لاہور سمیت وسطی پنجاب میں فضائی آلودگی میں اضافہ
اشاعت کی تاریخ: 17th, November 2025 GMT
فوٹو بشکریہ سوشل میڈیا
لاہور سمیت وسطی پنجاب کی فضائی آلودگی میں مزید اضافہ ہوا ہے، آج لاہور دنیا کے آلودہ ترین شہروں میں پہلے نمبر پر موجود ہے۔
ایئر کوالٹی انڈیکس کے مطابق لاہور کی فضا میں آج آلودگی کی تعداد 484 پارٹیکیولیٹ میٹر ریکارڈ کی گئی ہے۔
دنیا کا دوسرا آلودہ ترین شہر بھارتی دارالحکومت دلی ہے، اے کیو آئی کے مطابق دلی کی فضا میں آلودگی کی تعداد 289 ریکارڈ کی گئی ہے۔
بین الاقوامی فضائی معیار کی نگرانی کرنے کی ویب سائٹ کے مطابق ملک کے آلودہ ترین شہروں میں گجرانوالہ سرِ فہرست ہے جہاں آلودگی کی مقدار 573 پارٹیکیولیٹ میٹر ریکارڈ کی گئی ہے۔
فیصل آباد کی فضا میں آج آلودگی کی تعداد 452، ہندل (سیالکوٹ) 477، فیصل آباد 452 اور ملتان میں 281 پارٹیکیولیٹ میٹر ریکارڈ کی گئی ہے۔
لاہور میں واہگہ کا علاقہ آلودہ ترین قرار دیا جا رہا ہے جہاں کی فضا میں آلودگی کی تعداد 814 پارٹیکیولیٹ میٹر ریکارڈ ہوئی ہے۔
آج لاہور کے ڈی ایچ اے کا اے کیو آئی 768، سول سیکرٹریٹ 695، ایف سی کالج 686، علامہ اقبال ٹاؤن 678، راوی روڈ 667 اور ڈی ایچ اے فیز 8 کا 615 ریکارڈ ہوا ہے۔
ماہرین صحت کی جانب سے شہریوں کو ماسک کے استعمال کی ہدایت کی گئی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: ریکارڈ کی گئی ہے ا لودگی کی تعداد کی فضا میں ا
پڑھیں:
ایچ ای سی نے ڈیٹا لیک سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے وا لی خبروں کی تردید کردی
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 03 جون2026ء) ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی)نے اپنے ڈیٹا بیس میں مبینہ نقب زنی اور ریکارڈ لیک ہونے سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی خبروں کو بے بنیاد اور گمراہ کن قرار دیتے ہوئے سختی سے مسترد کر دیا ۔ ایچ ای سی نے اپنے بیان میں کہا کہ کمیشن نے ان رپورٹس کا نوٹس لیتے ہوئے فوری تحقیقات کیں جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ایچ ای سی کے ڈیٹا بیس سے معلومات لیک ہو گئی ہیں۔ بیان کے مطابق ایچ ای سی کے سائبر سکیورٹی آپریشن سینٹر کی جانب سے کی جانے والی تحقیقات سے یہ بات واضح ہوئی ہے کہ آن لائن گردش کرنے والے نمونہ ریکارڈز کا ایچ ای سی کے ڈگری اٹیسٹیشن سسٹم سے کوئی تعلق نہیں ۔ ایچ ای سی کے مطابق اس کے مرکزی نظام اور ریکارڈ کی سکیورٹی برقرار ہے اور کسی قسم کے ڈیٹا بریچ یا حساس معلومات کے افشا ہونے کے شواہد نہیں ملے۔(جاری ہے)
بیان میں کہا گیا ہے کہ عوام اور طلبہ بلا تصدیق معلومات پر یقین نہ کریں اور صرف مستند ذرائع سے جاری کردہ معلومات کو ہی اہمیت دیں۔ ایچ ای سی نے شہریوں، طلبہ اور متعلقہ حلقوں سے اپیل کی ہے کہ وہ غیر مصدقہ خبروں اور افواہوں کو آگے پھیلانے سے گریز کریں کیونکہ اس طرح کی غلط معلومات عوام میں بے چینی پیدا کرنے کا باعث بن سکتی ہیں۔ کمیشن نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ تعلیمی ریکارڈ، ڈگری اٹیسٹیشن اور دیگر ڈیجیٹل خدمات کی سکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے جدید سائبر سکیورٹی اقدامات نافذ کیے جا رہے ہیں تاکہ صارفین کا اعتماد برقرار رکھا جا سکے۔