ہمارے ٹاؤن چیئرمینوں کی کارکردگی قابض میئر سے کہیں زیادہ بہترہے ، حافظ نعیم الرحمن
اشاعت کی تاریخ: 3rd, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251103-01-24
کراچی (اسٹاف رپورٹر)امیرجماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ ہمارے 9ٹاؤنز چیئرمینوں کی کارکردگی قابض میئر کی کارکردگی کے مقابلے میں کہیں زیادہ بہتر ہے، ہم تو چاہتے ہیں کہ تعلیم،صحت، عوامی خدمت اور تعمیر وترقی میں مقابلہ ہولیکن پیپلزپارٹی کا ان کاموں سے کوئی تعلق نہیں، کراچی کے اداروں اور وسائل پر قابض صوبائی حکومت نے کراچی کو صرف کھانے کمانے اور مال بنانے کا ذریعہ بنارکھا ہے، وسائل تو لیتی ہے لیکن مسائل حل نہیں کرتی،اختیارات و وسائل کی کمی کے باوجود ہمارے تمام ٹاؤنز میں تعمیر وترقی کا سفر شروع ہوچکا ہے، ہمارا عزم ہے کہ اختیارات سے بڑھ کر عوامی خدمت کا عمل جاری رکھیں گے،پیپلزپارٹی رکاوٹیں ڈالنے کے بجائے ٹاؤن،یوسیز کو فنڈز دے، فارم 47والی حکومت اور قبضہ میئر شپ کو تسلیم نہیں کرتے، کراچی کے ترقیاتی منصوبے تو شروع ہوجاتے ہیں لیکن مکمل ہونے کا نام نہیں لیتے، ریڈ لائن کے نام پر پوری یونیورسٹی روڈ کو کھود کر رکھ دیا ہے، کریم آباد انڈر پاس اور گرین لائن کا بقیہ حصہ مکمل نہیں کیا جارہا،انفرااسٹرکچر تباہ حال، سڑکیں ٹوٹی پھوٹی لیکن ای چالان کے نام پر اہل کراچی کے جیبوں پر ڈاکا ڈالا جارہا ہے، کراچی کو لوٹنے و تباہ و برباد کرنے والا وڈیرہ شاہی مائنڈ سیٹ اب مزید نہیں چلے گا،سسٹم کو اب خیرآباد کہنے کا وقت آگیا ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے ٹی ایم سی نارتھ ناظم آباد کے تحت پارک بارہ دری بلاک Aمیں نارتھ ناظم آباد کے عوام کے لیے تکمیل شدہ اور آئندہ کے ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے منعقدہ تقریب و پریس بریفنگ اور ٹی ایم سی نیو کراچی کے تحت پاور ہاؤس چورنگی سے نیو کراچی نمبر 3تک نئی تعمیر شدہ سڑک کے افتتاح کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے کیا۔حافظ نعیم الرحمن نے نارتھ ناظم آباد ٹاؤن کے آئندہ کے منصوبوں کے حوالے سے تختی کی نقاب کشائی بھی کی اور نیو کراچی میں معروف نعت گو شاعر اعجاز رحمانی کے نام سے منسوب سڑکوں کا افتتاح کیا۔ تقریب سے امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر خان،امیر ضلع شمالی طارق مجتبیٰ، ٹاؤن چیئرمین نیو کراچی ٹاؤن محمد یوسف ودیگر نے بھی خطاب کیا۔اس موقع پر نائب امیر کراچی و اپوزیشن لیڈر کے ایم سی سیف الدین ایڈووکیٹ، سیکرٹری کراچی توفیق الدین صدیقی، سینئر ڈپٹی سیکرٹری اطلاعات صہیب احمد ودیگر بھی موجود تھے۔نارتھ ناظم آباد ٹاؤن کے چیئرمین عاطف علی خان نے صحافیوں کو پریس بریفنگ دی۔ اس موقع پر جماعت اسلامی ضلع وسطی کے امیرسید وجیہ حسن، وائس چیئرمین ضیا جامعی،سیکرٹری اطلاعات زاہد عسکری سمیت ذمے داران اور علاقہ مکینوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔حافظ نعیم الرحمن نے ٹاؤن چیئرمین نارتھ ناظم آباد عاطف علی خان اور ٹاؤن چیئرمین نیو کراچی محمد یوسف اور ان کی ٹیم کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ مشکل حالات میں بھی انہوں نے منصوبہ بندی اور محنت سے اپنے اپنے ٹاؤنز میں ترقیاتی کاموں کا آغاز کیا۔ اگلے چند مہینوں میں تمام گلیوں اور بلاکس میں ترقیاتی منصوبے مکمل کیے جائیں گے۔حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ کراچی کے عوام نے بلدیاتی انتخابات میں جماعت اسلامی پر اعتماد کا اظہار کیا مگر سندھ حکومت نے اختیارات کی منتقلی میں رکاوٹیں ڈال کر جمہوریت کے اصولوں کی نفی کی، پیپلز پارٹی نے شہر کے تمام بلدیاتی اداروں کو مفلوج کر دیا ہے، یہاں تک کہ کچرا اٹھانے سے لے کر سڑکوں کی تعمیر تک کے اختیارات بھی ٹاؤنز کو نہیں دیے گئے، سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ کے نام پر اربوں روپے کی کرپشن جاری ہے جبکہ عوامی نمائندوں کو اختیارات سے محروم رکھا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی کے 9 ٹاؤنز میں اب ترقی کا نیا دور شروع ہو گیا ہے۔ نارتھ ناظم آباد میں برسوں پرانے نکاسی آب کے مسائل حل کیے گئے ہیں، سڑکوں اور گلیوں کی کارپٹنگ،پارکس، اسکولز اور ڈسپنسریز کی بہتری بھی ترجیحی بنیادوں پر کی جا رہی ہے۔ نارتھ ناظم آباد کے سرکاری اسکولوں کو ماڈل اسکولوں میں تبدیل کیا جائے گا تاکہ متمول طبقہ بھی ان میں اپنے بچوں کو فخر سے داخل کروائے۔حافظ نعیم الرحمن نے مزید کہا کہ کراچی کو 15 ہزار بسوں کی ضرورت ہے، مگر سندھ حکومت صرف چند سو بسیں لا کر عوام کو دھوکا دے رہی ہے۔ پبلک ٹرانسپورٹ نہ ہونے کے باعث پورا شہر چنگ چی رکشوں اور موٹر سائیکل پر چل رہا ہے، خواتین،بزرگ اور طلبہ و طالبات روزانہ شدید اذیت کا شکار ہوتے ہیں،ای چالان کے نام پر شہریوں سے ہزاروں روپے وصول کیے جا رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی خدمت و دیانت، تعمیر و ترقی اور عوامی حقوق کی جدوجہد کو ساتھ لے کر چل رہی ہے۔ ہم حکومت میں نہ ہوتے ہوئے بھی عوام کی خدمت کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’’بنو قابل‘‘ پروگرام نوجوانوں کے لیے ایک انقلابی منصوبہ ہے، جو لاکھوں نوجوانوں کو باصلاحیت اور خود کفیل بنانے کے لیے پلیٹ فارم فراہم کر رہا ہے۔ یہ پروگرام لسانی و علاقائی تفریق کے بغیر ملک بھر کے نوجوانوں کو ایک لڑی میں پرو رہا ہے۔حافظ نعیم الرحمن نے نیو کراچی میں نئی سڑک کی تعمیر و افتتاح کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہاکہ بے شمار ایسی چیزیں جو ٹاؤن کے ماتحت نہیں ہے، اس کے باوجود ہمارے ٹاؤن اپنے بجٹ سے کام کروارہے ہیں۔وہ کام جس کی براہ راست ذمے داری واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن کی ہے، وہ کام بھی ٹاؤن کی ٹیم کررہی ہے۔ جماعت اسلامی اس وقت شہر کراچی میں سب سے بڑی جماعت ہے۔ بلدیاتی انتخابات میں کراچی کے عوام نے جماعت اسلامی کو سب سے زیادہ ووٹ اور سیٹیں دیں۔ پیپلز پارٹی نے اسٹبلشمنٹ کی مدد سے جماعت اسلامی کی جیتی ہوئی نشستیں چھینی۔ ہمارے 4ٹاؤنز اور میئر شپ میں ڈاکا ڈالا،عوام کو آئندہ ہمیں ووٹ بھی بڑے پیمانے پر ڈالنے ہوں گے اور ووٹ کا تحفظ بھی کرنا ہوگا۔اسی طرح مینڈیٹ کا تحفظ اور شہر میں تعمیر و ترقی ہوسکتی ہے۔جماعت اسلامی صرف دعوے نہیں کرتی بلکہ موقع ملتا ہے تو کام کرتی ہے۔ جماعت اسلامی کی پوری ٹیم نے ثابت کیا ہے کہ ہم اختیارات سے بڑھ کر کام کریں گے اور بقیہ اختیارات بھی حاصل کریں گے۔ظالمانہ نظام کو بدلنے کی جدوجہد کو تیز کرنی ہے۔ ظلم کے اس نظام میں چند لوگوں کی اجارہ داری ہے۔انگریز کے بنائے ہوئے نظام کو بدلنا ہوگا۔21، 22اور 23 نومبر کو نظام کی تبدیلی کے لیے جماعت اسلامی کے لاہور اجتماع عام میں شرکت کریں۔ محمد یوسف نے کہاکہ امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن کو نیو کراچی ٹاؤن آمد پر خوش آمدید کہتے ہیں۔آج نیو کراچی ٹاؤن میں تعمیر و ترقی کا سفر تیزی سے جاری ہے۔آج تک صوبائی حکومت نے ترقیاتی فنڈ کی مد میں ایک ٹکا بھی نہیں دیا۔ ہم قابض مئیر مرتضیٰ وہاب کو چیلنج کرتے ہیں کہ وہ آئیں اور نیو کراچی ٹاؤن میں ہونے والے ترقیاتی کاموں کا کے ایم سی سے مقابلہ کرلیں۔ قابض مئیر واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن کے چیئرمین ہیں، ان کا کام ہے کہ وہ شہریوں کو بلا تفریق پانی فراہم کریں۔ آج سے 2 سال قبل ہر طرف تباہی و نا اہلی نظر آ رہی تھی۔ ہم نے اہلیان نیو کراچی کو واٹر پارک کا تحفہ 8 ہزار سے زائد اسٹریٹ لائٹس لگائیں۔ 10 لاکھ اسکوائر فٹ پیور بلاکس لگائے اور گلیوں کو پکا کیا ہے۔ نیو کراچی ٹاؤن کو سوئی سدرن کی طرف سے دی گئی رقم پر سب سے زیادہ پریشانی قابض مئیر مرتضیٰ وہاب کو ہوئی۔نیو کراچی ٹاؤن کے سرکاری اسکولز میں بچوں کے لیے ڈیکس موجود نہیں تھیں۔ ہم 30 کمروں پر مشتمل ماڈل اسکول بنانے جارہے ہیں اورمزید 2 اسکولوں کو اپ گریڈ کیا جارہا ہے۔ اسکولوں کے بچوں کی حوصلہ افزائی کے لیے لیپ ٹاپ کی تقسیم اورکاپیاں،کتابیں وبیگز بھی مفت فراہم کیے گئے،ہمارے ٹاؤن کے ایسے ملازمین و افسران جو اپنے واجبات کے لیے پریشان تھے، انہیں اب تک 10 کروڑ روپے کے واجبات ادا کیے جاچکے ہیں۔ گزشتہ 20 سال سے جن گھرانوں کو لائن میں پانی نہیں ملا کرتا تھا انہیں پانی پہنچایا۔ہم نے 9 کروڑ روپے سیوریج کے مسائل پر خرچ کیے ہیں جبکہ سیوریج کا کام واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن کا کام ہماری ذمے داری نہیں ہے۔ہمارا عزم ہے کہ آئندہ دنوں میں 600 گلیوں پر پیور بلاکس لگائے جائیں گے۔ 600 گلیوں میں سے 100 سے زائد گلیاں مکمل ہوچکی ہیں۔
امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن بارہ دری بلاک Aمیں ٹی ایم سی نارتھ ناظم آباد کے تحت عوام کے لیے تکمیل شدہ اور آئندہ کے ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے منعقدہ تقریب سے خطاب کررہے ہیں
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: حافظ نعیم الرحمن نے نارتھ ناظم ا باد کے نیو کراچی ٹاو ن ٹاو ن چیئرمین جماعت اسلامی سیوریج کا نے کہا کہ کے نام پر انہوں نے کراچی کے کراچی کو ٹاو ن کے ٹاو نز ایم سی رہی ہے کے لیے
پڑھیں:
باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
ایک نئی جنگ شروع ہوتی نظر آرہی ہے۔ یمن کے حوثیوں نے بحیرہ احمر سے باب المندب بند کر دیا ہے۔پہلے امریکا ایران جنگ کی وجہ سے دنیا جنگ کا شکار ہے۔ پوری کوشش کے باوجود امریکا آبنائے ہرمز نہیں کھلوا سکا۔آبنائے ہرمز کی بندش کی وجہ سے دنیا میں تیل کی قیمتیں اوپر جا رہی ہیں۔ اب باب المندب کی بندش تیل کی قیمتوں کو مزید اوپر لے کر جائے گی۔ جس کی وجہ تیل کی عالمی قیمتوں میں اضافہ اور ایک بحرانی کیفیت بنتی نظر آرہی ہے۔
