ڈاکٹر نبیہا خان نے ہنی مون کے بجائے عمرے پر جانے کی خواہش کا اظہار کردیا
اشاعت کی تاریخ: 11th, November 2025 GMT
معروف سوشل میڈیا انفلوئنسر ڈاکٹر نبیہا نے ہنی مون کی جگہ عمرے پر جانے کی خواہش کا اظہار کر دیا۔
تفصیلات کے مطابق معروف سوشل میڈیا انفلوئنسر اور ڈاکٹر نبیہا علی خان نے اپنے کم عمر دوست حارث کھوکھر سے تین روز قبل نکاح کیا ہے۔
نکاح کی یہ تقریب معروف مبلغ مولانا طارق جمیل کے گھر پر ہوئی جبکہ انہوں نے ہی نکاح پڑھایا۔
ڈاکٹر نبیہا اور اُن کے شوہر حارث کھوکھر نکاح کے بعد میڈیا پر آگئے ہیں۔ نجی ٹی وی کے مارننگ شو میں گفتگو کرتے ہوئے حارث کھوکھر نے کہا کہ انہیں پہاڑی علاقے، وادیاں پسند ہیں اور ہنی مون کیلیے ’میں نے نبیہا کو ویڈیوز بھی بھیجیں جبکہ ہمارا باکو جانے کا ارادہ تھا۔‘
حارث کھوکھر کے مطابق نبیہا نے ہنی مون کی بجائے عمرے پر جانے کی خواہش کا اظہار کیا جس کے بعد ہم نے عمرے پر جانے کا ارادہ کیا ہے۔
ڈاکٹر نبیہا علی خان نے کہا کہ وہ جلد اپنے شوہر، ساس اور سسر کے ساتھ عمرہ ادائیگی کیلیے جائیں گی۔
واضح رہے کہ مولانا طارق جمیل نے سوشل میڈیا انفلوئنسر کو اپنی بیٹی بنایا ہوا تھا اور اُن کے گھر میں ہی نکاح کی تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ ڈاکٹر نبیہا کا حق مہر ایک لاکھ روپے مقرر کیا گیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: ڈاکٹر نبیہا حارث کھوکھر
پڑھیں:
وفاقی بجٹ میں سابق قبائلی علاقوں کے لیے ٹیکس استثنیٰ ختم کیے جانے کا امکان
اسلام آباد:نئے مالی سال 2026-27ء کے وفاقی بجٹ میں سابق قبائلی علاقوں کے لیے ٹیکس استثنیٰ ختم کیے جانے کا امکان ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے حکومت نے فاٹا اور پاٹا کو حاصل مختلف ٹیکس رعایتوں میں مزید توسیع نہ دینے کا اصولی فیصلہ کیا ہے جس کے تحت 30 جون 2026ء کے بعد انکم ٹیکس اور ود ہولڈنگ ٹیکس استثنیٰ ختم ہو سکتا ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان آئندہ مالی سال کے بجٹ کے حوالے سے جاری مذاکرات میں آئی ایم ایف نے ٹیکس کی چھوٹ اور رعایتوں میں مزید کمی کا مطالبہ کیا ہے۔ آئندہ مالی سال کے بجٹ میں ٹیکس کی چھوٹ اور رعایتیں مزید کم کرنے سے تقریباً 40 ارب روپے حاصل ہونے کا امکان ہے۔
وفاقی حکومت نے 30 جون 2026ء کے بعد ٹیکس چھوٹ میں مزید توسیع نہ دینے کا فیصلہ کیا ہے اور آئندہ مالی سال کے بجٹ میں مختلف ٹیکس استثنیٰ ختم کر کے محصولات اکٹھے کرنے کا منصوبہ تیار کیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق سابق فاٹا اور پاٹا کے لیے انکم ٹیکس استثنیٰ 30 جون 2026ء کو ختم ہو جائے گا جبکہ یکم جولائی 2026ء کے بعد فاٹا اور پاٹا کے رہائشی افراد اور کمپنیوں پر عام ٹیکس قوانین لاگو ہونے کا امکان ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ فاٹا اور پاٹا میں سیلز ٹیکس بھی مرحلہ وار بڑھائے جانے کا امکان ہے اس سلسلے میں سابق فاٹا اور پاٹا کی صنعتوں پر سیلز ٹیکس 10 فیصد سے بڑھا کر 12 فی صد کیے جانے کی تجویز زیر غور ہے جبکہ سابق قبائلی علاقوں میں درآمدی صنعتی خام مال پر بھی 12 فی صد سیلز ٹیکس عائد ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق فاٹا اور پاٹا کے لیے ود ہولڈنگ ٹیکس استثنیٰ بھی یکم جولائی 2026ء کو ختم ہونے کا امکان ہے۔
الیکٹرک گاڑیوں کے سی کے ڈی کٹس پر سیلز ٹیکس چھوٹ یکم جولائی 2026ء سے ختم ہونے کا امکان ہے جبکہ مقامی طور پر تیار یا اسمبل کی جانے والی الیکٹرک گاڑیوں پر ایک فی صد سیلز ٹیکس 30 جون 2026ء تک نافذ رہے گا۔ اسی طرح ہائبرڈ الیکٹرک گاڑیوں پر رعایتی سیلز ٹیکس کی مدت بھی 30 جون 2026ء کو ختم ہو جائے گی اور اس میں مزید رعایت دیے جانے کا امکان نہیں ہے۔
ذرائع کے مطابق قبائلی علاقوں میں بجلی کی فراہمی پر سیلز ٹیکس استثنیٰ 30 جون 2026 تک برقرار رہے گا جبکہ مقامی طور پر تیار کردہ سائلوز پر سیلز ٹیکس چھوٹ بھی 30 جون 2026 کو ختم ہو جائے گی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ یکم جولائی سے پٹرولیم مصنوعات پر کلائمٹ سپورٹ لیوی دگنی کیے جانے کا امکان ہے اس کے تحت پٹرولیم مصنوعات پر کلائمٹ سپورٹ لیوی 2.5 روپے فی لیٹر سے بڑھا کر 5 روپے فی لیٹر وصول کی جا سکتی ہے آئندہ مالی سال کے دوران کلائمٹ سپورٹ لیوی کی مد میں 90 ارب روپے سے زائد وصول ہونے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