مظفر آباد(نیوز ڈیسک)آزاد کشمیر کے نومنتخب وزیراعظم فیصل ممتاز راٹھور نے حلف اٹھانے کے بعد اپنے پہلے خطاب میں کہا کہ انہیں ملنے والی یہ بھاری ذمہ داری اللہ کا فضل ہے، اور وہ پوری قوت کے ساتھ ریاست اور تحریکِ آزادی کشمیر کے لیے کام کریں گے۔

مظفرآباد میں منعقدہ تقریب حلف براداری کے بعد خطاب کرتے ہوئے فیصل ممتاز راٹھور نے کہا کہ مشکل ترین حالات میں اس منصب کو سنبھالنا آسان نہیں، لیکن وہ یقین رکھتے ہیں کہ اللہ انسان پر اتنا ہی بوجھ ڈالتا ہے جتنا وہ اٹھا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر انسان اپنی قوت سے کمزور ہو تو اللہ اسے وہ سکت بھی عطا کرتا ہے جس سے وہ ذمہ داری نبھا سکے۔

وزیراعظم نے اپنی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ان پر اعتماد کی یہ روایت نصف صدی پر محیط ہے۔
انہوں نے یاد دلایا کہ 1975 میں شہید ذوالفقار علی بھٹو نے ان کے والد ممتاز حسین راٹھور کو کابینہ میں اہم ذمہ داری دی، بعد ازاں 1990 میں بے نظیر بھٹو نے انہیں وزارتِ عظمیٰ کا منصب سونپا، اور 2025 میں پارٹی نے اُن پر اعتماد کرتے ہوئے انہیں وزیراعظم منتخب کروایا۔

فیصل ممتاز راٹھور نے سابق صدر آصف علی زرداری، فریال تالپور اور پارٹی قیادت کا بھی شکریہ ادا کیا جن کی بدولت پیپلز پارٹی آزاد کشمیر کی سب سے بڑی جماعت کے طور پر سامنے آئی۔

وزیراعظم نے آزاد کشمیر کی حیثیت کو “تحریکِ آزادی کشمیر کے بیس کیمپ” کے طور پر دوبارہ واضح کرتے ہوئے کہا کہ ریاست کے دو بڑے تقاضے ہیں:
اوّل، تحریکِ آزادی کی آبیاری اور اس کے لیے بھرپور کردار ادا کرنا۔
دوّم، خطے کی تعمیر و ترقی کو یقینی بنانا۔

انہوں نے اس موقع پر تحریکِ آزادی کشمیر کے شہداء، مجاہدین اور اُن تمام خاندانوں کو خراجِ عقیدت پیش کیا جنہوں نے جدوجہد کے لیے اپنی زندگیاں وقف کیں۔

وزیراعظم نے پاک فوج کو بھی سلام پیش کرتے ہوئے کہا کہ ایل او سی کے قریب بسنے والے شہری فوج کی بدولت محفوظ ہیں، اور مشکل حالات میں بھی فوجی جوان اپنی جانوں پر کھیل کر عوام کی حفاظت کر رہے ہیں۔

اپنے خطاب کے اختتام پر انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پیپلز پارٹی ہمیشہ کی طرح کشمیر کے مقدمے کو قوت سے اٹھاتی رہے گی اور ریاست کے اندر ترقی، استحکام اور عوامی بہبود ان کی اولین ترجیحات ہوں گی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: کرتے ہوئے کشمیر کے انہوں نے کہا کہ

پڑھیں:

جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی

تہران:

ایران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ممکنہ نئی فوجی کارروائی کے اشاروں پر سخت ردعمل دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی غیر ذمہ دارانہ عسکری اقدام کے نتائج امریکا کے لیے انتہائی مہنگے ثابت ہوں گے۔

 

ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ امریکی انتظامیہ کے بعض بااثر حلقے زمینی حقائق کو نظر انداز کر رہے ہیں اور ان کی توجہ خطے کی موجودہ صورتحال کے بجائے 2028 کے صدارتی انتخابات پر مرکوز دکھائی دیتی ہے۔

مزید پڑھیں

مشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، یو این سیکریٹری جنرل

انہوں نے کہا کہ واشنگٹن میں موجود کچھ عناصر حقیقت پسندانہ انداز میں حالات کا جائزہ لینے کے بجائے ایسے فیصلوں کی حمایت کر رہے ہیں جو خطے میں مزید کشیدگی کو جنم دے سکتے ہیں۔

ان کے بقول اگر امریکہ نے جذباتی یا غیر دانشمندانہ جارحیت کا راستہ اختیار کیا تو اس کی سیاسی اور سفارتی قیمت صدر ٹرمپ کو خود ادا کرنا پڑ سکتی ہے۔

عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ طاقت کے استعمال یا دھمکیوں سے مسائل حل نہیں ہوں گے بلکہ اس سے خطے کی صورتحال مزید پیچیدہ اور خطرناک ہو جائے گی۔

متعلقہ مضامین

  • جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی
  • کراچی، نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا، والد کی مدعیت میں مقدمہ درج
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس میں انتخابی اتحاد، سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر اتفاق
  • کیا فواد خان نے بھی سرجری کروالی؟ نئی تصاویر پر سوشل میڈیا پر بحث
  • آزاد کشمیر الیکشن، استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق
  • استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد طے
  • رائیونڈ کا ایک شہری اب آزاد کشمیر کا وزیراعظم بننا چاہتا ہے، بلاول بھٹو
  • کاوا مینز والی بال چیمپئن شپ: قومی ٹیم نے دوسرے روز بنگلا دیش کو شکست دے دی
  • پاکستان مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کیلئے فعال سفارتی کردار جاری رکھے ہوئے ہے، اسحاق ڈار