سہیل آفریدی اپنے لیڈر کی جنگ لڑیں لیکن وہ عدالت سے ہی ممکن ہوگی۔ ایمل ولی
اشاعت کی تاریخ: 8th, November 2025 GMT
عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر ایمل ولی خان نے کہا ہے کہ سہیل آفریدی ٹکراؤ کی بجائے آئین و قانون کا راستہ اپنائیں،سہیل آفریدی اپنے لیڈر کی جنگ لڑیں لیکن وہ عدالت سے ہی ممکن ہوگی۔ بیان میں ایمل ولی نے کہا کہ صوبے کے چیف ایگزیکٹو کا ٹکراؤ کی طرف جانا خیبر پختونخوا کے عوام کے حق میں نہیں ہے۔ ایمل ولی خان نے کہا کہ وزیراعلیٰ کی کرسی پر بیٹھے شخص کی جانب سے ذمہ داری کا احساس لازم ہے، وزیراعلیٰ کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام اور ریاست کے بیچ فاصلے کم اور بداعتمادی ختم کریں۔ انہوں نے کہا کہ اگر حالات اسی طرح رہے تو آخر ہمارے صوبے کا مستقبل کیا ہوگا؟ سہیل آفریدی اپنے لیڈر کی جنگ لڑیں لیکن وہ عدالت سے ہی ممکن ہوگی، وزیراعلیٰ ٹکراؤ کی بجائے آئین و قانون کا راستہ اپنائیں اور صوبے کے لیے بھی کچھ کریں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان
12 سال پہلے یہ منصوہہ 25 ارب روپے مکمل ہو جانا تھا، تاہم اب اس کی لاگت 200 ارب روپے سے زائد ہو چکی ہے اور آنے والے وقت تخمینی لاگت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔ اسلام ٹائمز۔ شہر قائد میں اضافی پانی کا منصوبہ ’کے فور‘ کی تکمیل میں مزید تین سال لگ سکتے ہے، جبکہ منصوبے کا اصل کام تو ابھی شروع ہی نہیں ہوا، جب وہ ہوگا تو شہر کی مرکزی سڑکیں متاثر ہوگی، حکام نے بتایا کہ 12 سال پہلے یہ منصوہہ 25 ارب روپے مکمل ہو جانا تھا، تاہم اب اس کی لاگت 200 ارب روپے سے زائد ہو چکی ہے اور آنے والے وقت تخمینی لاگت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔ تفصیلات کے مطابق کراچی میں پانی کی طلب 1 ارب 20 کروڑ گیلن ہے، جبکہ رسد 65 کروڑ گیلن ہے شہر کو مزید پانی فراہم کرنے کیلئے کے فور منصوبہ بنانے کا اعلان کیا تھا، لیکن حکومتین تبدیل ہوتی رہی لیکن یہ منصوبہ 20 سال سے زیر التواء ہے۔ 2014ء میں اس منصوبے کو وفاق اور سندھ حکومت نے مل کر بنانا تھا، جس کی لاگت 25 ارب روپے بتائی گئی تھی لیکن پھر کھٹائی میں پڑ گیا، تاہم پھر اس کو واپڈا کو دیا گیا اور اس کی مکمل ہونے کی ڈیڈ لائن بھی دی گئی لیکن اس میں مکمل نہیں ہو سکا۔ کئی ڈیڈ لائن گزر گئیں لیکن منصوبہ مکمل نہیں ہوسکا، تاہم اب وفاقی وزیر احسن اقبال نے دسمبر 2026ء کی ڈیڈ لائن دی ہے۔
کے فور منصوبہ 2026ء میں بھی مکمل نہیں ہو سکے گا، اس کی مکمل ہونے کا امکان 2029ء کی جنوری تک ہے۔ کے فور منصوبے پر وفاق کی جانب سے تین کام کئے جانے ہیں، جن میں ٹراسمیشن لائن، پمپنگ اسٹیشن اور فلٹر پلانٹ بنانے کے کام کی ذمہ داری ہے، جبکہ سندھ حکومت کے پاس چار کام کرنے تھے، اس میں اراضی مہیا کرنا، آگمینٹیشن، الیکٹرک سپلائی اور اری گیشن کی ذمہ داری تھی، جو کینچھر جیل سے پانی فراہم کرنے میں مدد کریگا۔ اس منصوبے کا ابھی بہت کام کرنا باقی ہے، آگمیٹیشن کا نیپا سے حسن اسکوائر کا نومبر 2025ء سے اب تک کام مکمل نہیں ہوسکا، بلکہ بین الاقومی مالیاتی ادارے نے اس کو غیر معیاری قرار دے دیا ہے اور ابھی تو بہت کام باقی ہے، جب یہ لائنیں شہر کی مرکزی راستوں میں ڈالی جائیں گی اس وقت شہریوں کو آمدورفت میں مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑیگا۔