data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

لاہور:امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ کسی بھی تحریک کی کامیابی نظم و ضبط کے بغیر ممکن نہیں، دنیا میں ظلم کا نظام اب ختم ہونا چاہیے کیونکہ انسانیت آج بھی اس لیے سسک رہی ہے کہ چند ہاتھوں میں نظام کی باگ دوڑ مرکوز ہے، اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق کشمیریوں کو ان کا حق دینا ہوگا جبکہ فلسطین اور کشمیر پاکستان کے لیے بے حد اہمیت رکھتے ہیں اور یہ ہماری ریڈ لائن ہیں۔

جماعت اسلامی کے ملک گیر اجتماع عام بدل دو نظام کے تیسرے اور آخری روز اختتامی خطاب کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ ملک کو نئی سمت دینے کے لیے جنریشن زی کی رہنمائی ضروری ہے۔ اسی مقصد کے لیے جماعت اسلامی زی کنیٹ پروگرام  کا آغاز کررہی ہے جس کے تحت  بنوقابل پروگرام میں آئی ٹی ٹریننگ کو مزید وسعت دی جائے گی،  ساتھ ہی پلمبر، مکینک، موبائل ریپئرنگ اور دیگر شعبوں میں ٹیکنکل کورسز شروع کرکے نوجوانوں کو ہنرمند بنایا جائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ جنریشن زی کی سب سے بڑی مشکل فوکس کی کمی اور تربیت کے مستقل نظام کا نہ ہونا ہے، اسی لیے مختلف سوفٹ اسکلز پروگرام بھی متعارف کرائے جائیں گے۔ نوجوانوں کو آگے لانے کے لیے کھیلوں سے متعلق متعدد سرگرمیاں بھی شروع کی جائیں گی جن میں لڑکوں اور لڑکیوں کے اسکلز کو نمایاں کیا جائے گا۔

حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ پاکستان صرف جغرافیہ یا زمین کا ٹکڑا نہیں بلکہ ایک نظریہ ہے جس کی وجہ سے ہم دنیا میں ممتاز مقام رکھتے ہیں،  ماضی میں ملک کو نقصان غلط فیصلوں کے باعث ہوا اور ہمیشہ طاقتور نظام نے حق کے مقابلے میں رکاوٹیں کھڑی کیں مگر ہر دور میں حق کو ہی پذیرائی ملی ہے،بدل دو نظام تحریک کو ہر محاذ پر آگے بڑھایا جائے گا۔

امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ مسئلہ آئین میں نہیں بلکہ نظام میں ہے، جہاں چند طاقتور لوگ عوام سے فرار کے لیے استثنیٰ چاہتے ہیں۔ جماعت اسلامی عوام کی بالادستی چاہتی ہے اور وڈیروں، جاگیرداروں اور دیگر طاقت ور طبقات کی اجارہ داری قائم نہیں ہونے دے گی،  دیگر جماعتوں میں خاندانی سیاست اور شخصی پرستی کے باعث شفاف انتخابات سے راہ فرار اختیار کی جاتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ بیوروکریسی کو مقامی معاملات میں غیر ضروری مداخلت کا اختیار دیا گیا ہے جبکہ ملک کی ترقی مقامی اور بلدیاتی حکومتوں کو بااختیار بنانے سے ہی ممکن ہے،  خیبر پختونخوا میں گزشتہ 12 سال کی حکومت کے باوجود نچلی سطح تک اختیارات منتقل نہیں کیے گئے،  نظام کی تبدیلی کے لیے مضبوط بلدیاتی ڈھانچے کا قیام ناگزیر ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ طبقاتی نظام تعلیم کا خاتمہ اور یکساں تعلیمی نظام کا نفاذ بھی، بدل دو نظام، کا حصہ ہے،  بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں امن کی کنجی افغانستان سے مذاکرات میں ہے، حکومت کو اپنا قبلہ درست کرنا ہوگا اور امریکی و آئی ایم ایف کی غلامی سے نکل کر عوامی فلاح کی پالیسیاں اپنانی ہوں گی۔

