چینی سرمایہ کاروں کی ملاقات: انڈسٹریل زون، پارک میں بہترین پوٹینشل، ٹیکس چھوٹ، ڈیوٹی امپورٹ پر ریلیف دینگے: مریم نواز
اشاعت کی تاریخ: 7th, November 2025 GMT
لاہور (نوائے وقت رپورٹ) مریم نواز سے چین کے نمایاں سرمایہ کاروں کے وفد نے ملاقات کی۔ ملاقات میں چینی سرمایہ کاروں نے پنجاب میں انویسٹمنٹ کے لئے گہری دلچسپی کا اظہارکیا۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے چینی وفد میں خواتین سرمایہ کاروں کو دیکھ کر مسرت کا اظہار کیا۔ مریم نواز نے چینی سرمایہ کاروں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب میں سرمایہ کاری کا بہترین پوٹینشل موجود ہے۔ پنجاب میں پہلی مرتبہ زیروٹائم ٹو سٹارٹ پالیسی متعارف کرائی گئی ہے۔ زیروٹائم ٹو سٹارٹ پالیسی متعارف کرانے کا مقصد سرمایہ کاروں کی بھرپور معاونت اور حوصلہ افزائی ہے۔ پنجاب سرمایہ کاری کے مواقع کے لحاظ سے بہترین دور سے گزر رہا ہے۔ پنجاب کے انڈسٹریل زون اور انڈسٹریل پارک سرمایہ کاری کے لئے بہترین پوٹینشل رکھتے ہیں۔ سرمایہ کاروں کے لئے ٹیکس ہالی ڈے اور ڈیوٹی امپورٹ ریلیف بھی دیا جائے گا۔ انفراسٹرکچر، آئی ٹی سیکٹر اور میڈیکل ٹورزم کے شعبے غیر ملکی سرمایہ کاری کے لئے بہترین ہیں۔ گزشتہ سال دورہ چین کے بعد میڈیکل اور دیگر شعبوں میں جدت متعارف کرا رہے ہیں۔ پنجاب میں رئیل اسٹیٹ انفراسٹرکچر سرمایہ کو جلد منافع میں بدل سکتا ہے۔ روڈا کا پراجیکٹ انفراسٹرکچر کے لحاظ سے ایک مثال ہو گا۔ پنجاب میں پہلی مرتبہ 10ماہ میں ایک لاکھ سے زائد گھر بنا کر مثال قائم کر دی۔ ٹورزم میں ترقی کی وجہ سے سیاحوں کے لئے مزید معیاری ہوٹلوں کی ضرورت محسوس کی جا رہی ہے۔ پنجاب میں پہلی مرتبہ گلاس ٹرین اور ہائی سپیڈ ٹرین متعارف کرانے جا رہے ہیں۔ سب سے بڑے میڈیکل ڈسٹرکٹ کے قیام کے لئے بہت بڑا خطہ مختص کیا گیا ہے۔ پنجاب میں بزنس آن لائن ہے، فائل اور پیپر نہیں آج اپلائی کریں اور کل سے شروع کریں۔ ملاقات میں مختلف چینی کمپنیوں کے اعلیٰ عہدیداروں نے وزیراعلیٰ سے تعارف کرایا اور پنجاب کے مختلف سیکٹرز میں سرمایہ کاری کے لئے دلچسپی کا اظہار کیا۔ چینی سرمایہ کاروں کے وفد نے وزیراعلیٰ کا شکریہ بھی ادا کیا۔ یوم شہدائے کشمیر پر اپنے خصوصی پیغام میں کہا ہے 6 نومبر 1947میں لاکھوں نہتے کشمیری قابض بھارتی فوج نے بے دردی سے شہید کیا۔ یہ دن لاکھوں شہید کشمیری مسلمانوں کی یاد میں منایا جاتا ہے۔ مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام مسلسل 78 برس سے آزادی کے لئے قربانیاں دے رہے ہیں۔ اقوام متحدہ اور عالمی برادری کو کشمیر ی پربھارتی مظالم کا نوٹس لینا چاہیے۔ مریم نواز برازیل کے شہر بیلم میں کوپ 30 اجلاس میں شرکت کے لئے چلی گئیں۔ کوپ 30اجلاس میں پنجاب کے فلیگ شپ پراجیکٹس پر بریفنگ دیں گی۔ وزیراعلیٰ ستھرا پنجاب اور ای موبلٹی کے بارے میں شرکاء کو آگاہ کریں گی۔ کلائمیٹ ریزیلینٹ ریجنل لیڈرشپ کے اجلاس سے خطاب بھی کریں گی۔ پنجاب میں وائلڈ لائف ریفارمز کے بارے میں آگاہ کیا جائے گا۔ ایشین انفراسٹرکچر انویسٹمنٹ بنک اور ایشین ڈویلپمنٹ بنک کے نائب صدر سے ملاقات بھی شیڈول میں شامل ہے۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف ورلڈ بنک کلائمیٹ چینج اور گلوبل گرین انسٹیٹیوٹ ڈائریکٹرز سے ملاقات کریں گی۔ مریم نواز نے ایون فیلڈ کے باہر میڈیا سے گفتگو میں کہا ہے کہ دنیا پاکستان کو تبدیل شدہ روپے کے ساتھ دیکھ رہی ہے۔ ایسا پاکستان کے ہاتھوں بھارتی شکست کے بعد ہوا پنجاب میں ہوئے کام عالمی سطح پر لیکر جا رہے ہیں پنجاب کو چلانا آسان کام نہیں تھا سی سی ڈی کے باعث لوگوں کی زندگیاں محفوظ ہیں کارکردگی میں شہبازشریف کا ریکارڈ نہیں توڑا بلکہ میں ان کی ایکسٹینشن ہوں پنجاب کی عوام کی طرف سے جو پیار ملا وہ کبھی سوچ بھی نہیں سکتی۔ حملے کے بعد جس طرح پاکستان نے جواب دیا اس کا کریڈٹ فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت اور پوری فوج کو جاتا ہے۔ پنجاب میں جرائم کی شرح نیچے آئی ہے اور خواتین خود کو محفوظ تصور کر رہی ہیں 51 فیصد خواتین اگر اپنا حصہ نہیں ڈالیں گی تو پاکستان ترقی کیسے کرے گا ہتک عزت کے قوانین بنا دیئے ہیں اب کسی کی پگڑی نہیں اچھلے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
ایرانی ٹماٹر بھی ریلیف نہ لا سکے، کراچی میں قیمتیں آسمان پر
کراچی کی ایمپریس مارکیٹ کی سبزی منڈی میں صبح سے ہی خریداروں کا رش تھا، مگر ایک چیز ہر چہرے پر مشترک نظر آئی۔۔۔ مایوسی۔
ایک خاتون دکاندار سے ٹماٹر کا ریٹ پوچھتی ہیں۔ جواب ملتا ہے: 500 روپے کلو۔ وہ چند لمحے خاموش رہتی ہیں، پھر بغیر ٹماٹر لیے آگے بڑھ جاتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ٹماٹروں کی فی کلو قیمت 600 روپے سے بھی تجاوز کر گئی، سبب کیا ہے؟
یہ منظر اب کراچی کے کئی بازاروں میں معمول بنتا جا رہا ہے۔
چند ہفتے پہلے امید بندھی تھی کہ ایران سے ٹماٹروں کی آمد شروع ہوگی تو شاید قیمتیں نیچے آ جائیں گی، مگر یہ امید بھی مہنگائی کی نذر ہو گئی۔
آج بھی شہر کے مختلف علاقوں میں ایرانی اور کوئٹہ سے آنے والے ٹماٹر 450 سے 500 روپے فی کلو فروخت ہو رہے ہیں، جبکہ کم معیار کے ٹماٹر بھی 400 روپے سے کم دستیاب نہیں۔
’اب سالن کے لیے ٹماٹر نہیں، دہی اور املی ڈال رہے ہیں‘کراچی کی تاریخی ایمپریس مارکیٹ میں شہریوں نے بتایا کہ بہت سے گھروں کے لیے ٹماٹر اب روزمرہ کی سبزی نہیں بلکہ ایک سوچ سمجھ کر خریدی جانے والا کچن آئٹم بن چکا ہے۔
