انسانی اسمگلروں کے جھانسے میں آنے والے 170 افراد کی لیبیا سے بنگلہ دیش واپسی
اشاعت کی تاریخ: 18th, November 2025 GMT
ایک مربوط سرکاری اور بین الاقوامی کوشش کے تحت لیبیا سے وطن واپسی کے خواہشمند 170 بنگلہ دیشی شہری منگل کو ڈھاکا پہنچ گئے۔
ان کی واپسی میں لیبیا میں قائم بنگلہ دیشی سفارتخانے، وزارتِ خارجہ، وزارتِ اوورسیز ویلفیئر و محنت کش، لیبیا کی حکومت اور انٹرنیشنل آرگنائزیشن فارمائیگریشن نے مشترکہ کردارادا کیا۔
یہ افراد صبح 6 بج کر 10 منٹ پر بوراک ایئر کی چارٹرڈ پرواز کے ذریعے ڈھاکا کے حضرت شاہ جلال انٹرنیشنل ایئرپورٹ پہنچے۔
یہ بھی پڑھیں:
حکام کے مطابق زیادہ تر واپس آنے والے شہری غیر قانونی طور پر لیبیا پہنچے تھے، جہاں انہیں انسانی اسمگلروں نے یورپ پہنچانے کا جھانسہ دیا تھا۔
لیبیا میں قیام کے دوران متعدد افراد کو اغوا، تشدد اور دیگر بدسلوکی کا سامنا بھی کرنا پڑا۔
ایئرپورٹ پر وزارتِ خارجہ، متعلقہ حکام اور انٹرنیشنل آرگنائزیشن فار مائیگریشن کے نمائندوں نے ان افراد کا استقبال کیا۔
مزید پڑھیں:
وزارتِ خارجہ نے کہا کہ واپس آنے والے شہری اپنی مشکل داستانیں دوسروں تک پہنچائیں تاکہ غیر محفوظ اور غیر قانونی ہجرت کے خطرات سے آگاہی بڑھے۔
انٹرنیشنل آرگنائزیشن فار مائیگریشن نے ہر شہری کو سفری الاؤنس، غذائی امداد اور بنیادی طبی سہولیات فراہم کیں۔
وزارتِ خارجہ، لیبیا میں بنگلہ دیشی سفارتخانہ، وزارتِ اوورسیزویلفیئر اور انٹرنیشنل آرگنائزیشن فار مائیگریشن کے درمیان تعاون جاری ہے تاکہ لیبیا کے مختلف حراستی مراکز میں موجود دیگر بنگلہ دیشی شہریوں کی محفوظ واپسی بھی یقینی بنائی جا سکے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
انٹرنیشنل آرگنائزیشن فار مائیگریشن بنگلہ دیش حضرت شاہ جلال ڈھاکا ڈھاکا ایئرپورٹ سفری الاؤنس طبی سہولیات غذائی امداد لیبیا.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: انٹرنیشنل آرگنائزیشن فار مائیگریشن بنگلہ دیش حضرت شاہ جلال ڈھاکا ڈھاکا ایئرپورٹ سفری الاؤنس طبی سہولیات لیبیا انٹرنیشنل آرگنائزیشن فار مائیگریشن بنگلہ دیشی
پڑھیں:
دبئی ایئرپورٹ پر اے آئی امیگریشن سسٹم متعارف، 3.4 سیکنڈ میں کلیئرنس
دبئی: دبئی ایئرپورٹ اے آئی امیگریشن سسٹم کے ذریعے مسافروں کے لیے سفر کو مزید تیز اور آسان بنانے کی جانب ایک اہم قدم اٹھا لیا گیا ہے۔ مصنوعی ذہانت (AI) پر مبنی جدید بارڈر کنٹرول نظام کی آزمائش کامیاب رہی ہے، جس کے تحت مسافر صرف 3.4 سیکنڈ میں امیگریشن کا مرحلہ مکمل کر سکتے ہیں۔
دبئی کی جنرل ڈائریکٹوریٹ آف آئیڈینٹیٹی اینڈ فارنرز افیئرز (GDRFA) کے مطابق اس جدید نظام میں اے آئی سے لیس بایومیٹرک کیمرے بیک وقت 10 مسافروں کی شناخت کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
بغیر پاسپورٹ دکھائے امیگریشن کلیئر
نئے سسٹم کے تحت “ریڈ کارپٹ لین” استعمال کرنے والے رجسٹرڈ مسافروں کو پاسپورٹ یا بورڈنگ پاس دکھانے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ انہیں صرف اپنا چہرہ کھلا رکھ کر بایومیٹرک کیمرے پر موجود سبز اشارے کی طرف دیکھنا ہوگا، جس کے بعد شناخت کا عمل خودکار طور پر مکمل ہو جائے گا۔
ابتدائی مرحلے میں کن مسافروں کے لیے؟
ابتدائی طور پر اس جدید سسٹم کا آغاز دبئی ایئرپورٹ کے ٹرمینل 3 پر فرسٹ کلاس اور بزنس کلاس کے مسافروں کے لیے کیا گیا تھا، تاہم کامیاب آزمائش کے بعد اب اس سہولت کو مزید آنے والے مسافروں تک توسیع دی جا رہی ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق 2025 کے دوران 5 لاکھ 28 ہزار سے زائد مسافروں نے دبئی کے “اسمارٹ کوریڈور” سے استفادہ کیا، جبکہ گزشتہ سال 2 کروڑ 60 لاکھ سے زیادہ مسافروں نے اسمارٹ گیٹس کے ذریعے سفر کیا۔
کن افراد کو یہ سہولت حاصل ہوگی؟
حکام کے مطابق متحدہ عرب امارات اور خلیجی ممالک کے شہری، یو اے ای کے رہائشی اور بایومیٹرک پاسپورٹ رکھنے والے ویزا آن ارائیول مسافر اس سہولت سے خودکار طور پر فائدہ اٹھا سکیں گے۔ تاہم 1.2 میٹر سے کم قد رکھنے والے بچوں کے لیے یہ نظام فی الحال دستیاب نہیں ہوگا۔
دبئی ایئرپورٹس کے چیف ایگزیکٹو پال گریفتھس کا کہنا ہے کہ اس جدید ٹیکنالوجی کا مقصد سیکیورٹی کو برقرار رکھتے ہوئے امیگریشن کے عمل کو زیادہ تیز، آسان اور مؤثر بنانا ہے۔ ان کے مطابق مستقبل میں دبئی ایئرپورٹ اے آئی امیگریشن سسٹم تمام مسافروں کے لیے دستیاب ہوگا، جس سے ہوائی سفر کا تجربہ مزید بہتر ہونے کی توقع ہے۔