برطانیہ میں گزشتہ سال 2 لاکھ 57 ہزار شہری ملک چھوڑ کرگئے، اعداد و شمار جاری
اشاعت کی تاریخ: 19th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
برطانیہ کے دفترِ برائے قومی شماریات نے گزشتہ سال ملک چھوڑنے والے افراد سے متعلق تازہ اعدادوشمار جاری کیے ہیں۔
اعدادوشمار کے مطابق گزشتہ سال 2 لاکھ 57 ہزار برطانوی شہری ملک سے باہر منتقل ہوئے۔
میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ برطانیہ کی نیٹ مائیگریشن گزشتہ برس توقعات سے 20 فیصد کم رہی، جبکہ دسمبر 2024 تک نیٹ مائیگریشن کم ہوکر 34 ہزار 500 پر آ گئی۔
اس سے قبل برطانوی شہریوں کی نیٹ مائیگریشن کا اندازہ بین الاقوامی مسافروں کے سروے سے لگایا جاتا تھا، تاہم تازہ تخمینے دفترِ برائے قومی اعدادوشمار نے ڈیپارٹمنٹ فار ورک اینڈ پینشن کے ڈیٹا کی بنیاد پر مرتب کیے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق برطانیہ واپس آنے والے شہریوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے، جو بڑھ کر ایک لاکھ 43 ہزار تک پہنچ گئی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ، شہری پھٹ پڑے
سٹی 42: حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید اضافہ کر دیا،
پیٹرول کی قیمت میں 4 روپے 40 پیسے کا اضافہ شہریوں نے قیمتوں میں اضافہ مسترد کردیا۔ حکومت سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا مطالبہ کردیا۔
شہری کا کہنا تھا کہ کس قانون کے تحت حکومت روزانہ پیٹرول کی قیمت بڑھا رہی ہے۔کمی پیسوں میں کی جاتی ہے جبکہ اضافہ بھاری کیا جاتا ہے۔پیٹرول کی اضافی قیمت کی وجہ روز مرہ زندگی بری طرح متاثر ہوکررہ گئی ہے، ہیجانی سی کیفیت ہوتی ہے کہ آج حکومت پیٹرول کتنا مہنگا کرے گی۔
پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی
شہریوں کا کہنا ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کی روزانہ کی بنیاد پر اضافے نے نفسیاتی اور ذہنی اذیت میں مبتلا کردیا ہے ۔ غریب شہریوں کو تنخواہ ماہانہ ملتی ہے جبکہ پیٹرولیم مصنوعات کی روزانہ کی بنیاد پر تبدیلی سارے بجٹ کو ہلا دیتی ہے ۔ اشیائے خوردونوش کی قیمتوں اور دیگر اخراجات میں بھی اضافہ ہوجاتاہے ۔ حکومت کو اپنے فیصلے پر غور کرنا چاہیے ۔
جعلی امیدواروں کی شامت، پی پی ایس سی امتحانات میں بائیو میٹرک نظام نافذ