کراچی کو بدترین انتظامی بحران میں دھکیلنے کی ذمہ دار پیپلز پارٹی ہے، فوزیہ صدیقی
اشاعت کی تاریخ: 20th, November 2025 GMT
رہنما تحریک انصاف نے کہا کہ اسٹریٹ کرائم کے ہاتھوں کراچی کے شہریوں کی جان و مال غیر محفوظ ہوچکی ہے، روزانہ کی بنیاد پر ڈکیتی، رہزنی اور قتل کی وارداتیں معمول بن چکی ہیں، مگر پولیس اور انتظامیہ مسلسل ناکام اور مجرمانہ غفلت کی تصویر بنی ہوئی ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان تحریکِ انصاف کراچی کی ترجمان و سیکریٹری اطلاعات فوزیہ صدیقی نے کہا ہے کہ کراچی اس وقت شدید ترین شہری و انتظامی بحران کا شکار ہے اور اس بدحالی کی واحد ذمہ دار پیپلز پاٹی ہے جس کے پاس موجودہ صوبائی اور شہری حکومتیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اربوں روپے کے فنڈز کرپشن کی نذر ہوچکے ہیں جبکہ شہر بنیادی سہولیات سے محروم ہو کر تباہی کے دہانے پر کھڑا ہے۔ فوزیہ صدیقی نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے ایک مرتبہ پھر کراچی کے شہریوں کے بے وقوف بنانے کے لئے کراچی پیکیج کے نام پر ایک افسانہ سنایا ہے، میئر کراچی نے کراچی کے انفرا اسٹریچکر کی بحالی کے لئے کوئی خاطر خواہ انتظامات نہیں کئے ہیں سب فنڈز ہڑپ کرنے کی سازشیں ہیں۔ فوزیہ صدیقی نے کہا کہ پانی کا مسئلہ شہر کی سب سے بڑی ناکامی بن چکا ہے، عوام صاف پانی کے لیے روزانہ اذیت سہتے ہیں جبکہ ٹینکر مافیا حکومتی سرپرستی میں لوٹ مار میں مصروف ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسٹریٹ کرائم کے ہاتھوں کراچی کے شہریوں کی جان و مال غیر محفوظ ہوچکی ہے، روزانہ کی بنیاد پر ڈکیتی، رہزنی اور قتل کی وارداتیں معمول بن چکی ہیں، مگر پولیس اور انتظامیہ مسلسل ناکام اور مجرمانہ غفلت کی تصویر بنی ہوئی ہیں۔ فوزیہ صدیقی نے کہا کہ کراچی پاکستان کی معاشی شہ رگ ہے مگر جان بوجھ کر اسے پسماندہ، غیر محفوظ اور مسائل زدہ رکھا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ مجرمانہ غفلت نہیں بلکہ ایک منظم منصوبہ بندی کے تحت شہر کو محرومیوں کا شکار بنایا جا رہا ہے تاکہ سیاسی فائدہ حاصل کیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان تحریکِ انصاف کراچی عوام کی واحد حقیقی آواز ہے اور ہر فورم پر کراچی کے مسائل اٹھاتی رہے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ کراچی کے عوام تبدیلی چاہتے ہیں اور وہ صرف شفاف، اہل اور دیانت دار قیادت ہی کے ذریعے ممکن ہیاور پی ٹی آئی ہی وہ جماعت ہے جو کراچی کے مسائل کا عملی اور حقیقت پسندانہ حل رکھتی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: فوزیہ صدیقی نے کہا انہوں نے کہا کہ کراچی کے
پڑھیں:
وسیم اکرم، مصباح اور فخر عالم نے اپنی حج کی پوسٹس پر ہونے والی تنقید کا جواب دے دیا
پاکستانی کرکٹ کے لیجنڈ وسیم اکرم، سابق کپتان مصباح الحق، میزبان و اداکار فخر عالم، سابق کرکٹر سعید انور اور دیگر معروف شخصیات نے اس سال مشترکہ طور پر فریضۂ حج ادا کیا۔ تاہم دورانِ حج سوشل میڈیا پر ان کی بعض ویڈیوز اور تصاویر وائرل ہونے کے بعد انہیں تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑا۔
