پنجاب کی شان نایاب نسل کے اڑیال کی تعداد میں بتدریج اضافہ
اشاعت کی تاریخ: 18th, November 2025 GMT
محکمہ وائلڈ لائف کی کاوشوں سے نایاب نسل کے جانور اُڑیال کی نسل میں بتدریج اضافہ ہو گیا، سالٹ رینج میں پایا جانے والا اُڑیال باآسانی ہر جگہ دکھائی دینے لگا۔ڈپٹی ڈائریکٹر وائلڈ لائف کے مطابق اُڑیال کے غیر قانونی شکار میں روک تھام کے بعد اسکی نسل میں اضافہ ہوا ہے، اُڑیال کے بڑی تعداد میں موٹروے کے قریب پہاڑوں پر گھومنے کے مناظر کیمرے میں محفوظ ہوئے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ چکوال کے علاقے میں ویڈیو میں اڑیال کی بڑی تعداد کو بلا خوف و خطر آزادانہ گھومتے دیکھا جاسکتا ہے، نایاب نسل کے اُڑیال کی قانونی طور پر ٹرافی ہنٹنگ سے لاکھوں ڈالرز کی آمدن حاصل ہوتی ہے۔واضح رہے کہ پنجاب اڑیال پنجاب کی شان ہے اور پوری دنیا میں یہ صرف اسی سالٹ رینج میں ہی پایا جاتا ہے، اڑیال کی اس خطے میں 6 اقسام ہیں پنجابی، بخارا، بلوچی، افغانی، کیپسینی اور لداخی، یہ ایران سے قازقستان، پنجاب سے لداخ تک پائے جاتے ہیں مگر پنجابی اڑیال صرف جہلم و چکوال میں پایا جاتا ہے۔پنجابی اڑیال 70 سے 90 سینٹی میٹر اونچا ہوتا ہے، اس کے سینگ قریب 38 انچ لمبے ہوتے، پیٹ سفید ہوتا ہے، سینے پر سیاہ بال اور بڑی بڑی آنکھوں والا یہ جانور بلاشبہ قدرت کا حسیں شاہکار ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، پنجاب اور کشمیر میں تیز بارشوں کی پیشگوئی، لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ
محکمہ موسمیات کے مطابق موسلادھار بارشوں کے باعث اسلام آباد/راولپنڈی، پشاور، نوشہرہ، گجرات، گوجرانوالہ، لاہور، سیالکوٹ، ساہیوال، خانیوال، ملتان اور فیصل آباد میں نشیبی علاقے زیر آب آنے کا خدشہ ہے۔ اسلام ٹائمز۔ آئندہ چوبیس گھنٹوں کے دوران موسلادھار بارشوں کے سبب خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، مری، گلیات اور کشمیر کے پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ ہے۔ محکمہ موسمیات نے اس حوالے سے انتباہ جاری کردیا جس میں کہا ہے کہ آئندہ چوبیس گھنٹوں کے دوران کشمیر، مری، گلیات، شمال مشرقی پنجاب، اسلام آباد، خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، ڈیرہ غازی خان کے پہاڑی ندی نالوں اور شمال مشرقی بلوچستان کے مقامی/ بر ساتی ندی نالوں میں طغیانی کا خدشہ ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق موسلادھار بارشوں کے باعث اسلام آباد/راولپنڈی، پشاور، نوشہرہ، گجرات، گوجرانوالہ، لاہور، سیالکوٹ، ساہیوال، خانیوال، ملتان اور فیصل آباد میں نشیبی علاقے زیر آب آنے کا خدشہ ہے۔ موسلادھار بارش، تیز آندھی اور آسمانی بجلی گرنے کے باعث کمزور تعمیرات (سولر پینلز، بجلی کے کھمبے، بل بورڈز وغیرہ) کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