باب المندب کی بندش کے بعد حوثیوں نے سعودی عرب کے دو تیل کے ٹینکرز کو بھی تباہ کر دیا ہے۔ ایک تیل کے ٹینکر کو میزائیل لگنے کی سعودی عرب نے تصدیق کر دی ہے۔ عالمی منڈی کا رحجان یہی رہا ہے کہ جب تیل کا ایک ٹینکر تباہ ہوتا ہے تو انشورنس ختم ہو جاتی ہے۔
کوئی کمپنی بھی اپنا جہاز وہاں سے گزارنے کے لیے تیار نہیں ہوتی۔ اس لیے حوثیوں کو باب المندب بند کرنے کے لیے دو جہاز ہی تباہ کرنے تھے ۔ باقی جہاز خود ہی آنے سے انکار کر دیں گے۔ اس لیے باب المندب بند ہوگیا ہے۔ اب جب تک یا تو حوثی اس کو کھولنے کا اعلان نہ کریں یا حوثیوں کی اس کو بند کرنے کی صلاحیت ختم نہ ہوجائے تب تک یہ کھل نہیں سکتا۔
حوثیوں کی جانب سے بندش کے اعلان کے بعد پاکستان کے دفتر خارجہ نے بھی ایک شدید سخت بیان جاری کیا تھا۔ جس میں کہا گیا تھا کہ اگر کسی پاکستانی جھنڈے کے حامل جہاز پر حملہ کیا گیا تو اس کا سخت جواب دیا جائے گا۔اس کے علاوہ باب المندب کی بندش کی مذمت بھی کی گئی تھی اور اس کے خلاف سخت رد عمل جاری کیا گیا تھا۔ لیکن اس بیان کے اگلے ہی دن سعودی عرب کے دو جہازوں پر حملہ کر دیا گیا ہے۔ یہ درست ہے کہ یہ پاکستانی جہاز نہیں تھے۔ لیکن یہ سعودی عرب کے جہاز تھے اور پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ایک دفاعی معاہدہ بھی تھا۔
باب المندب بند کرنا لگتا ہے ایران کے لیے ناگزیر تھا۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کم ہی سہی لیکن ایک مناسب مقدار میں اپنا تیل بحیرہ احمر سے برآمد کر رہے تھے۔ اس لیے ان کی تیل کی برآمد چل رہی تھی۔ کنویں بند نہیں ہو رہے تھے۔ وہاں کوئی خاص بحران نہیں تھا۔
دنیا کو بھی تیل مل رہا تھا اور ایسی خبریں آرہی تھیں کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات ایسی تیل کی لائنیں بچھا رہے ہیں کہ اگلے دو سال میں ان کا آبنائے ہرمز پر انحصار ختم ہو جائے گا۔ وہ اپنا سارا تیل بحیرہ احمر سے برآمد کرنے کی پوزیشن میں ہونگے۔ یہ تیاری ایران کے آبنائے ہرمز پر کنٹرول رکھنے کی اہمیت کو کم کرنے کے لیے کی جا رہی ہے۔ اس لیے شائد ایران کو بھی سمجھ آگئی ہے کہ اس نے آبنائے ہرمز سے جو بھی فائدہ اٹھانا ہے اس کی مدت کم ہے۔ عرب ممالک بالخصوص سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات متبادل بندوبست تیزی سے کر رہے ہیں۔
شائد اسی لیے ایران نے بھی حوثیوں کی حوصلہ افزائی کی ہے کہ وہ باب المندب بند کر دیں ۔ کیونکہ ایران کے پاس بھی وقت کم ہے۔ویسے بھی چند دن پہلے ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے مشیر نے ان کی طرف سے یہ بیان دیا تھا کہ اگر امریکا نے ایران پر بمباری بند نہ کی تو ایران جنگ کو وسیع کر دے گا۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ باب المندب بند کرنا جنگ کو وسیع کرنے کی ایک شکل ہے۔ جنگ پھیل گئی ہے۔ ایران جنگ کو پھیلانا چاہتا تھا تو اس نے پھیلا دی ہے۔
