شادی کے لہنگے کی قیمت پر ڈاکٹر نبیہا کی وضاحت سامنے آگئی
اشاعت کی تاریخ: 10th, November 2025 GMT
کراچی:
سوشل میڈیا انفلوئنسر ڈاکٹر نبیحہ علی خان نے وضاحت دی ہے کہ شادی کے لہنگے کی قیمت کروڑوں میں نہیں تھی بلکہ خوشی کے باعث ان کی زبان پھسل گئی۔
نئی نویلی دلہن نبیحہ علی خان گزشتہ دنوں اپنی شادی میں پہنے گئے زیورات اور لہنگے کی قیمت کے دعووں کی وجہ سے خبروں اور سوشل میڈیا پر تنقید کی زد میں رہیں جس کے بعد انہوں نے ایک ویڈیو بیان کے ذریعے وضاحت پیش کی۔
اپنے بیان میں نبیحہ علی خان نے کہا کہ کبھی کبھار انسان خوشی میں ایسی بات کہہ دیتا ہے جو حقیقت سے بڑھا چڑھا کر لگتی ہے، میں نے بھی لاکھوں کی چیز کروڑوں کی بتا دی۔
خود سے کئی سال کم عمر دیرینہ دوست سے شادی کرنے والی نبیحہ علی خان نے کہا کہ لوگوں نے اس بات کو مذاق بنالیا، حالانکہ یہ محض ایک زبان پھسلنے کی بات تھی۔
مزید پڑھیں: ڈیڑھ کروڑ میں 35 کلو سونا کہاں ملتا ہے؟ مشی خان نے ڈاکٹر نبیہا کو آڑے ہاتھوں لے لیا
انہوں نے ہنستے ہوئے کہا کہ اگر میں کروڑ، پچاس کروڑ یا ڈھائی سو کروڑ کا ڈریس بھی پہنوں تو آپ لوگوں کو اس سے کیا فرق پڑتا ہے؟
آخر میں نبیحہ علی خان نے مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ چھوٹی چھوٹی باتوں پر ٹینشن لینے کے بجائے کبھی خوش بھی ہوجایا کریں۔
یاد رہے کہ ڈاکٹر نبیہا نے اپنی شادی کے موقع پر دعویٰ کیا تھا کہ انہوں نے جو جیولری سیٹ پہنا ہے اس کا وزن کلو اور قیمت ڈیڑھ کروڑ روپے ہے جبکہ انکے لہنگے کی قیمت بھی ایک کروڑ روپے بتائی گئی تھی۔
ڈاکٹر نبیہا علی خان کو اپنے زیورات اور عروسی لباس کی قیمت سے متعلق متنازع بیانات کے باعث سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔
اداکارہ و میزبان مشی خان نے ڈاکٹر نبیہا کے دعوؤں پر طنزیہ ردعمل دیتے ہوئے کہا تھا کہ پینتیس کلو کا سیٹ تو امبانی کی شادی میں بھی کسی نے نہیں پہنا ہوگا، آخر کون سی دکان ہے جہاں ڈیڑھ کروڑ روپے میں پینتیس کلو سونا مل رہا ہے؟۔
انہوں نے مزید کہا کہ سونے کی قیمت تو آسمان کو چھو رہی ہے، اگر واقعی ایسی کوئی دکان ہے جہاں اتنا سونا ڈیڑھ کروڑ میں ملتا ہے تو ہم سب بھی وہیں سے خریداری کرنے جائیں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: نبیحہ علی خان نے لہنگے کی قیمت ڈاکٹر نبیہا ڈیڑھ کروڑ انہوں نے کہا کہ
پڑھیں:
کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔ اسلام ٹائمز۔ پشاور کی احتساب عدالت نے اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل سے 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم جاری کردیا۔ پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔ احتساب عدالت نے ملزم دوراج خان کی جانب سے دائر پلی بارگین درخواست کے تناظر میں 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔ فیصلے کے مطابق نیب خیبر پختونخوا اپر کوہستان میں جعلی بلوں اور بوگس دعوؤں کے ذریعے سرکاری فنڈز میں کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے، ملزم کے قریبی رشتہ داروں کے نام پر کھولے گئے بینک اکاؤنٹس میں موجود 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے ضبط کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ ملزم دوراج خان اس مقدمے میں گرفتار ہے اور جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہے اور دوران تفتیش انکشاف ہوا کہ ملزم نے مبینہ کرپشن کی رقم چھپانے کےلیے بیشام کے نجی بینک میں قریبی رشتہ داروں کے نام پر اکاؤنٹس کھلوائے۔ فیصلے میں کہا گیا کہ ملزم کے رشتہ داروں محمد اقبال، محمد ایاز، محمد عمر، کریم داد اور سربلند نے عدالت میں رضاکارانہ بیانات قلم بند کرائے اورمؤقف اختیار کیا کہ انہیں اپنے نام پر موجود اکاؤنٹس میں جرائم سے حاصل شدہ رقم کا علم نہیں تھا۔ احتساب عدالت نے کہا ہے کہ ملزم کے رشتہ داروں نے تمام رقوم بحق سرکار ضبط کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور رقم پر کسی قسم کا دعویٰ نہ کرنے کا بیان دیا۔