ایک شہری نے قدرے مایوس لہجے میں استفسار کیا کہ 500 روپے کلو ٹماٹر غریب آدمی کیسے خریدے۔ ’بیشترلوگ اب سالن میں ٹماٹر کے بجائے دہی یا املی استعمال کر رہے ہیں کیونکہ گھر کا خرچ پورا کرنا مشکل ہو گیا ہے۔
ایک اور بزرگ نے سوالیہ انداز میں کہا کہ مزدور کی دیہاڑی 8 یا 9 سو روپے ہو تو وہ ایک کلو ٹماٹر خریدے یا بچوں کے لیے آٹا، سبزی اور دودھ لے۔
بازار میں موجود کئی خریداروں نے یہی شکایت دہرائی کہ انہیں بتایا گیا تھا کہ ایران سے ٹماٹر آرہے ہیں، لیکن قیمت میں وہ کمی نہیں آئی جس کی امید تھی۔
قیمتیں آخر کم کیوں نہیں ہو رہیں؟سبزی فروشوں اور تاجروں کے مطابق مسئلہ صرف درآمدات کا نہیں، بلکہ سپلائی چین کا بھی ہے۔
سبزی فروشوں کے مطابق ایران سے روزانہ تقریباً 10 کنٹینرز ٹماٹر کراچی پہنچ رہے ہیں لیکن یہ مقدار شہر کی طلب کے مقابلے میں ناکافی سمجھی جا رہی ہے۔
اس کے علاوہ تقریباً 30 فیصد مال خراب ہو جاتا ہے، جس سے مارکیٹ میں دستیاب مقدار مزید کم ہو جاتی ہے۔
دوسری جانب کوئٹہ سے سپلائی محدود ہے، سندھ کی نئی فصل ابھی مکمل طور پر مارکیٹ میں نہیں آئی، جبکہ حالیہ بارشوں اور نقل و حمل کے بڑھتے ہوئے اخراجات نے بھی قیمتوں کو اوپر رکھا ہوا ہے۔
50 روپے مالیت کے 2 ٹماٹرچند ماہ پہلے یہی ٹماٹر 80 سے 100 روپے فی کلو میں دستیاب تھے، بعد ازاں قیمت 120، پھر 300، اور اب 500 روپے فی کلو تک جا پہنچی ہے۔
بازار میں اب صورتِ حال یہ ہے کہ 50 سے 60 روپے میں صرف 2 یا 3 چھوٹے ٹماٹر دستیاب ہیں۔
یہ اضافہ صرف ایک سبزی کی قیمت میں نہیں، بلکہ عام آدمی کی قوتِ خرید میں مسلسل کمی کی عکاسی بھی کرتا ہے۔
عوام کو وجوہات نہیں، ریلیف چاہیےایمپریس مارکیٹ میں آئے شہریوں کا مؤقف تقریباً یکساں تھا، ان کا کہنا تھا کہ اگر ایران سے درآمدات ہو رہی ہیں تو اس کا فائدہ بھی صارف تک پہنچنا چاہیے۔
عوام سپلائی، بارشوں یا خراب مال کی وجوہات ضرور سمجھتے ہیں، لیکن ان کے لیے اصل سوال یہ ہے کہ گھر کا بجٹ کیسے چلے؟
مزید پڑھیں: قیمتوں میں ہوشربا اضافہ، ’مرغی میں ٹماٹر ڈالیں یا ٹماٹر میں مرغی‘
ایک شہری نے جاتے جاتے صرف اتنا کہا کہ ٹماٹر پر ہی موقف نہیں، اب تو سبزی، دال اور گوشت، سب کچھ عام آدمی کی پہنچ سے دور ہوتا جا رہا ہے۔
شاید یہی ایک تبصرہ رائے عامہ کا اہم خلاصہ بھی تھا کیونکہ جب روزمرہ کھانے کا بنیادی جزو بھی ایک خاندان کے کچن بجٹ پر بوجھ بننا شروع ہوجائے تو مسئلہ ہر اس خاندان کا بن جاتا ہے جو مہنگائی کے ساتھ روز ایک نئی جنگ لڑ رہا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آٹا ایران ایمپریس مارکیٹ بارش ٹماٹر دسترخوان دودھ ریلیف سبزی سندھ طلب قوت خرید کچن بجٹ کراچی کنٹینرز مہنگائی نقل وحمل