باب المندب سے دنیا کے تیل کی سات فیصد ترسیل ہوتی ہے۔ اس لیے سات فیصد کی ترسیل بند ہو گئی ہے۔ لیکن یہ صرف اتنی بات نہیں کئی ماہ سے یو اے ای اور سعودی عرب کے درمیان جاری سرد جنگ بھی یک دم ختم ہوگئی ہے۔ باب المندب بند ہونے کی خبر کیا آئی سعودی عرب اور یو اے ای میں صلح ہوگئی دونوں کے وزراء نے ایک دوسرے کے ساتھ تصویر پوسٹ کر دیں کہ ہم بھائی ہیں۔ آبنائے ہرمز کی بندش تو انھیں اکٹھا نہیں کر سکی لیکن باب المندب کی بندش نے انھیں اکٹھا کر دیا۔ اب آگے کا منظر نامہ کیا ہو سکتا ہے۔ پاکستان اورسعودی عرب کے درمیان ایک دفاعی معاہدہ موجود ہے۔
اگر سعودی عرب باب المندب کھلوانے کے لیے حوثیوں کے ساتھ جنگ شروع کرتا ہے اور جواب میں حوثی سعودی عرب پر حملہ کرتے ہیں تو پاکستان اپنے دفاعی معاہدہ کے تحت سعودی عرب کے ساتھ کھڑے ہونے کا پابند ہوگا۔ کیسے اور کتنا، اس سوال کا ابھی تک کسی کے پاس کوئی جواب نہیں۔ لیکن حوثیوں نے یہ خبردار کیا ہے کہ اگر ان پر کسی بھی قسم کا کوئی بھی حملہ کیا گیا تو وہ سعودی عرب کی تیل اور دیگر تنصیبات کو نشانہ بنائیں گے۔ایک عمومی رائے یہ ہے کہ اتنی سخت بمباری کے باوجود امریکا آبنائے ہرمز نہیں کھلوا سکا تو کیا صرف بمباری سے باب المندب کھلوایا جا سکے گا۔ حوثی بھی جواب میں میزائل ماریں گے۔
یہ درست ہے کہ ان کے پاس ایران جتنے میزائل نہیںہیں۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ان کے پاس میزائل ہیں۔ انھوں نے ماضی میں اسرائیل اور سعودی عرب پر میزائیل مارے بھی ہیں۔ شاید حوثیوں کو یہ لگ رہا ہے کہ جیسے ایران کی دیگر پراکسیوں کو ختم کیا جا رہا ہے۔ اگر وہ اس جنگ سے باہر رہتے ہیں تو بعد میں ان کی باری بھی آئے گی۔ اس لیے جنگ میں شامل ہونے کا یہ بہترین وقت ہے۔ باب المندب اور آبنائے ہرمز کا معاملہ اکٹھے طے کیا جائے، مل کر بات کی جائے، اس سے طاقت بڑھ جائے گی۔
اب سوال یہی ہے کہ پاکستان ایران امریکا لڑائی میں تو غیر جانبدار رہا۔ جس کی وجہ سے وہ آج تک ثالث ہے۔ لیکن کیا وہ باب المندب کی بندش اور سعودی عرب اور حوثیوں کی لڑائی میں بھی غیر جانبدار رہے گا۔ عملی طور پر یہ ممکن نظر نہیں آرہا۔ پاکستان کو سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہونا پڑے گا۔ اس کے علاوہ کوئی اور حل نظر نہیں آرہا۔ امریکا ایران میں مصروف ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے باب المندب کھلوانے کے لیے کردار ادا کرنے کا اعلان کیا ہے۔ لیکن پہلی ترجیح ایران ہی ہوگا۔ ایسے میں یہ لڑائی فی الحال سعودی عرب کو خود ہی لڑنی ہوگی۔ اگر پاکستان اس لڑائی میں شریک ہوتا ہے تو پھر اس کی ثالث کی پوزیشن بھی ختم ہو جائے گی۔ ایران پاکستان کو بھی لڑائی میں فریق سمجھے گا۔ خدشہ ہے کہ پاکستان بھی نہ چاہتے ہوئے لڑائی میں شامل ہو جائے گا۔ ہم پہلے بھی ایران کو بتا چکے ہیں کہ سعودی عرب ہماری ریڈ لائن ہے۔ لیکن شائد حوثی پاکستان کی اس بات کو نہیں سمجھیں گے، وہ سعودی عرب پر حملے کریں گے۔
اس تناظر میں دیکھا جائے تو لڑائی وسیع ہو رہی ہے۔ ایک خطرناک منظر نامہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ حوثیوں کے خلاف لڑائی میں پاکستان سعودی عرب ، یو اے ای ، امریکا اور اسرائیل مل کر لڑ رہے ہوں۔ یہ بھی لڑائی کی کوئی اچھی شکل نہیں ہوگی۔ لیکن اس کو مسترد نہیں کیا جا سکتا۔ یہ ممکن ہے۔