جی 20 ممالک پائیدار ترقی کی حمایت کیلئے بلاخوف کام کریں: صدر راما فوسا
اشاعت کی تاریخ: 23rd, November 2025 GMT
جوہانسبرگ (ویب ڈیسک) جنوبی افریقہ میں دنیا کی 20 بڑی معیشتوں کی تنظیم جی20 کے سربراہی اجلاس کے اختتام پر جی 20 کی صدارت امریکا کے سپرد کر دی گئی۔
جوہانسبرگ سے غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق جنوبی افریقا کے صدر سائرل راما فوسا نے اجلاس کے اختتام پر اپنے خطاب میں کہا کہ اجلاس میں تمام ذرائع سے موسمیاتی مالیات بڑھانے کی ضرورت کو تسلیم کیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ جی 20 ممالک کو پائیدار ترقی کی حمایت کے لیے بلاخوف وخطر کام کرنا چاہیے۔
صدر راما فوسا نے کہا کہ جی 20 اعلامیہ کثیرالجہتی تعاون کے عزم کی تجدید ہے، یہ اعلامیہ دنیا کے لوگوں کی زندگیاں بہتر بنانے کے لیے ٹھوس اقدامات کے عزم کا اظہار ہے۔
ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ اعلامیہ تسلیم کرتا ہے کہ ہمارے مشترکہ اہداف اختلافات سے بالاتر ہیں۔
غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق امریکا نے جی 20 سربراہ اجلاس کا بائیکاٹ کیا تھا، اجلاس میں اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس، بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی اور دیگر عالمی رہنما شریک ہوئے۔
غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق رواں برس جی 20 اجلاس کا عنوان یکجہتی، مساوات اور پائیداری تھا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
پاکستان سمیت آٹھ مسلم ممالک کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں اور انتہا پسند عناصر کی حالیہ کارروائیوں کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ایسے اقدامات نہ صرف مذہبی تقدس کی پامالی ہیں بلکہ پورے خطے میں کشیدگی کو خطرناک حد تک بڑھا رہے ہیں۔
مشترکہ اعلامیے پر پاکستان، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، مصر، اردن، ترکیہ اور انڈونیشیا کے وزرائے خارجہ نے اتفاق کیا۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی اشتعال انگیز کارروائیاں اور اسرائیلی انتہا پسند وزرا و گروہوں کی سرگرمیاں ناقابلِ قبول ہیں اور ان سے خطے میں امن و استحکام کو شدید خطرات لاحق ہو رہے ہیں۔
وزرائے خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ مسجد اقصیٰ کی تاریخی، قانونی اور مذہبی حیثیت کا ہر صورت احترام کیا جانا چاہیے اور اس میں کسی بھی قسم کی یکطرفہ تبدیلی ناقابلِ قبول ہے۔
مشترکہ اعلامیے میں مسجد اقصیٰ کے انتظامی اور مذہبی امور پر اردن کے محکمہ اوقاف کے خصوصی اختیار کا اعادہ کرتے ہوئے عالمی برادری سے مطالبہ کیا گیا کہ اس حیثیت کو برقرار رکھنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔
اعلامیے میں اسرائیل سے مطالبہ کیا گیا کہ مسلمانوں کو مسجدِ اقصیٰ میں عبادت سے روکنے کا سلسلہ فوری طور پر بند کیا جائے، مذہبی آزادی کا احترام کیا جائے اور ایسے تمام اقدامات سے گریز کیا جائے جو مزید کشیدگی اور تصادم کا سبب بن سکتے ہیں۔