data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کراچی (اسٹاف رپورٹر)امیرجماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ ہمارے 9ٹاؤنز چیئرمینوں کی کارکردگی قابض میئر کی کارکردگی کے مقابلے میں کہیں زیادہ بہتر ہے، ہم تو چاہتے ہیں کہ تعلیم،صحت، عوامی خدمت اور تعمیر وترقی میں مقابلہ ہولیکن پیپلزپارٹی کا ان کاموں سے کوئی تعلق نہیں، کراچی کے اداروں اور وسائل پر قابض صوبائی حکومت نے کراچی کو صرف کھانے کمانے اور مال بنانے کا ذریعہ بنارکھا ہے، وسائل تو لیتی ہے لیکن مسائل حل نہیں کرتی،اختیارات و وسائل کی کمی کے باوجود ہمارے تمام ٹاؤنز میں تعمیر وترقی کا سفر شروع ہوچکا ہے، ہمارا عزم ہے کہ اختیارات سے بڑھ کر عوامی خدمت کا عمل جاری رکھیں گے،پیپلزپارٹی رکاوٹیں ڈالنے کے بجائے ٹاؤن،یوسیز کو فنڈز دے، فارم 47والی حکومت اور قبضہ میئر شپ کو تسلیم نہیں کرتے، کراچی کے ترقیاتی منصوبے تو شروع ہوجاتے ہیں لیکن مکمل ہونے کا نام نہیں لیتے، ریڈ لائن کے نام پر پوری یونیورسٹی روڈ کو کھود کر رکھ دیا ہے، کریم آباد انڈر پاس اور گرین لائن کا بقیہ حصہ مکمل نہیں کیا جارہا،انفرااسٹرکچر تباہ حال، سڑکیں ٹوٹی پھوٹی لیکن ای چالان کے نام پر اہل کراچی کے جیبوں پر ڈاکا ڈالا جارہا ہے، کراچی کو لوٹنے و تباہ و برباد کرنے والا وڈیرہ شاہی مائنڈ سیٹ اب مزید نہیں چلے گا،سسٹم کو اب خیرآباد کہنے کا وقت آگیا ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے ٹی ایم سی نارتھ ناظم آباد کے تحت پارک بارہ دری بلاک Aمیں نارتھ ناظم آباد کے عوام کے لیے تکمیل شدہ اور آئندہ کے ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے منعقدہ تقریب و پریس بریفنگ اور ٹی ایم سی نیو کراچی کے تحت پاور ہاؤس چورنگی سے نیو کراچی نمبر 3تک نئی تعمیر شدہ سڑک کے افتتاح کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے کیا۔حافظ نعیم الرحمن نے نارتھ ناظم آباد ٹاؤن کے آئندہ کے منصوبوں کے حوالے سے تختی کی نقاب کشائی بھی کی اور نیو کراچی میں معروف نعت گو شاعر اعجاز رحمانی کے نام سے منسوب سڑکوں کا افتتاح کیا۔ تقریب سے امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر خان،امیر ضلع شمالی طارق مجتبیٰ، ٹاؤن چیئرمین نیو کراچی ٹاؤن محمد یوسف ودیگر نے بھی خطاب کیا۔اس موقع پر نائب امیر کراچی و اپوزیشن لیڈر کے ایم سی سیف الدین ایڈووکیٹ، سیکرٹری کراچی توفیق الدین صدیقی، سینئر ڈپٹی سیکرٹری اطلاعات صہیب احمد ودیگر بھی موجود تھے۔نارتھ ناظم آباد ٹاؤن کے چیئرمین عاطف علی خان نے صحافیوں کو پریس بریفنگ دی۔ اس موقع پر جماعت اسلامی ضلع وسطی کے امیرسید وجیہ حسن، وائس چیئرمین ضیا جامعی،سیکرٹری اطلاعات زاہد عسکری سمیت ذمے داران اور علاقہ مکینوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔حافظ نعیم الرحمن نے ٹاؤن چیئرمین نارتھ ناظم آباد عاطف علی خان اور ٹاؤن چیئرمین نیو کراچی محمد یوسف اور ان کی ٹیم کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ مشکل حالات میں بھی انہوں نے منصوبہ بندی اور محنت سے اپنے اپنے ٹاؤنز میں ترقیاتی کاموں کا آغاز کیا۔ اگلے چند مہینوں میں تمام گلیوں اور بلاکس میں ترقیاتی منصوبے مکمل کیے جائیں گے۔حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ کراچی کے عوام نے بلدیاتی انتخابات میں جماعت اسلامی پر اعتماد کا اظہار کیا مگر سندھ حکومت نے اختیارات کی منتقلی میں رکاوٹیں ڈال کر جمہوریت کے اصولوں کی نفی کی، پیپلز پارٹی نے شہر کے تمام بلدیاتی اداروں کو مفلوج کر دیا ہے، یہاں تک کہ کچرا اٹھانے سے لے کر سڑکوں کی تعمیر تک کے اختیارات بھی ٹاؤنز کو نہیں دیے گئے، سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ کے نام پر اربوں روپے کی کرپشن جاری ہے جبکہ عوامی نمائندوں کو اختیارات سے محروم رکھا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی کے 9 ٹاؤنز میں اب ترقی کا نیا دور شروع ہو گیا ہے۔ نارتھ ناظم آباد میں برسوں پرانے نکاسی آب کے مسائل حل کیے گئے ہیں، سڑکوں اور گلیوں کی کارپٹنگ،پارکس، اسکولز اور ڈسپنسریز کی بہتری بھی ترجیحی بنیادوں پر کی جا رہی ہے۔ نارتھ ناظم آباد کے سرکاری اسکولوں کو ماڈل اسکولوں میں تبدیل کیا جائے گا تاکہ متمول طبقہ بھی ان میں اپنے بچوں کو فخر سے داخل کروائے۔حافظ نعیم الرحمن نے مزید کہا کہ کراچی کو 15 ہزار بسوں کی ضرورت ہے، مگر سندھ حکومت صرف چند سو بسیں لا کر عوام کو دھوکا دے رہی ہے۔ پبلک ٹرانسپورٹ نہ ہونے کے باعث پورا شہر چنگ چی رکشوں اور موٹر سائیکل پر چل رہا ہے، خواتین،بزرگ اور طلبہ و طالبات روزانہ شدید اذیت کا شکار ہوتے ہیں،ای چالان کے نام پر شہریوں سے ہزاروں روپے وصول کیے جا رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی خدمت و دیانت، تعمیر و ترقی اور عوامی حقوق کی جدوجہد کو ساتھ لے کر چل رہی ہے۔ ہم حکومت میں نہ ہوتے ہوئے بھی عوام کی خدمت کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’’بنو قابل‘‘ پروگرام نوجوانوں کے لیے ایک انقلابی منصوبہ ہے، جو لاکھوں نوجوانوں کو باصلاحیت اور خود کفیل بنانے کے لیے پلیٹ فارم فراہم کر رہا ہے۔ یہ پروگرام لسانی و علاقائی تفریق کے بغیر ملک بھر کے نوجوانوں کو ایک لڑی میں پرو رہا ہے۔حافظ نعیم الرحمن نے نیو کراچی میں نئی سڑک کی تعمیر و افتتاح کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہاکہ بے شمار ایسی چیزیں جو ٹاؤن کے ماتحت نہیں ہے، اس کے باوجود ہمارے ٹاؤن اپنے بجٹ سے کام کروارہے ہیں۔وہ کام جس کی براہ راست ذمے داری واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن کی ہے، وہ کام بھی ٹاؤن کی ٹیم کررہی ہے۔ جماعت اسلامی اس وقت شہر کراچی میں سب سے بڑی جماعت ہے۔ بلدیاتی انتخابات میں کراچی کے عوام نے جماعت اسلامی کو سب سے زیادہ ووٹ اور سیٹیں دیں۔ پیپلز پارٹی نے اسٹبلشمنٹ کی مدد سے جماعت اسلامی کی جیتی ہوئی نشستیں چھینی۔ ہمارے 4ٹاؤنز اور میئر شپ میں ڈاکا ڈالا،عوام کو آئندہ ہمیں ووٹ بھی بڑے پیمانے پر ڈالنے ہوں گے اور ووٹ کا تحفظ بھی کرنا ہوگا۔اسی طرح مینڈیٹ کا تحفظ اور شہر میں تعمیر و ترقی ہوسکتی ہے۔جماعت اسلامی صرف دعوے نہیں کرتی بلکہ موقع ملتا ہے تو کام کرتی ہے۔ جماعت اسلامی کی پوری ٹیم نے ثابت کیا ہے کہ ہم اختیارات سے بڑھ کر کام کریں گے اور بقیہ اختیارات بھی حاصل کریں گے۔ظالمانہ نظام کو بدلنے کی جدوجہد کو تیز کرنی ہے۔ ظلم کے اس نظام میں چند لوگوں کی اجارہ داری ہے۔انگریز کے بنائے ہوئے نظام کو بدلنا ہوگا۔21، 22اور 23 نومبر کو نظام کی تبدیلی کے لیے جماعت اسلامی کے لاہور اجتماع عام میں شرکت کریں۔ محمد یوسف نے کہاکہ امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن کو نیو کراچی ٹاؤن آمد پر خوش آمدید کہتے ہیں۔آج نیو کراچی ٹاؤن میں تعمیر و ترقی کا سفر تیزی سے جاری ہے۔آج تک صوبائی حکومت نے ترقیاتی فنڈ کی مد میں ایک ٹکا بھی نہیں دیا۔ ہم قابض مئیر مرتضیٰ وہاب کو چیلنج کرتے ہیں کہ وہ آئیں اور نیو کراچی ٹاؤن میں ہونے والے ترقیاتی کاموں کا کے ایم سی سے مقابلہ کرلیں۔ قابض مئیر واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن کے چیئرمین ہیں، ان کا کام ہے کہ وہ شہریوں کو بلا تفریق پانی فراہم کریں۔ آج سے 2 سال قبل ہر طرف تباہی و نا اہلی نظر آ رہی تھی۔ ہم نے اہلیان نیو کراچی کو واٹر پارک کا تحفہ 8 ہزار سے زائد اسٹریٹ لائٹس لگائیں۔ 10 لاکھ اسکوائر فٹ پیور بلاکس لگائے اور گلیوں کو پکا کیا ہے۔ نیو کراچی ٹاؤن کو سوئی سدرن کی طرف سے دی گئی رقم پر سب سے زیادہ پریشانی قابض مئیر مرتضیٰ وہاب کو ہوئی۔نیو کراچی ٹاؤن کے سرکاری اسکولز میں بچوں کے لیے ڈیکس موجود نہیں تھیں۔ ہم 30 کمروں پر مشتمل ماڈل اسکول بنانے جارہے ہیں اورمزید 2 اسکولوں کو اپ گریڈ کیا جارہا ہے۔ اسکولوں کے بچوں کی حوصلہ افزائی کے لیے لیپ ٹاپ کی تقسیم اورکاپیاں،کتابیں وبیگز بھی مفت فراہم کیے گئے،ہمارے ٹاؤن کے ایسے ملازمین و افسران جو اپنے واجبات کے لیے پریشان تھے، انہیں اب تک 10 کروڑ روپے کے واجبات ادا کیے جاچکے ہیں۔ گزشتہ 20 سال سے جن گھرانوں کو لائن میں پانی نہیں ملا کرتا تھا انہیں پانی پہنچایا۔ہم نے 9 کروڑ روپے سیوریج کے مسائل پر خرچ کیے ہیں جبکہ سیوریج کا کام واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن کا کام ہماری ذمے داری نہیں ہے۔ہمارا عزم ہے کہ آئندہ دنوں میں 600 گلیوں پر پیور بلاکس لگائے جائیں گے۔ 600 گلیوں میں سے 100 سے زائد گلیاں مکمل ہوچکی ہیں۔

امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن بارہ دری بلاک Aمیں ٹی ایم سی نارتھ ناظم آباد کے تحت عوام کے لیے تکمیل شدہ اور آئندہ کے ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے منعقدہ تقریب سے خطاب کررہے ہیں

اسٹاف رپورٹر سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: حافظ نعیم الرحمن نے نارتھ ناظم ا باد کے نیو کراچی ٹاو ن ٹاو ن چیئرمین جماعت اسلامی سیوریج کا نے کہا کہ کے نام پر انہوں نے کراچی کے کراچی کو ٹاو ن کے ٹاو نز ایم سی رہی ہے کے لیے

پڑھیں:

پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا

پاکستان کی جغرافیائی حیثیت محض ایک زمینی ریاست کی نہیں بلکہ ایک ایسے ملک کی ہے جس کے مفادات خشکی، سمندر اور خطے کی مجموعی سلامتی سے یکساں طور پر وابستہ ہیں۔ اسی لیے جب مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے شعلے بلند ہوتے ہیں تو ان کی تپش صرف جنگ میں شریک ممالک تک محدود نہیں رہتی بلکہ عالمی تجارت، توانائی کی رسد، بحری راستوں، علاقائی معیشتوں اور سفارتی توازن کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔

آج بحیرہ احمر، باب المندب اور آبنائے ہرمز صرف آبی گزرگاہیں نہیں رہیں بلکہ عالمی طاقتوں کی کشمکش، علاقائی رقابتوں اور غیر ریاستی مسلح گروہوں کی حکمت عملی کا مرکز بن چکی ہیں۔ ایسے ماحول میں پاکستان کی جانب سے اپنے بحری مفادات اور سعودی عرب کی سلامتی کے بارے میں دوٹوک اور واضح موقف اختیار کرنا نہ صرف ایک ذمے دار ریاست کی علامت ہے بلکہ یہ اس حقیقت کا اظہار بھی ہے کہ قومی سلامتی کی تعریف اب سرحدوں تک محدود نہیں رہی، بلکہ سمندری راستے، تجارتی جہاز، بندرگاہیں اور توانائی کی سپلائی لائنیں بھی اسی قدر اہم قومی مفادات کا حصہ بن چکی ہیں۔

 پاکستان نے جس واضح انداز میں یہ اعلان کیا ہے کہ پاکستانی پرچم بردار جہازوں، بحری تنصیبات یا سمندری مفادات کے خلاف کسی بھی جارحیت کو قومی سلامتی کے خلاف حملہ تصور کیا جائے گا، وہ دراصل بین الاقوامی قانون کے بنیادی اصولوں کی توثیق بھی ہے اور قومی خودمختاری کے تحفظ کا منطقی اظہار بھی۔ دنیا کی کوئی بھی ذمے دار ریاست اپنی تجارت، بحری نقل و حمل اور اقتصادی شہ رگوں کو خطرات کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑ سکتی۔

پاکستان کی بڑی بندرگاہیں، برآمدات، درآمدات اور توانائی کی ضروریات عالمی بحری راستوں سے وابستہ ہیں، اس لیے ان راستوں میں پیدا ہونے والی بے یقینی براہِ راست قومی معیشت پر اثر انداز ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام آباد کی جانب سے یہ واضح پیغام دینا کہ قومی بحری مفادات کے دفاع کے لیے ہر ضروری اقدام کیا جائے گا، دراصل ایک فطری ریاستی ذمے داری ہے، نہ کہ محض سفارتی بیان۔

 بحیرہ احمر میں حوثی حملوں اور تجارتی جہازوں کو دی جانے والی دھمکیوں نے عالمی تجارت کو غیر معمولی اضطراب میں مبتلا کر دیا ہے۔ ماضی میں قزاقی کو سمندری تجارت کے لیے سب سے بڑا خطرہ سمجھا جاتا تھا، مگر اب منظم مسلح گروہ جدید میزائلوں، ڈرونز اور بحری حملوں کی صلاحیت کے ذریعے پوری عالمی سپلائی چین کو یرغمال بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

اس صورتحال نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ غیر ریاستی عناصر بھی ایسے وسائل حاصل کر چکے ہیں جن کے ذریعے وہ عالمی معیشت پر ریاستوں سے کم اثر نہیں ڈال سکتے۔ یہی وجہ ہے کہ متعدد آئل ٹینکروں نے اپنے راستے تبدیل کیے اور یورپی بحری اداروں نے بھی تجارتی جہازوں کو احتیاطی ہدایات جاری کیں، جو اس بحران کی سنگینی کا واضح ثبوت ہے۔

حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب سے وابستہ تجارتی سرگرمیوں کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں صرف ایک ملک کے خلاف کارروائی نہیں بلکہ بین الاقوامی تجارت کی آزادی پر حملہ ہیں۔ سمندری راستوں کی آزادی بین الاقوامی قانون کا بنیادی اصول ہے، جس پر عالمی تجارت کا پورا نظام قائم ہے، اگر کسی گروہ کو یہ حق دے دیا جائے کہ وہ سیاسی یا عسکری مقاصد کے لیے تجارتی جہازوں کی نقل و حرکت روک دے تو پھر عالمی تجارت مسلسل خوف اور غیر یقینی کا شکار ہو جائے گی۔ پاکستان کی تشویش اسی تناظر میں نہایت برمحل ہے کیونکہ اس کی تجارت کا بڑا حصہ بھی انھی عالمی بحری راستوں سے وابستہ ہے۔

 پاکستان نے سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے لیے اپنی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کر کے نہ صرف دونوں ممالک کے تاریخی تعلقات کو مضبوط کیا ہے بلکہ ایک اصولی موقف بھی اختیار کیا ہے۔ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات کئی دہائیوں پر محیط اعتماد، مذہبی وابستگی، اقتصادی تعاون اور دفاعی اشتراک پر استوار ہیں۔ اس لیے اگر کسی بحران کے ذریعے سعودی عرب کو براہِ راست جنگ میں گھسیٹنے یا اس کے تجارتی مفادات کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی جاتی ہے تو پاکستان کا اس پر تشویش ظاہر کرنا ایک ذمے دار دوست اور شراکت دار ریاست کے کردار کی عکاسی کرتا ہے۔

اس وقت اصل تشویش صرف بحیرہ احمر تک محدود نہیں رہی بلکہ امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی عسکری کشیدگی نے پورے خطے کو ایک نئے اور زیادہ خطرناک مرحلے میں داخل کر دیا ہے۔ دونوں ممالک کی جانب سے مسلسل سخت بیانات، ایک دوسرے کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں اور فوجی کارروائیوں کا دائرہ وسیع ہونے کے امکانات اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ جنگ اب محدود رہنے کے بجائے تدریجاً علاقائی شکل اختیار کر سکتی ہے۔ جب عسکری کارروائیوں کا ہدف پل، بجلی گھر، توانائی کے مراکز اور دیگر شہری تنصیبات بن جائیں تو اس کے اثرات براہِ راست عام شہریوں پر مرتب ہوتے ہیں۔

اس تمام منظرنامے کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ بین الاقوامی قانون اور سمندری ضابطوں کا احترام مسلسل کمزور پڑ رہا ہے، اگر بحری گزرگاہوں کو سیاسی دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال کیا جانے لگا تو مستقبل میں دنیا کے دیگر حساس سمندری راستے بھی اسی نوعیت کے تنازعات کا شکار ہو سکتے ہیں۔ اس لیے عالمی برادری کی ذمے داری ہے کہ وہ آزادی جہاز رانی، تجارتی تحفظ اور شہری بنیادی ڈھانچے کے احترام کو ہر حال میں یقینی بنانے کے لیے موثر اقدامات کرے۔

پاکستان کے لیے موجودہ حالات ایک واضح پیغام رکھتے ہیں کہ بحری سلامتی کو قومی سلامتی کی حکمت عملی کا مزید مضبوط حصہ بنایا جائے۔ بحری افواج کی استعداد، ساحلی نگرانی، بندرگاہوں کی حفاظت، تجارتی جہازوں کی سیکیورٹی اور بین الاقوامی بحری تعاون کو مزید موثر بنانا وقت کی ضرورت ہے۔ گوادر اور کراچی جیسے اہم بندرگاہی مراکز صرف قومی معیشت کے ستون نہیں بلکہ علاقائی تجارت کے اہم مراکز بھی ہیں، جن کا تحفظ ہر حال میں یقینی بنایا جانا چاہیے۔

