ایرانی انٹیلیجنس کے ساتھ تعاون کرنیوالے اسرائیلی شہری شمعون ازرزر کے ایک سال پر محیط رابطے بے نقاب
اشاعت کی تاریخ: 17th, November 2025 GMT
شاباک اور پولیس کی تحقیقات میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ ایرانی انٹیلیجنس کے احکامات پر مختلف سیکیورٹی مشن انجام دیتا رہا، حساس مقامات کی تصاویر اور لوکیشنز پہنچاتا رہا، اور حتیٰ کہ اس نے ایرانی ایجنٹس کو اہم فوجی اڈوں سے اہم معلومات دینے کی پیشکش بھی کی۔ اسرائیلی چینل نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ ازرزر کو اس کے بدلے ڈیجیٹل ادائیگیوں کے ذریعے رقم بھیجی جاتی رہی۔ اسلام ٹائمز۔ ایک اسرائیلی ٹی وی چینل نے صیہونی انٹیلی جنس ایجنسی شاباک اور پولیس کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ 27 سالہ صہیونی شہری کو ایران کے لیے جاسوسی کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے، جو ایک سال سے زیادہ عرصہ تک ایرانی انٹیلیجنس اہلکاروں کے ساتھ رابطے میں تھا اور بھاری رقوم کے عوض حساس فوجی معلومات اور ائیر بیسز کی تصاویر منتقل کرتا رہا۔ اسرائیلی داخلی سلامتی کے ادارے شاباک اور پولیس نے ایک مشترکہ بیان میں دعویٰ کیا کہ شمعون ازرزر نامی 27 سالہ شخص کو ایران کے ساتھ تعاون کے الزام میں حراست میں لیا گیا ہے۔ ان کے مطابق یہ شخص ایک سال سے زیادہ عرصہ ایران کے انٹیلیجنس اہلکاروں کے ساتھ براہِ راست رابطے میں رہا۔
رپورٹ کے مطابق اسرائیل کے ایران پر حملے سے چند گھنٹے قبل ازرزر کو اپنے ایرانی رابطہ کار کی جانب سے ایک اشارہ ملا جس سے وہ حملے کے بارے میں آگاہ ہوگیا۔ میڈیا دعویٰ کرتا ہے کہ اس نے فوراً ایرانی ایجنٹ سے رابطہ کیا، جس نے اسے حکم دیا کہ وہ وزیراعظم نیتن یاہو کے گھر کے قریب کیمروں کی تنصیب کرے۔ اسرائیلی میڈیا کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ شمعون ازرزر، جو کریات یام کا رہائشی ہے، اپنی بیوی یا گرل فرینڈ کی مدد سے، جو اسرائیلی فوج کے ریزرو اور فضائیہ میں خدمات انجام دے چکی ہے، فوج اور فضائیہ کے اڈوں سے متعلق معلومات جمع کرنے میں مصروف تھا۔
شاباک اور پولیس کی تحقیقات میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ ایرانی انٹیلیجنس کے احکامات پر مختلف سیکیورٹی مشن انجام دیتا رہا، حساس مقامات کی تصاویر اور لوکیشنز پہنچاتا رہا، اور حتیٰ کہ اس نے ایرانی ایجنٹس کو اہم فوجی اڈوں سے اہم معلومات دینے کی پیشکش بھی کی۔ اسرائیلی چینل نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ ازرزر کو اس کے بدلے ڈیجیٹل ادائیگیوں کے ذریعے رقم بھیجی جاتی رہی۔ ٹی وی چینل I24 نیوز کی رپورٹ کے مطابق ازرزر پر تقریباً چار لاکھ شیکَل کا بھاری قرض ہے اور اس کا مجرمانہ ریکارڈ بھی کافی وسیع ہے۔ وہ ایک مرحلے پر ایران کا سفر کرنے کے امکان پر بھی غور کر چکا تھا۔
رپورٹ میں مبینہ طور پر ازرزر اور ایرانی ایجنٹ کے درمیان کچھ مکالمے بھی نشر کیے گئے۔ اسرائیلی چینل کا دعویٰ ہے کہ ایرانی انٹیلیجنس نے اپنے پیغامات میں اس سے نیتن یاہو کے گھر کے قریب کیمرے نصب کرنے کو کہا تھا۔ ازرزر نے، میڈیا کے بقول اپنی ایک گفتگو میں ایرانی ایجنٹ کو بتایا کہ میں ان لوگوں کا مقروض ہوں جو میرا پیچھا کر رہے ہیں، انہیں پتا چل گیا ہے کہ میں آپ سے بات کرتا ہوں۔ اس نے مزید کہا کہ مجھ پر ملک سے باہر جانے پر پابندی لگائی گئی ہے، میرے لئے پاسپورٹ کا کوئی بندوبست کرو۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: ایرانی انٹیلیجنس شاباک اور پولیس گیا ہے کہ کے ساتھ یہ بھی
پڑھیں:
کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت
نجی کارگو ایئرلائن کے ٹو ایئرویز کے حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ حادثے کی وجوہات جاننے کے منتظر ہیں۔ انہوں نے نجی کارگو کمپنی کے مالکان کی جانب سے عدم تعاون کی شکایت بھی کی ہے، متاثرین کیلئے اب تک کسی معاوضہ کا اعلان بھی نہیں ہوا۔
7 جولائی کو شارجہ سے کراچی آنے والا نجی کارگو کمپنی کے ٹو ایئرویز کا بوئنگ 737 طیارہ بلوچستان کے ساحل سے آگے گہرے سمندر میں گر کر تباہ ہو گیا تھا۔ حادثے کے مقام سے طیارے کا کچھ ملبہ ضرور ملا ہے لیکن سمندر کی تہہ میں پہنچ جانے والے طیارے کے بلیک باکس، کاکپٹ اور عملے کا تاحال کوئی سراغ نہیں مل سکا۔ متاثرین کا مطالبہ ہے کہ اس کام کیلئے غیر ملکی ماہر کمپنیوں سے مدد لی جائے۔
نجی کارگو طیارے کا ملبا تفتیشی ٹیم کے سپرد، بلیک باکس، عملے کے 5 ارکان کی تلاش جاریترجمان پاکستان ایئرپورٹ اتھارٹی (پی اے اے) کے مطابق کارگو طیارے کے مزید ملبے اور عملےکی تلاش گہرے سمندر میں جاری ہے حادثے کے شکار طیارے کے مزید پرزے اور ملبہ سمندر سے برآمد کر لیا گیا۔
شہید کپٹن رضوان کے اہل خانہ نے عملے اور طیارے کے ملبے کی تلاش کیلئے پاکستان نیوی اور دیگر اداروں پر اعتماد کا اظہار کیا لیکن کارگو کمپنی کی شدید بے حسی کی شکایت کی اور مطالبہ کیا کہ کے ٹو ایئرویز کے بیرون ملک موجود مالکان کو واپس لا کر تحقیقات میں شامل کیا جائے۔
متاثرین کے مطابق کے ٹو ایئرویز کی انتظامیہ کی بے حسی کا اندازہ اس سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ ملازمین کو 3 ماہ سے تنخواہیں نہیں ملی تھیں۔ یہ تنخواہ اس المناک حادثہ کے بعد ادا کی گئی۔
ایوی ایشن ماہرین کے مطابق بوئنگ 737 کارگو طیارے کا حادثہ کیوں اور کیسے پیش آیا، یہ اہل خانہ کو بتانا اور حادثہ متاثرین کو معاوضے کی ادائیگی یقینی بنانا حکومت اور ریاست کی ذمہ داری ہے۔