صدر ٹرمپ کی خاتون صحافیوں سے بدتمیزی، ایئر فورس ون کی ویڈیو وائرل
اشاعت کی تاریخ: 19th, November 2025 GMT
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کے روز امریکی چینل اے بی سی نیوز کی ایک رپورٹر پر سخت الفاظ میں تنقید کی۔
چند روز قبل وہ ایک اور خاتون صحافی کو سزا یافتہ جنسی مجرم جيفری ایپسٹین سے متعلق ایک سوال پوچھنے پر ’پِگی‘ کہہ چکے تھے۔
گزشتہ روز پیش آنے والا حالیہ واقعہ اس وقت ہوا جب امریکی صدر نے سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کا وائٹ ہاؤس میں استقبال کیا۔
یہ بھی پڑھیں: امریکی کانگریس ایپسٹین فائلز جاری کرنے پر متفق، ٹرمپ نے بھی اعتراض ختم کردیا
اسی دوران اے بی سی نیوز کی رپورٹر مریم بروس نے چند سوالات کیے، جن پر ٹرمپ غصے میں آ گئے اور چینل کے نشریاتی لائسنس کو منسوخ کرنے کی دھمکی دی۔
https://Twitter.
اس سے چند روز قبل واقعہ بلومبرگ کی رپورٹر کیتھرین لوسی کے ساتھ ایئر فورس ون پر پیش آیا تھا لیکن یہ تفصیلات منگل کو سوشل میڈیا کے ذریعے سامنے آئیں۔
کیتھرین لوسی نے ایپسٹین کے کیس سے متعلق سوال کیا تو ٹرمپ نے ان کی جانب انگلی کرتے ہوئے انہیں ہتک آمیز لفظ کے ساتھ خاموش ہوجانے کو کہاتھا۔
مزید پڑھیں: ڈونلڈ ٹرمپ نے ورلڈ کپ شائقین کے لیے ’فیفا پاس‘ متعارف کرنے کا اعلان کردیا
سی این این کے صحافی جیک ٹیپر نے ٹرمپ کے اس تبصرے کو ’گھناؤنا اور مکمل طور پر ناقابلِ قبول‘ قرار دیا۔
منگل کو ہونے والے واقعے میں مریم بروس نے پہلے یہ سوال پوچھا کہ آیا ٹرمپ کے خاندانی کاروباری تعلقات مفادات کے ٹکراؤ کا باعث نہیں بنتے؟
یہ سوال سنتے ہی ٹرمپ بھڑک اٹھے۔ ’اے بی سی فیک نیوز… یہ چینل کاروبار میں سب سے بدترین اداروں میں سے ایک ہے۔‘
مزید پڑھیں:ٹرمپ کی قریبی ساتھی امریکی صدر کا ساتھ چھوڑ گئیں، سبب کیا بنا؟
صدر ٹرمپ نے کہا کہ ان کا ٹرمپ آرگنائزیشن سے کوئی تعلق نہیں، جو اس وقت اُن کے 2 بڑے بیٹے چلا رہے ہیں۔
بعد ازاں جب صحافی نے دوبارہ بدنام زمانہ جیفری ایپسٹین سے متعلق سوال کیا تو ٹرمپ ایک بار پھر برہم ہو گئے اور کہا کہ سوال نہیں بلکہ آپ کا رویہ مسئلہ ہے۔
’آپ بہت ہی خراب رپورٹر ہیں۔‘
مزید پڑھیں: امریکی صدر ٹرمپ کا بی بی سی کے خلاف 5 ارب ڈالر تک ہرجانے کا مقدمہ دائر کرنے کا اعلان
انہوں نے مزید کہا کہ ان کا ایپسٹین سے کوئی تعلق نہیں اور یہ کہ یہ پورا اسکینڈل ایک ’فریب‘ ہے۔
ٹرمپ نے مریم بروس سے مخاطب ہو کر اے بی سی کو ’بھاری غلطیوں کا مرتکب ادارہ‘ قرار دیا۔ ’آپ سے مزید کوئی سوال نہیں۔‘
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسکینڈل ایئر فورس ون اے بی سی نیوز ٹرمپ آرگنائزیشن جنسی مجرم جیفری ایپسٹین سزا یافتہ صدر ٹرمپ مریم بروس
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسکینڈل ایئر فورس ون اے بی سی نیوز جیفری ایپسٹین سزا یافتہ امریکی صدر اے بی سی
پڑھیں:
گوگل کا ’گڈ مچھر بیڈ مچھر‘ نظریہ، امریکا میں لوہے کو لوہے سے کاٹنے کے لیے ’فورس‘ تیار
