راولپنڈی: ضلع کچہری گیٹ کے ساتھ واقع 75 سالہ قدیم مسجد کو شہید کردیا گیا
اشاعت کی تاریخ: 8th, November 2025 GMT
راولپنڈی کے ضلع کچہری انڈر پاس اور اوور ہیڈ برج میگا پروجیکٹ کے لیے ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن اور انتظامیہ میں معاملات طے پاگئے۔
رپورٹ کے مطابق ضلع کچہری گیٹ کے ساتھ موجود 75 سالہ قدیم مسجد کی شہادت شروع کردی گئی، ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن کا مرکزی داخلہ گیٹ پر 100سالہ قدیم بورڈ و گیٹ بھی مسمار کردیا گیا۔
پروجیکٹ میں آنے والے امام مسجد گھر وکلا چیمبر مسمار کر دیے گئے، پراجیکٹ میں آنے والے 14 کھوکھے اور دکانیں بھی مسمار کردی گئی، پیٹرول پمپ سیل کرکے فوری خالی کرنے کا حکم دیا گیا۔
صدر بار نے کہا کہ انتظامیہ وکلاء کو متبادل چیمبر جگہ و تعمیر کرکے دے گی، مسجد کی بھی از سر نو نئی تعمیر انتظامیہ کے زمہ ہوگی۔
صدر ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن سردار منظر بشیر سیکرٹری ملک اسد نے کچہری جگہ سرنڈر کر دی۔
ضلع کچہری چوک میں ہیوی مشینری نے ڈرلنگ ورک شروع کر دیا، فاطمہ جناح ویمن یونیورسٹی کی اراضی بھی خالی کرا لی گئی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ضلع کچہری
پڑھیں:
امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا
کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دپکے نے بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں 6 جون کو احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق ابھیجیت دپکے نے کہا ہے کہ وہ 6 جون کو بھارت واپس آ کر دہلی کے جنتر منتر پر پرامن احتجاج کا آغاز کریں گے۔ ان کا مؤقف ہے کہ ملک میں مختلف امتحانی تنازعات کے باعث طلبہ کا مستقبل متاثر ہو رہا ہے، جس پر فوری طور پر ذمے داری طے کی جانی چاہیے۔
دپکے نے مطالبہ کیا ہے کہ نیٹ یو جی پیپر لیک، سی بی ایس ای، سی یو ای ٹی اور ایس ایس سی جی ڈی سمیت مختلف امتحانی بے ضابطگیوں کی ذمے داری قبول کرتے ہوئے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان اپنے عہدے سے استعفیٰ دیں۔
ان کا دعویٰ ہے کہ امتحانی نظام میں ہونے والی مبینہ بے ضابطگیوں سے ایک کروڑ سے زائد طلبا متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے ایک ویڈیو پیغام میں طلبا، نوجوانوں اور اپنے حامیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ 6 جون کو دہلی میں ان کے احتجاج میں شریک ہوں۔
دپکے کے مطابق پیپر لیک اور دیگر تنازعات کے باعث طلبا شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہوئے، کئی نوجوانوں کی محنت ضائع ہوئی اور بعض افسوسناک واقعات میں خودکشی جیسے سنگین نتائج بھی سامنے آئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے حالات میں ذمے داروں کا تعین ناگزیر ہو چکا ہے۔
انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ وزیر تعلیم کے استعفے کے مطالبے پر اب تک 8 لاکھ سے زائد افراد دستخط کر چکے ہیں جبکہ لکھنؤ، جے پور، دہلی اور مہاراشٹر سمیت مختلف شہروں میں پہلے ہی احتجاجی مظاہرے کیے جا چکے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ مسلسل ناکامیوں کے باوجود اگر احتساب نہ کیا گیا تو عوامی اعتماد مزید متاثر ہوگا اور طلبا بار بار نقصان اٹھاتے رہیں گے، جبکہ متعلقہ ادارے کسی مؤثر کارروائی سے گریز کر رہے ہیں۔
انہوں نے اعلان کیا کہ وہ دہلی پہنچ کر جنتر منتر پر احتجاج کی اجازت کے لیے حکام سے رابطہ کریں گے اور یہ احتجاج مکمل طور پر پرامن اور آئینی دائرے میں ہوگا۔
دپکے نے یہ بھی کہا کہ انہیں امریکا میں ملازمت کی پیشکش ہوئی تھی، تاہم انہوں نے بیرون ملک جانے کے بجائے بھارت واپس آ کر احتجاج کا فیصلہ کیا ہے۔