وسیم اکرم کی رمی الجمرات کے دوران شیئر کی گئی ایک ویڈیو، جس میں انہوں نے اپنے مخصوص سوئنگ اسٹائل میں شیطان کو کنکریاں مارنے کا انداز اپنایا، خاصی وائرل ہوئی۔ بعد ازاں ایک اور ویڈیو میں وہ مصباح الحق کے لیے کیلے اٹھائے ہوئے دکھائی دیے، جس پر بھی صارفین نے مختلف تبصرے کیے۔
دوسری جانب فخرِ عالم نے اپنے حج سفر کی متعدد جھلکیاں سوشل میڈیا پر شیئر کیں جن میں اداکار بلال عباس خان اور کامیڈین تابش ہاشمی سمیت دیگر شخصیات بھی نظر آئیں۔ ان سرگرمیوں کے باعث بعض سوشل میڈیا صارفین نے اس سفر کو ’’حج کے بجائے پکنک‘‘ قرار دیا۔
@timesofkarachiWhy didn’t Wasim Akram, Fakhar-e-Alam, and Misbah-ul-Haq shave their heads as part of the Hajj ritual? #TOKReports #Hajj #WasimAkram #FakhareAlam #MisbahulHaq
♬ original sound - Times of Karachiحالیہ گفتگو میں وسیم اکرم، فخرِ عالم اور مصباح الحق نے ان تنقیدی تبصروں کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ بہت سے لوگوں نے سوال اٹھایا کہ انہوں نے حج کے بعد سر منڈوانے کے بجائے صرف بال کیوں کٹوائے۔ ان کے مطابق حج پر روانگی سے قبل انہوں نے علماء کرام سے رہنمائی حاصل کی تھی جنہوں نے دو شرعی آپشنز بتائے تھے، یا تو مکمل سر منڈوایا جائے یا پھر قصر کروائی جائے، جس میں بالوں کا ایک حصہ کٹوایا جاتا ہے۔ انہوں نے دوسرا طریقہ اختیار کیا جو شرعی طور پر جائز ہے۔
انہوں نے ’’حج یا پکنک‘‘ سے متعلق تنقید پر بھی ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ حج ایک عظیم عبادت ہے، لیکن اس دوران انسان چوبیس گھنٹے صرف ایک ہی عمل میں مصروف نہیں رہتا۔ عبادت کے ساتھ دوستوں سے ملاقات، گفتگو، دعائیں، مسکراہٹیں اور خوشی کے لمحات بھی اس سفر کا حصہ ہوتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ تنقید کرنے سے پہلے لوگوں کو ان معاملات کی مکمل معلومات حاصل کرنی چاہئیں۔
وسیم اکرم اور ان کے ساتھیوں نے بتایا کہ انہوں نے نوجوان نسل کے لیے بھی مختلف ویڈیوز بنائیں تاکہ حج کی ادائیگی سے متعلق رہنمائی فراہم کی جا سکے اور نوجوانوں میں اس مقدس سفر کا شوق پیدا ہو۔ ان کے مطابق ان ویڈیوز کا مقصد صرف معلومات دینا اور لوگوں کو حج کے لیے آمادہ کرنا تھا۔
مدینہ منورہ سے گفتگو کرتے ہوئے فخر عالم نے کہا کہ حج مکمل کرنے کے بعد سب سے زیادہ یہی سوال پوچھا جا رہا ہے کہ آخر انہیں حج پر جانے کی ترغیب کیسے ملی۔ اس سوال کے جواب میں وسیم اکرم نے کہا کہ انہوں نے پہلے سے کوئی خاص منصوبہ بندی نہیں کی تھی، بلکہ وہ ہمیشہ یہی سوچتے تھے کہ جب دل سے تیاری محسوس ہوگی تو حج کریں گے۔ ان کے بقول جب انہیں معلوم ہوا کہ فخر عالم اور مصباح الحق بھی حج پر جا رہے ہیں تو انہوں نے بھی اس قافلے میں شامل ہونے کا فیصلہ کر لیا۔
View this post on Instagramوسیم اکرم نے مزید کہا کہ وہ جلد 60 برس کے ہونے والے ہیں اور انہیں محسوس ہوا کہ اب اس مقدس فریضے کی ادائیگی کا بہترین وقت آ گیا ہے۔ انہوں نے حج کے سفر کو جسمانی طور پر مشکل لیکن یادگار اور قابلِ برداشت قرار دیا۔
مصباح الحق نے بھی اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حج کا یہ سفر ان کی زندگی کے خاص ترین تجربات میں سے ایک ہے۔ ان کے مطابق دوستوں کے ساتھ اس روحانی سفر کو طے کرنے سے اس کی خوبصورتی اور یادیں مزید بڑھ گئیں، اور یہ تجربہ ہمیشہ ان کے دل میں محفوظ رہے گا۔