انہوں نے اعلان کیا کہ جماعت اسلامی پورے ملک میں جلسوں کے ذریعے اس تحریک کو مزید تقویت دے گی، عدالتوں کا نظام بھی وکیلوں کی مدد سے بہتر بنایا جائے گا اور جماعت اسلامی ملک کو چند لوگوں کے ہاتھوں میں نہیں چلنے دے گی۔

ویب ڈیسک وہاج فاروقی.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: جماعت اسلامی نے کہا کہ جائے گا کے لیے

پڑھیں:

بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جمال رئیسانی

پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے رکن قومی اسمبلی نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہا ہے کہ پاکستان کے خلاف ایک خاموش جنگ لڑی جا رہی ہے جو بارود سے زیادہ نوجوانوں کے ذہنوں کو نشانہ بنا رہی ہے۔ بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

صوبائی وزرا علی مدد جتک اور عاصم کرد گیلو کے ہمراہ کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہاکہ دشمن پاکستان اور بلوچستان کو توڑنے کی کوشش کر رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ 2018 میں بشیر زیب نے جب ایک کالعدم تنظیم کی کمان سنبھالی تو حالات مزید خراب ہوئے، جبکہ جنید بشیر زیب کا رائٹ ہینڈ ہے۔

انہوں نے کہاکہ آج کی جنگ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر لڑی جا رہی ہے اور کالعدم تنظیموں کے کارندے زنگی ایپ کے ذریعے ایک دوسرے سے رابطے میں رہتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ کالعدم تنظیمیں سنگل ایپ کے ذریعے آپریشنل منصوبہ بندی جبکہ ڈیلٹا چیٹ کے ذریعے خفیہ بھرتیاں کرتی ہیں۔

نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہاکہ آج دشمن صرف گولی کا استعمال نہیں کر رہا بلکہ سوشل میڈیا پر ٹرینڈز چلا کر بھی اپنا ایجنڈا آگے بڑھا رہا ہے۔ ہم نہیں چاہتے کہ نوجوان پہاڑوں کا رخ کریں۔

انہوں نے دعویٰ کیاکہ کالعدم تنظیموں نے اپنی سرگرمیوں میں خواتین کا استعمال بھی شروع کر دیا ہے۔ شہناز بلوچ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے جلسوں میں شرکت کرتی تھیں اور ان کا باہوٹ کے ذریعے کالعدم تنظیم سے رابطہ ہوا۔

نوابزادہ جمال رئیسانی نے مزید کہاکہ بلوچ یکجہتی کمیٹی بلوچستان کی قیادت ڈاکٹر صبیحہ کر رہی ہیں اور ان کا بھائی ایک کالعدم تنظیم کا حصہ ہے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے کراچی سیل کی قیادت فوزیہ شاہوانی کررہی ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews بلوچستان سیاست خاموش جنگ نوابزادہ جمال رئیسانی وی نیوز

متعلقہ مضامین

  • امام خمینی، فکر، قیادت اور انقلاب کا استعارہ
  • گلگت میں ن لیگ کے ترقیاتی کاموں کا کوئی جماعت مقابلہ نہیں کرسکتی، احسن اقبال
  • بلاول کل چلاس جبکہ آصفہ بھٹو ہنزہ میں خطاب کریں گی
  • ہمارا ایک مطالبہ ہے بانی کو شفا انٹرنیشنل منتقل کیا جائے، سہیل آفریدی
  • نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
  • بانی سے ملاقات تک خیبرپختونخوا کا بجٹ پاس نہ کیا جائے، علیمہ خان کی سہیل آفریدی کو تنبیہ
  • بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جمال رئیسانی
  • جعلی ادویات بیچنا اب آسان نہیں! پاکستان میں پہلی بار جدید ٹریکنگ سسٹم کا نفاذ
  • وفاقی بجٹ5جون کو پیش نہیں کیا جائے گا
  • ٹک ٹاکر حکیم بابر کیس میں ملزمان کا موقف بھی سامنے آگیا