اسٹاک مارکیٹ میں گزشتہ ہفتے مسلسل مندی: غیر یقینی حالات نے سرمایہ کاروں کو پریشان کر دیا
اشاعت کی تاریخ: 8th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی اسٹاک ایکسچینج میں گزشتہ ہفتے کے دوران بھی مندی کا سلسلہ برقرار رہا جب کہ غیر یقینی صورتحال نے مجموعی طور پر سرمایہ کاروں کے اعتماد کو بری طرح متاثر کیا۔
ہفتے کے دوران مارکیٹ کے چار کاروباری سیشن مندی کی لپیٹ میں رہے جبکہ صرف آخری سیشن میں معمولی تیزی دیکھی گئی۔
گزشتہ ہفتے کے دوران انسٹیٹیوشنز اور میوچل فنڈز کی جانب سے بڑے پیمانے پر حصص کی فروخت جاری رہی جس سے مارکیٹ میں دباؤ بڑھا۔
اپ سائیڈ پرافٹ ٹیکنگ کے باعث اتار چڑھاؤ کے بعد مارکیٹ مجموعی طور پر مندی کی لپیٹ میں آگئی۔ بھارت سے متصل سرحدی علاقوں میں فوجی مشقوں سے بڑھتی کشیدگی اور افغان جانب سے اشتعال انگیزی نے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو مزید کمزور کیا۔
لسٹڈ کمپنیوں کی جانب سے غیر تسلی بخش مالیاتی نتائج کے باعث بھی حصص فروخت کا رجحان نمایاں رہا جب کہ کچھ مثبت خبروں ، جیسے دسمبر تک پی آئی اے کی نجکاری کے عمل کی تکمیل اور آئی ایم ایف سے اگلی قسط کی منظوری کی توقعات کے باوجود سرمایہ کار محتاط دکھائی دیے۔
مارکیٹ کے اعداد و شمار کے مطابق مجموعی سرمایہ کاری میں 2 کھرب 74 ارب 80 کروڑ روپے سے زائد کی کمی ریکارڈ کی گئی، جس کے بعد مارکیٹ کی مجموعی مالیت گھٹ کر 182 کھرب 86 ارب 83 کروڑ 37 لاکھ روپے کی سطح پر آگئی۔
کاروباری ہفتے کے اختتام پر 100 انڈیکس 2,038.
اقتصادی ماہرین کے مطابق اسٹاک مارکیٹ کا رجحان آئندہ ہفتے بھی غیر یقینی سیاسی اور علاقائی حالات، خصوصاً بھارت و افغانستان کی صورتحال اور آئی ایم ایف کی پیش رفت پر منحصر ہوگا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ہفتے کے
پڑھیں:
سینٹ پیٹرزبرگ انٹرنیشنل اکنامک فورم، پاکستانی اعلیٰ سطحی وفد شرکت کریگا
سینٹ پیٹرزبرگ روس کا سب سے بڑا اور عالمی سطح پر اہم اقتصادی ایونٹ، سینٹ پیٹرزبرگ انٹرنیشنل اکنامک فورم 2026ء کل 3 جون سے روس کے تاریخی شہر سینٹ پیٹرزبرگ میں شروع ہو رہا ہے، جس میں دنیا بھر کے 130 سے زائد ممالک کے حکومتی، کاروباری اور اقتصادی راہنما شرکت کریں گے، پاکستان بھی فورم میں اعلیٰ سطحی وفد کے ساتھ شرکت کر رہا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستانی وفد کی قیادت وفاقی وزیر توانائی (پیٹرولیم ڈویژن) علی پرویز ملک کریں گے، وفد میں وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر، روس میں پاکستان کے سفیر فیصل نیاز ترمذی، سفارتخانے کی وزیر تجارت و سرمایہ کاری شبانہ ممتاز، قونصلر حبیب منیر، سیکنڈ سیکرٹری جوشوا ایڈون آرتھر اور سینٹ پیٹرزبرگ میں پاکستان کے اعزازی قونصل جنرل عبدالرؤف رند بھی شامل ہیں۔ 4 روزہ فورم میں عالمی معیشت، توانائی، تجارت، سرمایہ کاری، ڈیجیٹل ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، صنعتی ترقی، ٹرانسپورٹ، خوراک اور بین الاقوامی اقتصادی تعاون سمیت متعدد اہم موضوعات پر اعلیٰ سطحی اجلاس، مباحثے اور کاروباری ملاقاتیں منعقد ہوں گی۔
روسی صدر ولادیمیر پوتن فورم کے مرکزی پلینری اجلاس سے خطاب کریں گے، جبکہ دنیا کے مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے حکومتی راہنما، وزراء، سرمایہ کار، صنعتکار اور بین الاقوامی تنظیموں کے نمائندے بھی فورم میں شریک ہوں گے۔ پاکستانی وفد کی شرکت کو روس اور پاکستان کے درمیان اقتصادی اور تجارتی تعلقات کے فروغ کے لیے اہم قرار دیا جا رہا ہے، توقع ہے کہ فورم کے دوران پاکستانی نمائندے روسی حکام، سرمایہ کاروں اور کاروباری شخصیات کے ساتھ ملاقاتیں کریں گے، جن میں توانائی، پیٹرولیم، صنعت، تجارت اور سرمایہ کاری کے شعبوں میں تعاون بڑھانے کے امکانات پر بات چیت ہوگی۔ مبصرین کے مطابق پاکستان اس وقت توانائی، معدنیات، انفراسٹرکچر اور صنعتی شعبوں میں بیرونی سرمایہ کاری کے حصول پر خصوصی توجہ دے رہا ہے جبکہ روس کے ساتھ اقتصادی تعاون کے نئے مواقع تلاش کرنا بھی حکومتی ترجیحات میں شامل ہے۔
فورم میں شرکت پاکستان کو نہ صرف روس بلکہ دیگر ممالک کے سرمایہ کاروں اور کاروباری اداروں کے ساتھ براہ راست رابطوں کا موقع فراہم کرے گی، ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے بین الاقوامی پلیٹ فارمز پاکستان کے لیے سرمایہ کاری، برآمدات اور اقتصادی شراکت داریوں کے فروغ میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔واضح رہے کہ سینٹ پیٹرزبرگ انٹرنیشنل اکنامک فورم 3 سے 6 جون تک جاری رہے گا اور اسے روس کا سب سے بڑا بین الاقوامی اقتصادی فورم تصور کیا جاتا ہے، اس سال فورم کا موضوع "عملی مکالمہ ایک مستحکم مستقبل کی جانب"رکھا گیا ہے، جس میں عالمی معیشت کو درپیش چیلنجز اور مستقبل کے مواقع پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