ٹرمپ نے یوکرین کو امن معاہدہ قبول کرنےکی ڈیڈلائن دیدی
اشاعت کی تاریخ: 22nd, November 2025 GMT
یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے خدشہ ظاہر کیا کہ امریکا کے امن منصوبے کی منظوری نہ دینے پر یوکرین اپنی آزادی، وقار یا واشنگٹن کی حمایت کھو سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ منصوبہ روس کے اہم مطالبات کی حمایت کرتا ہے، اس بارے میں سوچنا ہوگا، یہ ہفتہ مشکل ترین ہے، کیونکہ اس میں سخت فیصلہ کرنا ہوگا۔ اسلام ٹائمز۔ امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یوکرین کو امن معاہدہ قبول کرنے کی ڈیڈلائن دیدی۔ صدر ڈونلٖڈ ٹرمپ نے امریکی ریڈیو کو انٹرویو میں کہا ہے کہ وہ چاہتے ہیں کہ یوکرین جمعرات تک امریکا کا امن معاہدے قبول کرلے۔ صدر ٹرمپ نے کہا کہ اُن کے پاس بہت سی ڈیڈ لائنیں تھیں لیکن اگر چیزیں ٹھیک چل رہی ہوں تو آپ ڈیڈ لائن میں توسیع کرتے ہیں، لیکن میرے خیال میں امن معاہدہ قبول کرنے کے لیے جمعرات کا دن مناسب وقت ہے۔ دوسری جانب یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے خدشہ ظاہر کیا کہ امریکا کے امن منصوبے کی منظوری نہ دینے پر یوکرین اپنی آزادی، وقار یا واشنگٹن کی حمایت کھو سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ منصوبہ روس کے اہم مطالبات کی حمایت کرتا ہے، اس بارے میں سوچنا ہوگا، یہ ہفتہ مشکل ترین ہے، کیونکہ اس میں سخت فیصلہ کرنا ہوگا۔ یوکرینی صدر نے اس مشکل ترین موقع پر پوری قوم کو متحد ہونے کی اپیل کی۔ ادھر میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ یوکرین کو حفاظتی ضمانت دینے کے لیے نیٹو کے آرٹیکل 5 کے طرز پر حفاظتی یقین دہانیاں کرائی گئی ہیں، اس آرٹیکل کے مطابق کسی رکن ملک پر حملہ سب پر حملہ تصور کیا جاتا ہے۔ جنگ بندی مسودے کے مطابق معاہدہ دستخط کے بعد 10 سال نافذ العمل رہے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: کی حمایت
پڑھیں:
شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
کراچی میں شارع فیصل پر ٹریفک کی روانی کو بہتر بنانے کے لیے ٹریفک لین کی پاسداری کرانے کے لیے قوانین پر سختی عملدرآمد کیا جارہا ہے۔
ٹریفک لین کی خلاف ورزی پر 24 گھنٹوں کے دوران 96 چالان جاری کیے گئے ہیں۔
کراچی میں ٹریفک جام اور حادثات کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیچھے کئی وجوہات ہیں، لیکن ایک بڑی وجہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی ہے۔
شہر کی سڑکوں پر مختلف گاڑیوں کے لیے مخصوص لینز تو موجود ہیں، اور زیادہ تر شہری اس بات سے واقف بھی ہیں کہ کون سی لین کس قسم کی گاڑی کے لیے مختص ہے، مگر وقت بچانے اور جلد منزل تک پہنچنے کی دوڑ میں اکثر لوگ ان اصولوں کو نظرانداز کر دیتے ہیں۔
ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کو روکنے اور سڑکوں پر نظم و ضبط بہتر بنانے کے لیے ٹریفک پولیس نے پہلے ہی ای-ٹکٹنگ سسٹم نافذ کیا ہوا ہے، لیکن اب شارع فیصل پر لین کی خلاف ورزی کرنے والوں کو خودکار طریقے سے جرمانے جاری کیے جائیں گے۔
ڈی آئی جی ٹریفک پیر محمد شاہ کے مطابق ٹریفک جام کی صورت میں شہریوں کو لین تبدیل کرنے کی رعایت ہے، لیکن سست ٹریفک پر شہریوں کو مقررہ لین میں ہی رہنا ہوگا اور ہیوی بائیک رائڈرز بھی لین کی خلاف ورزی کریں گے تو چالان ہوگا۔
دوسری جانب شہریوں نے اس اقدام کو ٹریفک نظم و ضبط کی جانب ایک مثبت پیشرفت قرار دیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ قوانین پر مؤثر عملدرآمد کے ساتھ ساتھ عوامی آگاہی بھی انتہائی ضروری ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ نئے نظام اور لین ڈسپلن کے اصولوں سے واقف ہو سکیں۔
قانون تو موجود ہے، اب اصل امتحان اس پر عملدرآمد اور شہریوں کے تعاون کا ہے۔ اگر دونوں ساتھ چلیں تو شاید کراچی کی سڑکیں زیادہ محفوظ اور منظم بن سکیں۔