پشپا اسٹارز رشمیکا مندانا اور وجے دیوراکونڈا کی شادی کی تاریخ سامنے آگئی
اشاعت کی تاریخ: 9th, November 2025 GMT
پشپا اسٹارز رشمیکا مندانا اور وجے دیوراکونڈا کی شادی سے متعلق نئی اطلاعات نے مداحوں کو خوشی میں مبتلا کردیا۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق رشمیکا اور وجے نے گزشتہ ماہ 3 اکتوبر 2025 کو حیدرآباد میں ایک نجی تقریب کے دوران منگنی کی تھی۔ تقریب وجے دیوراکونڈا کی رہائش گاہ پر منعقد ہوئی جس میں صرف قریبی رشتہ دار اور چند قریبی دوست شریک ہوئے۔
اگرچہ دونوں کی جانب سے اب تک کسی قسم کا باضابطہ اعلان سامنے نہیں آیا، تاہم ایک ویڈیو میں رشمیکا کی انگلی میں انگوٹھی دیکھنے کے بعد ان کی منگنی اور شادی سے متعلق خبریں زور پکڑ گئی ہیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ جب رشمیکا سے ان کی نئی فلم تھما کی تشہیر کے دوران منگنی کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے مسکرا کر صرف اتنا کہا کہ سب کو اس کے بارے میں معلوم ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق دونوں اداکاروں کا آئندہ سال فروری 2026 میں شادی کے بندھن میں بندھنے کا ارادہ ہے، تاہم رشمیکا اور وجے کی جانب سے منگنی یا شادی کے حوالے سے کوئی باضابطہ اعلان سامنے نہیں آیا۔
رشمیکا مندانا اور وجے دیوراکونڈا نے پہلی بار 2018 میں فلم گیتا گوندھم میں ایک ساتھ کام کیا تھا جس کے بعد دونوں کی جوڑی مداحوں میں بے حد مقبول ہوگئی۔ اب ان کی شادی کی خبروں نے ایک بار پھر ان کے پرستاروں کو بےچینی سے انتظار میں مبتلا کر دیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: وجے دیوراکونڈا اور وجے
پڑھیں:
ماریہ شہباز کیس: وفاقی آئینی عدالت نے نظرثانی درخواست پر اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو نوٹس جاری کر دیے
وفاقی آئینی عدالت نے اسلام قبول کرکے شادی کرنے والی ماریہ شہباز سے متعلق نظرثانی درخواست پر وفاقی اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو نوٹس جاری کرتے ہوئے ان سے معاونت طلب کر لی، جبکہ مقدمے کی مزید سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دی۔
جسٹس حسن اظہر رضوی کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے درخواست کی سماعت کی۔ دوران سماعت درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ ماریہ شہباز کم عمر تھی اور اسے ورغلا کر مذہب تبدیل کروایا گیا، جبکہ عدالت نے اپنے سابق فیصلے میں کم سن بچی کے نکاح کو درست قرار دیا۔
یہ بھی پڑھیں:پنجاب میں لاپتا لڑکیوں میں سے 80 فیصد نے پسند کی شادیاں کیں، پولیس کی لاہور ہائیکورٹ کو رپورٹ
جسٹس حسن اظہر رضوی نے استفسار کیا کہ سابق عدالتی فیصلے میں غلطی کیا ہے؟ درخواست گزار کے وکیل نے جواب دیا کہ قانون کے مطابق شادی کے لیے 18 سال عمر کی حد مقرر ہے اور قانون کے خلاف ہونے والی شادی برقرار نہیں رہ سکتی۔
اس پر جسٹس حسن اظہر رضوی نے ریمارکس دیے کہ قانون میں کم عمری کی شادی پر سزا کا ذکر تو موجود ہے، تاہم نکاح کو خودکار طور پر منسوخ قرار دینے کی کوئی شق موجود نہیں۔ انہوں نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ اگر کم عمری میں شادی ہو جائے تو قانون اس صورت حال کا کیا حل فراہم کرتا ہے۔
عدالت نے مزید ریمارکس دیے کہ ماریہ شہباز نے ڈسٹرکٹ کورٹ سے لے کر وفاقی آئینی عدالت تک کسی بھی مرحلے پر یہ مؤقف اختیار نہیں کیا کہ اس کے ساتھ زبردستی کی گئی تھی۔ جسٹس حسن اظہر رضوی نے کہا کہ اگر درخواست گزار اس مؤقف پر اصرار کرتا ہے تو عدالت اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب سے قانونی معاونت حاصل کر لیتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پسند کی شادی کیخلاف گاؤں نذرِ آتش کرنیکا واقعہ، وزیراعلیٰ سندھ کا سخت نوٹس
عدالت نے سماعت کے دوران وفاقی اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو نوٹس جاری کرتے ہوئے مقدمے کی مزید سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دی۔
واضح رہے کہ وفاقی آئینی عدالت نے 26 مارچ کو ماریہ شہباز کو والد کے حوالے کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے قرار دیا تھا کہ تنسیخ نکاح کے لیے متعلقہ فریق سول کورٹ سے رجوع کر سکتے ہیں۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ حبسِ بے جا اور حوالگی کی درخواستوں کی سماعت کے دوران نکاح کی تنسیخ کا فیصلہ نہیں کیا جا سکتا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
چائلڈ میرج قبول اسلام ماریہ شہباز وفاقی آئینی عدالت