سہیل آفریدی کا سکیورٹی فورسز کیخلاف بیان غیر ذمہ درانہ ہے، سرفراز بگٹی
اشاعت کی تاریخ: 7th, November 2025 GMT
اپنے بیان میں وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ کو اپنے غیر ذمہ دارانہ بیان پر قوم اور شہداء کے لواحقین سے معافی مانگنی چاہئے۔ اسلام ٹائمز۔ وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کے سکیورٹی فورسز سے متعلق بیان کو غیر ذمہ درانہ قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ سہیل آفریدی قوم سے معافی مانگیں۔ اپنے جاری بیان میں وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کے بیان پر شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سکیورٹی فورسز کے خلاف بیان قومی یکجہتی کے منافی اور دشمن کے بیانیے کو تقویت دینے کی کوشش ہے۔ وطن کے تحفظ کے لیے جانیں قربان کرنے والے بہادر افسران اور جوان قوم کے ہیرو ہیں۔ ایسے محب وطن سپوتوں کے بارے منفی گفتگو کسی ذی شعور پاکستانی کے لیے ناقابل قبول ہے۔
سرفراز بگٹی نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ کا بیان سکیورٹی اداروں کی توہین اور شہداء کے جذبات سے کھیلنے کے مترادف ہے۔ اس نوعیت کے بیانات دشمن قوتوں کو خوش کرنے اور عوامی اعتماد کو مجروح کرنے کے مترادف ہیں۔ سکیورٹی فورسز کی قربانیاں لازوال ہیں۔ پوری قوم اور دنیا ان کی معترف ہے۔ یہ وہی فورسز ہیں جنہوں نے بلوچستان سے خیبر تک اپنی جانیں نچھاور کرکے امن بحال کیا۔ خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ کو اپنے غیر ذمہ دارانہ بیان پر قوم اور شہداء کے لواحقین سے معافی مانگنی چاہئے۔ سکیورٹی اداروں کی تضحیک برداشت نہیں کی جا سکتی۔ بلوچستان حکومت ہر سطح پر فورسز کے ساتھ کھڑی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: سرفراز بگٹی نے سکیورٹی فورسز سہیل آفریدی
پڑھیں:
ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا اپنے عہدے سے مستعفی
محمد انعام یوسفزئی کا کہنا تھا کہ بطور ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل ذمہ داری ادا کرنا میرے لیے اعزاز کی بات ہے، تاہم مزید اس پوسٹ پر کام جاری نہیں رکھ سکتا۔ اسلام ٹائمز۔ ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خیبرپختونخوا محمد انعام یوسفزئی نے استعفا دے دیا۔ محمد انعام یوسفزئی کا کہنا تھا کہ بطور ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل ذمہ داری ادا کرنا میرے لیے اعزاز کی بات ہے، تاہم مزید اس پوسٹ پر کام جاری نہیں رکھ سکتا۔ مستعفی ہونے والے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل کا کہنا تھا کہ وزیر قانون اور سیکرٹری قانون کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