اس بحران میں پاکستان کے لیے سفارتی توازن بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ ایک جانب سعودی عرب سمیت خلیجی ممالک کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں تو دوسری جانب ایران ایک ہمسایہ اور اہم علاقائی ملک ہے۔ اس لیے پاکستان کا کردار اشتعال انگیزی میں اضافہ کرنے کے بجائے کشیدگی کم کرنے، رابطے بڑھانے اور مذاکرات کی حمایت کرنے کا ہونا چاہیے۔ یہی وہ راستہ ہے جو پاکستان کی خارجہ پالیسی کی روایات، قومی مفادات اور علاقائی امن کے تقاضوں سے مطابقت رکھتا ہے۔

عالمی طاقتوں کو بھی یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ طاقت کے ذریعے حاصل ہونے والی کامیابیاں عارضی ہوتی ہیں، جب کہ ان کے نتیجے میں پیدا ہونے والا عدم استحکام کئی دہائیوں تک برقرار رہ سکتا ہے۔ مشرق وسطیٰ پہلے ہی جنگوں، پابندیوں، پراکسی تنازعات اور بیرونی مداخلتوں کے باعث شدید نقصان اٹھا چکا ہے، اگر موجودہ کشیدگی کو بروقت نہ روکا گیا تو اس کے اثرات صرف جنگ میں شامل ممالک تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری عالمی معیشت، توانائی کے نظام اور بین الاقوامی امن کو اپنی لپیٹ میں لے لیں گے۔

پاکستان کا حالیہ موقف اسی لیے اہم ہے کہ اس میں اپنے قومی اور بحری مفادات کے تحفظ کا واضح اعلان بھی موجود ہے، سعودی عرب کی سلامتی کے ساتھ اصولی یکجہتی بھی اور بالواسطہ یہ پیغام بھی کہ سمندری راستوں کو جنگی حکمت ِ عملی کا ہدف بنانا کسی کے مفاد میں نہیں۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ اشتعال انگیز بیانات، عسکری دھمکیوں اور جوابی کارروائیوں کے بجائے سنجیدہ سفارت کاری، علاقائی مکالمے اور بین الاقوامی قانون کی بالادستی کو ترجیح دی جائے، اگر بنیادی ڈھانچے، توانائی کے مراکز، بحری راستوں اور تجارتی جہازوں کو جنگ کا مستقل ہدف بنا دیا گیا تو دنیا ایک ایسے بحران میں داخل ہو سکتی ہے جس کے اثرات نسلوں تک محسوس کیے جائیں گے۔ امن صرف جنگ نہ ہونے کا نام نہیں بلکہ ایسا بین الاقوامی نظم ہے جس میں تجارت محفوظ ہو، ریاستوں کی خودمختاری محترم رہے، شہری تنصیبات محفوظ ہوں اور اختلافات کا فیصلہ میدان جنگ کے بجائے مذاکرات کی میز پر ہو۔ یہی وہ راستہ ہے جو مشرق وسطیٰ کو مزید تباہی سے بچا سکتا ہے اور یہی وہ سوچ ہے جس کی آج پوری دنیا کو سب سے زیادہ ضرورت ہے۔

متعلقہ مضامین

  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • نذیر احمد جنجوعہ قائم مقام سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان مقرر
  • گل فیروزہ، سدرہ امین اور نشرہ سندھو کی شاندار کارکردگی، پاکستان نے سری لنکا کیخلاف پہلا پہلے ون ڈے جیت لیا
  • فیفا نے ورلڈ کپ 2026 کی ٹیم آف دی ٹورنامنٹ کا اعلان کر دیا
  • ٹیسلا نے بچوں کے لیے نئی بیلنس بائیک متعارف کرا دی، قیمت کتنی ہے؟
  • جماعت اسلامی کے سیکریٹری جنرل امیرالعظیم انتقال کرگئے
  • جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
  • مصنوعی مٹھاس دماغی صحت کے لیے خطرہ؟ نئی تحقیق میں یادداشت متاثر ہونے کا اشارہ