعداد و شمار کے مطابق ایف بی آر کی ٹیکس وصولیاں نظرثانی شدہ اہداف کے مطابق جاری ہیں۔ مشیر وزیر خزانہ خرم شہزاد کے مطابق 864 ارب روپے کے ٹیکس شارٹ فال کا تاثر ابتدائی 14 ہزار 130 ارب روپے کے ہدف کی بنیاد پر دیا جا رہا ہے جو گمراہ کن ہے۔معاشی حالات میں تبدیلی کے بعد آئی ایم ایف کی مشاورت سے ریونیو ہدف تقریباً 13 ہزار ارب روپے تک ایڈجسٹ کیا گیا۔ مشیر وزیر خزانہ نے کہا کہ مہنگائی،درآمدات اور عالمی صورتحال میں تبدیلی کے باعث اہداف پر نظرثانی معمول کا مالی عمل ہے، نظرثانی شدہ مالی فریم ورک کیتحت ایف بی آر کی کارکردگی مضبوط،11 ماہ کا تقریباً مکمل ہدف حاصل کیا گیا، ایف بی آر نے پہلے 11 ماہ میں 11 ہزار 257 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا جبکہ مئی میں 994 ارب روپے وصول کیے۔(جاری ہے)
مشیر وزیر خزانہ نے کہا کہ مئی میں ایف بی آر نے ماہانہ ہدف کا 97 فیصد جبکہ 11 ماہ کے ہدفکا 99.8 فیصد حاصل کیا، موجودہ کارکردگی ریونیو بحران یا بڑے ٹیکس شارٹ فال کے دعوؤں کی نفی کرتی ہے، جون 2026 کا 1 ہزار 727 ارب ریونیو ہدف 15 فیصد اضافے کے ساتھ نظرثانی شدہ مالی فریم ورک کے مطابق قابل حصول ہے، کاروباری طبقے اور سرمایہ کار غیر معمولی ٹیکس اقدامات سے متعلق قیاس آرائیوں پر توجہ نہ دیں، مالی معاملات پر تبصرہ پرانے اہداف کے بجائے موجودہ معاشی حقائق اور درست اعداد و شمار پر ہونا چاہیے۔