معاشی ترقی، روزگار کی فراہمی اور آمدن میں اضافہ صنعتی ترقی کے بغیر ممکن نہیں، وزیراعظم
اشاعت کی تاریخ: 22nd, November 2025 GMT
اسلام آباد:
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ معاشی ترقی، روزگار کی فراہمی اور آمدن میں اضافہ صنعتی ترقی کے بغیر ممکن نہیں۔
ملکی صنعتی ترقی پر قائم نجی شعبے کی کمیٹی کا پہلا جائزہ اجلاس وزیراعظم شہباز شریف کی زیرصدارت ہوا۔ اجلاس میں صنعتی ترقی کے حوالے سے سفارشات پیش کی گئیں، جس پر وزیراعظم نے خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ ملکی معاشی ترقی، روزگار کی فراہمی اور آمدن میں اضافہ صنعتی ترقی کے بغیر ممکن نہیں۔
وزیراعظم نے کہا کہ کاروبار میں آسانی اور سرمایہ کاری میں اضافے کے لیے اقدامات حکومت کی اولین ترجیحات ہیں۔ ملکی صنعتی ترقی کے لیے نجی شعبے کی تجاویز کلیدی اہمیت رکھتی ہیں۔ کاروباری حضرات کی جانب سے صنعتی ترقی کے لیے عرق ریزی سے تجاویز تیار کی گئیں، جو لائق تحسین ہیں۔ ان تجاویز کا بغور مشاہدہ کرکے عملدرآمد کا لائحہ عمل تیار کیا جائے گا۔
اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پاکستانی کاروباری برادری نے مشکل وقت میں حکومتی پالیسیوں کا ساتھ دیا اور ملک کو معاشی بحرانوں سے نکالنے میں معاونت کی۔ اللہ کے فضل و کرم سے ملک کی معاشی سمت بہتر اور ملک ترقی کی جانب گامزن ہے، مگر ملکی ترقی کے لیے ہمیں مزید محنت کرنا ہوگی۔
وزیراعظم کی صدارت میں ہونے والے ملکی صنعتی ترقی پر نجی شعبے کی قائم کردہ کمیٹی کے اجلاس میں وفاقی وزرا احسن اقبال، جام کمال خان، احد خان چیمہ، علی پرویز ملک، وزیرِ اعظم کے مشیر محمد علی، وزیرِ مملکت بلال اظہر کیانی، معاون خصوصی ہارون اختر اور ثاقب شیرازی کی قیادت میں صنعتی ورکنگ گروپ میں شامل صنعتکاروں نے شرکت کی۔
اجلاس کو پاکستان کی صنعتی ترقی اور ملک میں سرمایہ کاری میں اضافے کے لیے پالیسی تجاویز پیش کی گئیں۔ اس موقع پر ملکی صنعت کی مسابقت میں اضافے کے لیے خطے کے ممالک سے موازنہ بھی پیش کیا گیا۔
وزیرِ اعظم نے معیشت کے دیگر شعبوں کے حوالے سے سفارشات کے ساتھ نئی تجاویز کو سراہتے ہوئے انہیں قومی پالیسی فریم ورک میں شامل کرنے کی ہدایت کی۔
Tagsپاکستان.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان پاکستان کھیل صنعتی ترقی کے کی صنعتی ترقی کے لیے
پڑھیں:
پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
وزارت خارجہ کے ڈائریکٹر جنرل عرفان سومرو نے کہا ہے کہ تجارتی ڈپلومیسی حکومت پاکستان کی خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون ہے اور پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ محض تجارتی حجم بڑھانے کا خواہاں نہیں بلکہ مضبوط اور پائیدار معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے۔
