کیماڑی میں ہٹس مسمار، ڈی سی کی بغیر نوٹس کارروائی
اشاعت کی تاریخ: 6th, November 2025 GMT
ڈی سی کیماڑی کی جانب سے بغیر کسی نوٹس کے یکطرفہ کارروائی سے ہٹ مالکان پریشان
پرانے ہٹ مالکان کی لیز کی تجدید میں رکاوٹیں، من پسند لوگوں کو 99 سالہ لیزفراہم
کیماڑی میں ہٹس کو مسمار کرنے کا عمل جاری ہے۔ ڈی سی کیماڑی کی جانب سے بغیر کسی نوٹس کے مسلسل اور یکطرفہ کارروائی نے ہٹ مالکان کو پریشان کر دیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق ڈی سی کیماڑی راجہ طارق حسین چانڈیو کا آفس ایک طویل عرصے سے ہٹ مالکان کوپریشان کر رہا ہے، ہٹ مالکان نے نمائندہ جرأت سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ایک طویل منصوبے کا حصہ ہے جس میں اصل مالکان کے ہٹ گراکر اسے قبضہ مافیا کے حوالے کیا جانا ہے۔ اس ضمن میں قبضہ مافیا کے کچھ عناصر علاقے میں سرگرم دیکھے گئے ہیں۔ ڈی سی آفس ایک طرف ہٹ مالکان کی ختم شدہ لیز کی قواعد کے مطابق تجدید نہیں کر رہے۔جس کا مقصد یہ ہے کہ پہلے سے لیز رکھنے والے مالکان کو اُن کے ہٹ سے بے دخل کر دیا جائے۔ دوسری طرف جرأ ت کے پا س محفوظ دستاویزات کے مطابق ڈی سی آفس اپنے منصوبے کے مطابق من پسند لوگوں کو اُن کی مرضی سے 99 سالہ لیز تک فراہم کر رہے ہیں، جبکہ پرانے ہٹ مالکان کو تیس سالہ لیز کی تجدید بھی نہیں کرنے دی جارہی۔ ہٹ مالکان کی طرف سے لیز کے لیے جب ڈی سی آفس سے رجوع کیا جاتا ہے تو اُنہیں کہا جاتا ہے کہ لیز کا عمل بند ہے ۔ سوال یہ ہے کہ اگر لیز کا پراسیس بند ہے تو پھر ہٹ مالکان کو بے دخل کیوں کیا جا رہا ہے؟ ڈی سی آفس سے ہٹ مالکان کواس کا جواب بھی نہیں مل رہا کہ لیز ختم ہونے پر ہٹ کے پرانے مالکان کی لیز کی تجدید نہ کرنے کی وجوہات کیا ہیں؟ اس ضمن میں جب ہٹ گرائے جا رہے ہیں، اس کے پیچھے قبضہ مافیا کے لیے راہ ہموار کرنے کی ایک منظم سازش واضح ہو رہی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: مالکان کی ڈی سی ا فس کے مطابق ڈی سی کی لیز کی
پڑھیں:
بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جمال رئیسانی
پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے رکن قومی اسمبلی نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہا ہے کہ پاکستان کے خلاف ایک خاموش جنگ لڑی جا رہی ہے جو بارود سے زیادہ نوجوانوں کے ذہنوں کو نشانہ بنا رہی ہے۔ بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
صوبائی وزرا علی مدد جتک اور عاصم کرد گیلو کے ہمراہ کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہاکہ دشمن پاکستان اور بلوچستان کو توڑنے کی کوشش کر رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ 2018 میں بشیر زیب نے جب ایک کالعدم تنظیم کی کمان سنبھالی تو حالات مزید خراب ہوئے، جبکہ جنید بشیر زیب کا رائٹ ہینڈ ہے۔
انہوں نے کہاکہ آج کی جنگ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر لڑی جا رہی ہے اور کالعدم تنظیموں کے کارندے زنگی ایپ کے ذریعے ایک دوسرے سے رابطے میں رہتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ کالعدم تنظیمیں سنگل ایپ کے ذریعے آپریشنل منصوبہ بندی جبکہ ڈیلٹا چیٹ کے ذریعے خفیہ بھرتیاں کرتی ہیں۔
نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہاکہ آج دشمن صرف گولی کا استعمال نہیں کر رہا بلکہ سوشل میڈیا پر ٹرینڈز چلا کر بھی اپنا ایجنڈا آگے بڑھا رہا ہے۔ ہم نہیں چاہتے کہ نوجوان پہاڑوں کا رخ کریں۔
انہوں نے دعویٰ کیاکہ کالعدم تنظیموں نے اپنی سرگرمیوں میں خواتین کا استعمال بھی شروع کر دیا ہے۔ شہناز بلوچ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے جلسوں میں شرکت کرتی تھیں اور ان کا باہوٹ کے ذریعے کالعدم تنظیم سے رابطہ ہوا۔
نوابزادہ جمال رئیسانی نے مزید کہاکہ بلوچ یکجہتی کمیٹی بلوچستان کی قیادت ڈاکٹر صبیحہ کر رہی ہیں اور ان کا بھائی ایک کالعدم تنظیم کا حصہ ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے کراچی سیل کی قیادت فوزیہ شاہوانی کررہی ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews بلوچستان سیاست خاموش جنگ نوابزادہ جمال رئیسانی وی نیوز