واٹس ایپ نے بلاک اکاؤنٹس کی بحالی کے لیے نیا طریقہ کار متعارف کرادیا
اشاعت کی تاریخ: 27th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
سان فرانسسکو: دنیا بھر میں مقبول ترین میسجنگ پلیٹ فارم واٹس ایپ نے ان صارفین کے لیے ایک اہم قدم اٹھانے کا فیصلہ کر لیا ہے جو گزشتہ چند برسوں کے دوران اپنے اکاؤنٹس بلاک ہونے کے باعث شدید پریشانی کا شکار رہے۔
کمپنی نے تسلیم کیا ہے کہ بلاک یا معطل کیے گئے نمبروں کے حوالے سے صارفین کی شکایات میں اضافہ ہوا ہے اور اب اس صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے ایک نیا نظام تیار کیا جا رہا ہے جس کے تحت متاثرہ افراد براہ راست انتظامیہ سے رابطہ کرکے فیصلے پر نظرثانی کی درخواست کر سکیں گے۔
یہ پیش رفت سب سے پہلے اُس وقت سامنے آئی جب ٹیکنالوجی کی معروف ویب سائٹ ڈبلیو اے بیٹا انفو نے انکشاف کیا کہ واٹس ایپ 2022 سے مختلف وجوہات کی بنیاد پر اکاؤنٹس بلاک کر رہا ہے، مگر اس حوالے سے صارفین کے پاس مؤثر اپیل کا کوئی راستہ موجود نہیں تھا۔
بہت سے افراد نے شکایت کی کہ ان کے نمبرز بغیر مناسب جواز کے بلاک کیے گئے اور وہ اپنا مؤقف کمپنی تک پہنچانے سے قاصر رہے۔ اب کمپنی ایک ایسا فیچر تیار کر رہی ہے جس سے صارفین کو براہ راست اپیل کا حق مل جائے گا۔
رپورٹ کے مطابق واٹس ایپ کی نئی سہولت کے ذریعے صارفین اپنی شکایت درج کر کے کمپنی کو بلاک نمبر کے فیصلے پر نظرثانی کی درخواست دے سکیں گے۔
درخواست جمع ہونے کے بعد واٹس ایپ کی ٹیم متعلقہ پالیسی، صارف کے رویے اور خلاف ورزی سے متعلق معلومات کا جائزہ لے گی۔ اگر ٹیم اس نتیجے پر پہنچتی ہے کہ صارف سے غلطی سرزد نہیں ہوئی یا بلاکنگ کا فیصلہ سخت تھا، تو اکاؤنٹ دوبارہ بحال کر دیا جائے گا اور اس طرح لاکھوں صارفین کے لیے اعتماد کی نئی راہ کھل جائے گی جو برسوں سے اس مسئلے کی شکایت کر رہے تھے۔
کمپنی نے واضح کیا ہے کہ واٹس ایپ کی طرف سے اکاؤنٹس کی معطلی عام طور پر متعدد بار ایک ہی پیغام بھیجنے، اسپام سرگرمی یا پرائیویسی پالیسی کی خلاف ورزی کے نتیجے میں ہوتی ہے۔
واٹس ایپ کا مؤقف ہے کہ پلیٹ فارم کی سیکورٹی برقرار رکھنے کے لیے بعض اکاؤنٹس پر پابندی لگانا ضروری ہوتا ہے، مگر ساتھ ہی کمپنی کا یہ بھی کہنا ہے کہ جن صارفین کو لگتا ہے کہ ان کا اکاؤنٹ غلط طور پر بلاک ہوا ہے، اب انہیں اپنی بات مؤثر انداز میں رکھنے کا پورا موقع دیا جائے گا۔
واٹس ایپ کی جانب سے تیار کیا جانے والا یہ اپیل سسٹم ابھی آزمائشی مراحل میں ہے۔ نئی سہولت کو بیٹا ٹیسٹنگ کے بعد دنیا بھر کے صارفین کے لیے دستیاب کر دیا جائے گا، جس کے بعد کسی بھی بلاک صارف کے لیے ایک بہتر، شفاف اور قابلِ بھروسا طریقہ کار موجود ہوگا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: واٹس ایپ کی صارفین کے جائے گا کے لیے
پڑھیں:
ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت
اسلام آباد:قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کے چیئرمین جاوید حنیف خان کا کہنا ہے کہ ملک میں زیادہ تر ٹیکسز آئی ایم ایف کی شرائط کے تحت عائد کیے جاتے ہیں اور سب کو معلوم ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ کپیسٹی چارجز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔
ایکسپریس کے مطابق قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کا اجلاس چیئرمین جاوید حنیف خان کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں گزشتہ بیس برس کے دوران ملکی برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ نہ ہونے کی وجوہات پر تفصیلی غور کیا گیا۔
جاوید حنیف خان نے کہا کہ سب کو معلوم ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ کپیسٹی چارجز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ملک میں زیادہ تر ٹیکسز بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی شرائط کے تحت عائد کیے جاتے ہیں۔
اجلاس میں رکن کمیٹی عالیہ کامران نے کہا کہ پاکستان کی صرف ایک فارماسیوٹیکل کمپنی کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم کیا گیا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ آلو جلد خراب ہو جاتے ہیں انہیں برآمد کرنے کے لیے کیا اقدامات کیے جا رہے ہیں؟ عالیہ کامران نے مزید کہا کہ ملک میں حلال فوڈ اتھارٹی تو موجود ہے لیکن تاحال اس کے قواعد و ضوابط مرتب نہیں کیے گئے جبکہ ایسا سازگار ماحول بھی پیدا نہیں ہو رہا کہ بیرونی سرمایہ کار پاکستان آ کر سرمایہ کاری کریں۔
قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں لائف انشورنس نیشنلائزیشن ترمیمی بل 2026ء بھی زیر بحث آیا۔ اس موقع پر سیکریٹری تجارت جواد پال نے بتایا کہ کمپنی کا نام اسٹیٹ لائف انشورنس لمیٹڈ رکھا جائے گا۔ کمیٹی کے رکن مرزا اختیار بیگ نے استفسار کیا کہ آیا یہ کمپنی پبلک پرائیویٹ لمیٹڈ ہوگی یا سرکاری ادارہ ہوگا اس پر حکام نے وضاحت کی کہ اگر حکومت کے پاس 51 فیصد شیئرز ہوں گے تو کمپنی پبلک شمار ہوگی، بصورت دیگر اسے پرائیویٹ تصور کیا جائے گا۔
سیکریٹری تجارت جواد پال نے مزید بتایا کہ کمپنی وزارت کے ماتحت ہی رہے گی تاہم اس کا بورڈ آزاد ہوگا اس پر کمیٹی کے ایک رکن نے رائے دی کہ اگر بورڈ کو آزاد بنانا مقصود ہے تو اسے آزادانہ طور پر کام کرنے کی بھی اجازت ہونی چاہیے۔
چیئرمین جاوید حنیف خان نے کہا کہ یہ کمپنی بہرحال ایس او ایز ایکٹ کے تحت قائم کی جائے گی۔
سیکریٹری تجارت نے واضح کیا کہ کسی پبلک لمیٹڈ کمپنی کے غیر محدود شیئرز نہیں ہو سکتے۔
اجلاس کے دوران صوبائی قوانین اور اثاثوں کی منتقلی کے معاملات پر بھی گفتگو ہوئی چیئرمین جاوید حنیف خان نے کہا کہ پراپرٹی یا اثاثوں کی منتقلی پر صوبائی قوانین نافذ ہوتے ہیں لہٰذا یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس بل کے ذریعے صوبائی قانون کو کیسے بائی پاس کیا جا سکتا ہے؟ انہوں نے خبردار کیا کہ اسٹیمپ ڈیوٹی یا متعلقہ فیسوں کے حوالے سے صوبے کسی بھی وقت سوال اٹھا سکتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ صوبوں میں انشورنس کے تقریباً دو ٹریلین روپے کے اثاثے موجود ہیں اس لیے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اتنے بڑے اثاثوں پر اسٹیمپ ڈیوٹی کی مالیت کتنی ہوگی؟چیئرمین کمیٹی نے اس بات پر زور دیا کہ کوئی بھی ایسا قانون نہیں بنایا جا سکتا جو صوبوں کے مفادات کو متاثر کرتا ہو۔