حیرت ہے اکشے سے میری منگنی میں ابتک لوگوں کی دلچسپی ہے، روینہ ٹنڈن
اشاعت کی تاریخ: 8th, November 2025 GMT
بالی ووڈ کی سینئر اداکارہ روینہ ٹنڈن نے اس بات پر حیرت کا اظہار کیا ہے کہ انکی اکشے کمار سے ہونے والی منگنی پر اب بھی دلچسپی کیوں لی جاتی ہے؟ حالانکہ اب بھی لڑکیاں ہر ہفتے بوائے فرینڈ تبدیل کرتی ہیں۔
بہت سے اداکار اپنی نجی زندگی کو پس پردہ رکھنا چاہتے ہیں، لیکن مداح اکثر انکے ساتھ ایک طرح کا فرضی تعلق محسوس کرتے ہیں۔ اسی وجہ سے مشہور شخصیات کی ریلیشن شپ پرانے ہی کیوں نہ ہو، وہ آن لائن زیرِ بحث رہتے ہیں۔
ایسی ہی کچھ صورتحال روینہ ٹنڈن اور اکشے کمار کے ساتھ ہے۔ ان دونوں میں 1990 کی دہائی میں مراسم رہے اور پھر انکی منگنی بھی ہوئی، لیکن بعد میں انکی راہیں جدا ہوگئیں اور طویل عرصہ گزرنے کے اب یہ دونوں اپنی زندگیوں میں مصروف اور خوش ہیں۔
جب روینہ سے ان کے سابق منگیتر کے بارے میں پوچھا گیا اور اس بات پر کہ لوگ آج بھی ان دونوں کے بارے میں آن لائن سوال کرتے ہیں، تو 53 سالہ روینہ نے حیرت سے کہا کہ آخر اس میں اتنی بڑی بات کیا ہے؟
ایک پوڈکاسٹ میں جب ان سے پوچھا گیا کہ یہ کس سال ہوا تھا، تو انھوں نے جواب دیا کہ انھیں یاد نہیں، فلم مہرا کے دوران ہماری بہت ہٹ جوڑی تھی اور آج بھی جب ہم سماجی تقریبات میں ملتے ہیں تو خوشدلی سے بات کرتے ہیں۔ یعنی ہم اس سے بہت آگے بڑھ چکے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ کالجوں میں لڑکیاں ہر ہفتے بوائے فرینڈ بدل رہی ہیں اور ایسا ہمیشہ ہوتا رہا ہے، لیکن ایک منگنی جو ٹوٹ گئی، وہ اب تک لوگوں کو میرے سر پر نظر آتا ہے، پتہ نہیں کیوں؟
انھوں نے کہا کہ لوگ طلاق لیتے ہیں اور زندگی میں آگے بڑھ جاتے ہیں، تو اس میں بڑی بات کیا ہے؟ جب ان سے اکشے کے بارے میں ایک وائرل رپورٹ کے بارے میں پوچھا گیا کہ وہ آپ سے ملتی جلتی لڑکیوں سے ڈیٹنگ کرتے رہے ہیں، تو انھوں نے کہ میں نے ایسا کچھ نہیں پڑھا تو پھر بلاوجہ کیوں اپنا بلڈ پریشر ہائی کریں۔
یاد رہے کہ روینہ نے 2004 میں فلم ڈسٹری بیوٹر انیل تھنڈانی سے شادی کرلی تھی جن سے اب ان کے دو بچے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: کے بارے میں انھوں نے
پڑھیں:
اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
راہنماؤں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کے مفادات کے تحفظ اور توسیع کے لیے مسلسل سہولت کاری کی جا رہی ہے، جس کا مقصد فلسطینی عوام کے جائز حقوق کو نظرانداز کرتے ہوئے صہیونی ریاست کے توسیع پسندانہ عزائم کو عملی شکل دینا ہے۔’’ابراہیمی معاہدہ‘‘ بین المذاہب ہم آہنگی کا عنوان استعمال کرتے ہوئے مسلم ممالک کو اسرائیل کیساتھ تعلقات استوار کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش ہے، حالانکہ اس کے پس پردہ سیاسی اہداف اور مقاصد کسی سے پوشیدہ نہیں۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان شریعت کونسل کے امیر مولانا زاہدالراشدی اور انصار اُلامہ پاکستان کے امیر مولانا فضل الرحمن خلیل نے سعودی عرب کے ممتاز علماء کی جانب سے اتحاد مذاہب کے بارے میں جاری کردہ فتوے کی بھرپور تائید کرتے ہوئے کہا ہے کہ نام نہاد ابراھیمی معاہدہ درحقیقت اسرائیل کو خطے میں مستقل حیثیت دلانے اور ’’گریٹر اسرائیل‘‘ کے توسیع پسندانہ منصوبے کی راہ ہموار کرنے کی ایک خطرناک کوشش ہے، جسے عالم اسلام کسی صورت قبول نہیں کرے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلام آباد میں باہمی ملاقات کے دوران کیا۔ اس موقع پر پاکستان شریعت کونسل کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل مولانا عبدالرؤف محمدی، سیکرٹری اطلاعات پروفیسر حافظ محمد منیر، مولانا جمیل الرحمن فاروقی، حاجی صلاح الدین فاروقی، مفتی محمد نعمان، مولانا محمد معاویہ، سردار زاہد منان اور دیگر راہنما بھی موجود تھے۔ راہنماؤں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کے مفادات کے تحفظ اور توسیع کے لیے مسلسل سہولت کاری کی جا رہی ہے، جس کا مقصد فلسطینی عوام کے جائز حقوق کو نظرانداز کرتے ہوئے صہیونی ریاست کے توسیع پسندانہ عزائم کو عملی شکل دینا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’’ابراہیمی معاہدہ‘‘ بین المذاہب ہم آہنگی کا عنوان استعمال کرتے ہوئے مسلم ممالک کو اسرائیل کیساتھ تعلقات استوار کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش ہے، حالانکہ اس کے پس پردہ سیاسی اہداف اور مقاصد کسی سے پوشیدہ نہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اسرائیل نے گزشتہ کئی دہائیوں سے فلسطینی سرزمین پر ناجائز قبضہ کر رکھا ہے، لاکھوں فلسطینیوں کو ان کے گھروں سے بے دخل کیا گیا، بیت المقدس کی حیثیت تبدیل کرنے کی کوششیں کی گئیں اور غزہ سمیت فلسطینی علاقوں میں انسانیت سوز مظالم کا سلسلہ جاری ہے۔ ایسے حالات میں اسرائیل کو تسلیم کرنے یا اس کیساتھ معمول کے تعلقات قائم کرنے کا کوئی جواز موجود نہیں۔ مولانا زاہد الراشدی اور مولانا فضل الرحمن خلیل نے کہا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی نسبت کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنا اور اس کے نام پر مختلف مذاہب کو ایک ایسے نظریاتی فریم ورک میں جمع کرنے کی کوشش کرنا جس سے اسلامی عقائد و تعلیمات متاثر ہوں، قابل قبول نہیں۔ انہوں نے کہا کہ قرآن کریم کی تعلیمات اور امت مسلمہ کے اجماعی عقائد کی روشنی میں اسلام اپنی مستقل شناخت اور نظریاتی اساس رکھتا ہے جسے کسی مصنوعی عنوان کے تحت خلط ملط نہیں کیا جا سکتا۔
اجلاس کے شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان اور سعودی عرب سمیت تمام مسلم ممالک کو اسرائیل کے توسیع پسندانہ عزائم اور گریٹر اسرائیل کے منصوبے کے خلاف مشترکہ مؤقف اختیار کرنا چاہیے اور ایسی ہر کوشش کو سختی سے مسترد کر دینا چاہیے جو فلسطینی کاز کو نقصان پہنچانے یا صہیونی ریاست کو مزید تقویت دینے کا باعث بنے۔ انہوں نے عالم اسلام کے حکمرانوں، دینی قیادت اور عوام سے اپیل کی کہ وہ مسئلہ فلسطین کے حوالے سے اپنے تاریخی، دینی اور اخلاقی موقف پر ثابت قدم رہیں اور بیت المقدس اور فلسطینی عوام کے حقوق کے تحفظ کے لیے متحدہ کردار ادا کریں۔ اس موقع پر شرکاء نے فلسطینی عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے عوام ہمیشہ کی طرح فلسطینی بھائیوں کے حق خود ارادیت، آزادی اور ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی جدوجہد کی حمایت جاری رکھیں گے۔