امریکی ٹیکنالوجی کمپنی گوگل فلوریڈا اور کیلیفورنیا میں تقریباً 3 کروڑ 20 لاکھ مچھر چھوڑنے کے منصوبے پر کام کر رہی ہے جس کا مقصد خطرناک مچھروں کی افزائش روکنا اور ان سے پھیلنے والی بیماریوں پر قابو پانا ہے۔ تاہم اس منصوبے نے ماہرین ماحولیات اور ناقدین میں کئی خدشات کو جنم دے دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: یہ اتفاق نہیں: مچھر دوسروں کو چھوڑ کر آپ کے ہی پیچھے کیوں پڑجاتے ہیں؟
گوگل کے ’ڈی بگ‘ پروگرام کے تحت ایسے نر مچھر چھوڑے جائیں گے جنہیں ’اچھے مچھر‘ قرار دیا جا رہا ہے۔ ان مچھروں میں قدرتی طور پر پائے جانے والے بیکٹیریا وولباخیا موجود ہوں گے جو جنگلی مادہ مچھروں کے ساتھ ملاپ کے بعد انڈوں کو پھوٹنے سے روک دیں گے یوں خطرناک مچھروں کی نسل بتدریج کم ہوتی جائے گی۔
گوگل کے مطابق یہ نر مچھر نہ کاٹتے ہیں اور نہ ہی بیماریاں پھیلاتے ہیں اس لیے یہ انسانی صحت کے لیے نقصان دہ نہیں ہوں گے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کا مقصد اچھے کیڑوں کے ذریعے برے کیڑوں کا خاتمہ ہے۔
ماہرین کے مطابق مچھر دنیا کے مہلک ترین کیڑوں میں شمار ہوتے ہیں جو ڈینگی، زیکا اور چکن گنیا جیسی خطرناک بیماریوں کے پھیلاؤ کا سبب بنتے ہیں۔
خاص طور پر ایڈیز ایجپٹی نسل کے مچھر ہر سال کروڑوں افراد کو خطرے میں ڈالتے ہیں۔
مزید پڑھیے: مچھروں کو ملیریا سے بچانے کے لیے دوا ڈھونڈ لی گئی، آپ بھی چکرا گئے نا!
گوگل کا کہنا ہے کہ روایتی کیڑے مار ادویات وقت کے ساتھ کم مؤثر ہو رہی ہیں اور ان کے ماحولیاتی اثرات بھی نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں اس لیے ایک نئے اور محفوظ طریقہ کار کی ضرورت ہے۔
کمپنی کے سائنس دانوں کے مطابق اس منصوبے میں نہ تو جینیاتی تبدیلی کی گئی ہے اور نہ ہی کسی قسم کے زہریلے کیمیکل استعمال کیے جائیں گے۔
جدید مصنوعی ذہانت، روبوٹکس اور خودکار نظام کے ذریعے مچھروں کی افزائش اور چھانٹی کی جائے گی تاکہ بڑے پیمانے پر ان کی رہائی ممکن ہو سکے۔
مزید پڑھیں: برازیل میں مچھر فیکٹری کا افتتاح، ہر ہفتے 19 کروڑ کی پیداوار، لیکن کیوں؟
گوگل اس منصوبے کے لیے وفاقی منظوری کا منتظر ہے۔ امریکی ماحولیاتی تحفظ ایجنسی اس وقت کمپنی کی درخواستوں کا جائزہ لے رہی ہے۔
منصوبے کے مطابق پہلے سال فلوریڈا میں ایک کروڑ 60 لاکھ مچھر چھوڑے جائیں گے جبکہ باقی مچھر دوسرے مرحلے میں چھوڑے جائیں گے۔
دوسری جانب ناقدین کا کہنا ہے کہ اتنی بڑی تعداد میں مچھروں کی رہائی کے طویل المدتی ماحولیاتی اثرات غیر متوقع ہو سکتے ہیں۔ بعض ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اس اقدام سے قدرتی غذائی زنجیر متاثر ہو سکتی ہے اور ماحولیاتی توازن بگڑنے کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: ’بہت دیر کی مہرباں آتے آتے‘: آئس لینڈ میں پہلی بار مچھر نمودار، یہ آ کیسے گیا؟
کچھ حلقوں نے اس بات پر بھی سوال اٹھایا ہے کہ عوامی صحت کے نام پر بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو حیاتیاتی نوعیت کے وسیع منصوبوں میں کس حد تک اختیار دیا جانا چاہیے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
گڈ مچھر بیڈ مچھر گوگل گوگل کے ’گڈ مچھر‘ اور ’بیڈ مچھر‘