لنکن شائر(ویب ڈیسک) مصنوعی ذہانت (اے آئی) نے ایک بار پھر حیران کر دیا ہے، برطانوی اسپتالوں میں ایک نیا نظام متعارف کرایا گیا ہے جس کے تحت اب آرٹیفیشل انٹیلیجنس کی مدد سے ہڈیوں کے فریکچر کی شناخت تیز تر ہو جائے گی۔

بی بی سی کے مطابق برطانیہ کے شمالی لنکن شائر اور گول این ایچ ایس فاؤنڈیشن ٹرسٹ کے اسپتالوں میں اب مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی مدد سے ہڈیوں کے فریکچر اور ڈِس لوکیشن کی شناخت کی جائے گی۔ یہ نظام نیشنل ہیلتھ سروسز کی دو سالہ پائلٹ اسکیم کے تحت اس ماہ کے آخر میں فعال ہو جائے گا۔

ٹرسٹ کے ماہرین کے مطابق اے آئی سافٹ ویئر ہر ایکس رے کا فوری تجزیہ کر کے مشتبہ حصوں کو نمایاں کرے گا، جس سے ڈاکٹروں کو تشخیص میں اضافی مدد ملے گی اور ایمرجنسی میں علاج کا عمل تیز ہو سکے گا۔ AI ہر ایکس رے تصویر کا فوراً تجزیہ کر کے مشتبہ حصوں کو ہائی لائٹ کرے گا تاکہ ڈاکٹر آسانی سے دیکھ سکیں، تاہم حتمی تشخیص اور علاج کا فیصلہ ہمیشہ ڈاکٹر ہی کریں گے۔

میٹا نے فیس بک پر جاری تحقیق کیوں روکی؟ سنسنی خیز انکشاف
یہ ٹیکنالوجی دو سال سے کم عمر بچوں، ان پیشنٹ و آؤٹ پیشنٹ کلینکس اور چھاتی، ریڑھ کی ہڈی، کھوپڑی، چہرے اور نرم ٹشوز کی امیجنگ میں استعمال نہیں کی جائے گی۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ایکس رے صرف تصویر فراہم کرتی ہے، جب کہ اے آئی تصویر کا تجزیہ بھی کرتی ہے اور ممکنہ فریکچر کو واضح کر کے ڈاکٹر کے لیے فوری رہنمائی فراہم کرتی ہے، جس سے غلطی کے امکانات کم اور علاج کی رفتار بہتر ہو جاتی ہے۔

واضح رہے کہ ایکس رے مشین سے بھی ہڈی کے فریکچر کا پتا چل جاتا ہے لیکن اس حوالے ایکسرے اور اے آئی ٹیکنالوجی کی افادیت میں تھوڑا فرق ہے۔ ایکس رے مشین ہڈیوں کی تصویر لیتی ہے، یہ صرف تصویر دکھاتی ہے کہ ہڈی کس طرح کی ہے اور کہاں فریکچر ہو سکتا ہے، تاہم مصنوعی ذہانت یا اے آئی اس تصویر کا فوراً تجزیہ کرتی ہے اور ممکنہ فریکچر یا ڈسلوکیشن کو نمایاں کر کے ڈاکٹر کو دکھاتی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: ایکس رے کرتی ہے اے ا ئی

پڑھیں:

وفاقی کابینہ کا جعلی دواؤں کے خاتمے کیلئے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ کی منظوری

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) ملک بھر میں جعلی دواؤں کا خاتمہ یقینی بنانےکے لیے وفاقی کابینہ نے دواؤں کے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ کی باضابطہ منظوری دیدی۔

نجی ٹی وی چینل جیو نیوز کے مطابق وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے اس حوالے سے کہا کہ ڈرگ لیبلنگ اینڈ پیکنگ رولز 1978 میں ضروری ترامیم کی منظوری دے دی گئی ہے، یہ فیصلہ پاکستان میں جعلی دواؤں کے خاتمے کی جانب ایک بڑا اور تاریخی قدم ہے۔

انہوں نے کہا کہ پہلی بار ہر دوا کو ڈیجیٹل طریقے سے ٹریک اور ویریفائی کیا جا سکے گا، اس نظام کے تحت جعلی، غیرمعیاری اور نقلی دواؤں کی نشاندہی اور ان کا خاتمہ ممکن ہوگا، نظام کے نفاذ سے عام صارف بآسانی دوا کی میعاد اور قیمت کی مستند معلومات لے سکےگا۔

ایف آئی اے نے جعلی دستاویزات پر بیرون ملک جانے والی 2 خواتین کو آف لوڈ کر دیا ، 2 ایجنٹ گرفتار

وفاقی وزیر نے کہا کہ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان اس جدید نظام کو ملک بھر میں نافذ کرے گی، نئے قواعد کے تحت تمام دوا ساز کمپنیوں اور درآمد کنندگان کے لیے لازم ہوگا کہ وہ ہر دوا کے پیک پر معیاری ٹو ڈی بارکوڈ اور سیریلائزیشن ڈیٹا درج کریں، یہ اہم فیصلہ دواوں کی سپلائی چین کو محفوظ اور معیاری بنانے کیلئے کیا ہے۔

مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا پاکستان میں دواؤں کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کیا جا رہا ہے، ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ سے جعلی دواؤں کے خلاف مضبوط اور مؤثر دیوار قائم ہوگی، پاکستان خطے میں جدید ٹیکنالوجی اپنانے والا نمایاں ملک بن کر سامنے آئے گا، اس نظام کے ذریعے نگرانی کے روایتی طریقوں کی جگہ جدید ڈیجیٹل نظام لے گا۔

پنجاب میں آندھی اور طوفان سے تباہی ، ایک شہری جاں بحق، 46 گھر متاثر

مزید :

متعلقہ مضامین

  • اسرائیل کی عدم آمادگی امریکا ایران معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے، تجزیہ کار
  • اسرائیل میں نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر تنقید میں اضافہ
  • فراری کی پہلی الیکٹرک کار متعارف، رونمائی کے فوراً بعد تنقید کا طوفان
  • ایکس نے ’ری ایکٹ ود ویڈیو‘ فیچر متعارف کرا دیا، یہ کام کیسے کرتا ہے؟
  • حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟
  • بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے صدر منتخب
  • بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
  • جعلی ادویات بیچنا اب آسان نہیں! پاکستان میں پہلی بار جدید ٹریکنگ سسٹم کا نفاذ
  • وفاقی کابینہ کا جعلی دواؤں کے خاتمے کیلئے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ کی منظوری
  • وفاقی کابینہ، ادویات ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم نفاذ کی باقاعدہ منظوری دے دی