فیڈریشن ہاؤس کراچی میں فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) کے زیر اہتمام ڈی ایٹ چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (D-8 CCI) کی پاکستان نیشنل کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے دائریکٹر جنرل وزارت خارجہ عرفان سومرو نے کہا کہ ڈی ایٹ کے قیام کو تین دہائیاں گزر چکی ہیں، اب وقت آ گیا ہے کہ اس وژن کو عملی اقدامات میں تبدیل کیا جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ ڈی ایٹ ممالک کی مشترکہ معیشت تقریباً 5 ہزار ارب ڈالر پر مشتمل ہے اور ایک ارب سے زائد آبادی مشرق بعید سے افریقہ تک پھیلی ہوئی ہے، جو باہمی تجارت اور سرمایہ کاری کے بے شمار مواقع فراہم کرتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ زراعت، معدنیات، سیاحت اور نوجوان افرادی قوت ڈی ایٹ ممالک کے اہم اثاثے ہیں، تاہم مختلف مفاہمتی یادداشتوں (ایم او یوز) پر مؤثر عمل درآمد نہ ہونے کے باعث رکن ممالک اپنی حقیقی معاشی صلاحیت سے بھرپور فائدہ نہیں اٹھا پا رہے۔
ڈی جی وزارت خارجہ کے مطابق پاکستان کی ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ سالانہ تجارت تقریباً 11 ارب ڈالر ہے، جس میں 8 ارب ڈالر درآمدات جبکہ 2.8 ارب ڈالر برآمدات شامل ہیں، اس عدم توازن کو کم کرنے اور برآمدات میں اضافے کی ضرورت پر زور دیا۔
عرفان سومرو نے کہا کہ پاکستان کی بندرگاہیں اور نوجوان آبادی ملکی معیشت کے لیے قیمتی اثاثہ ہیں، کاروباری برادری پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ پاکستانی سفارت خانوں کے ساتھ روابط بڑھائے تاکہ نئی منڈیوں تک رسائی اور سرمایہ کاری کے مواقع سے فائدہ اٹھایا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت بین الاقوامی معاہدے اور سازگار پالیسی فریم ورک فراہم کر سکتی ہے، تاہم تجارت اور سرمایہ کاری کو فروغ دینا نجی شعبے کی ذمہ داری ہے، اس سلسلے میں ایف پی سی سی آئی کا کردار انتہائی اہم ہے۔
ڈائریکٹر جنرل وزارت خارجہ نے خواتین اور نوجوان کاروباری افراد پر زور دیا کہ وہ علاقائی تجارت اور اقتصادی سرگرمیوں میں بھرپور کردار ادا کریں، پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔
اس موقع پر ایف پی سی سی آئی کے صدر عاطف اکرام شیخ نے قاہرہ میں منعقدہ چوتھی ڈی ایٹ ٹریڈ منسٹر کونسل کے فیصلوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے استنبول میں ترکیہ کی تنظیم TOBB کی سرپرستی میں ڈی ایٹ چیمبرز کے مستقل سیکرٹریٹ کے قیام کو اہم پیش رفت قرار دیا۔
ڈی ایٹ سیکریٹری جنرل سہیل محمود نے اپنے خصوصی پیغام میں رکن ممالک پر زور دیا کہ وہ حلال معیشت، مالیاتی انضمام اور علاقائی تجارت کے مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھائیں۔
ایف پی سی سی آئی کے سینئر نائب صدر ثاقب فیاض مگوں نے کہا کہ ڈی ایٹ ممالک کے درمیان اندرونی تجارت میں نمایاں اضافہ وقت کی اہم ضرورت ہے اور فیڈریشن پریفرینشل ٹریڈ ایگریمنٹ (پی ٹی اے) کو ناگزیر سمجھتی ہے۔
اجلاس میں انڈونیشیا، ترکیہ، ایران، مصر، ملائیشیا، نائجیریا، آذربائیجان اور بنگلہ دیش کے قونصل جنرلز، سینئر سفارت کاروں، ایف پی سی سی آئی کے نائب صدور امان پراچہ، آصف سخی، سابق صدر زبیر طفیل، سابق نائب صدور خالد تواب، حنیف گوہر، شبیر منشا، ناہید مسعود، نازلی عابد، ماہین خان اور دیگر کاروباری رہنماؤں نے بھی شرکت کی۔