تہجد کی نماز پڑھتا ہوں، میرے لیے وہی می ٹائم ہے، منیب نواز
اشاعت کی تاریخ: 17th, November 2025 GMT
پاکستان کے معروف فیشن ڈیزائنر منیب نواز کا کہنا ہے کہ ان کا تہجد کی نماز کا وقت ہی ان کیلئے می ٹائم ہے۔فیشن ڈیزائنر منیب نواز حال ہی میں ایک پوڈ کاسٹ میں شریک ہوئے جس دوران انہوں نے اپنے کیرئیر سمیت مختلف موضوعات پر گفتگو کی۔کیرئیر کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے منیب نواز نے کہا کہ ’کم عمری میں میرے پاس فیشن ڈیزائنر بننے کا کوئی راستہ موجود نہیں تھا لیکن میں نے سوچ رکھا تھا کہ مجھے ڈیزائنر بننا ہے اور مجھے یقین تھا کہ یہ ہوجائے گا، ہمارے خاندان میں دور دراز تک فیشن ڈیزائننگ سے کسی کا تعلق نہیں تھا، اس وقت میں پاکستان میں بھی چند ایک ہی ڈیزائنر تھے لیکن یہ سب ایک تخلیقی عمل تھا اور پھر اللہ کا شکر ہے کہ میں ڈیزائنر بن گیا‘۔دوران گفتگو می ٹائم کے حوالے سے کیے گئے سوال پر گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ’ تہجد کے وقت کی خاموشی میرے لیے میرا می ٹائم ہے اور جب ہم اپنی مشکلات لے کر عبادت کا آغاز کرتے ہیں تو عبادت ختم ہونے کے ساتھ ساتھ ہماری مشکلات بھی وہیں ختم ہوجاتی ہیں ‘ ۔منیب نواز نے مزید کہا کہ ’ اس کے ساتھ میں جم جاتا ہوں اور ذہنی صحت کو پرسکون بنانے والے میوزک بھی سنتا ہوں وہ بھی میرا می ٹاہم ہے‘۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: منیب نواز
پڑھیں:
مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔
واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔
دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