وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں بڑے پیمانے پر ہوٹلز اور ریسٹورنٹس کے بغیر رجسٹریشن چلائے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔

محکمہ سیاحت کی جانب سے مرتب کی گئی فہرستوں کے مطابق 600 سے زائد ہوٹلز اور ریسٹورنٹس بغیر رجسٹریشن کے پائے گئے ہیں، ان فہرستوں میں کئی معروف فوڈ برانڈز کے نام بھی شامل ہیں۔

ڈان نیوز کو موصول ہونے والی تفصیلات کے مطابق غیر رجسٹرڈ ہوٹلز اور ریسٹورنٹس کی سیکٹر کے لحاظ سے لسٹیں تیار کی گئی ہیں، بی-17 میں چیزیئس ریسٹورنٹ، بیت المندی اور چائے خانہ غیر رجسٹرڈ پائے گئے ہیں، جب کہ ڈی-12 میں کے ایف سی ریسٹورنٹ فہرست میں شامل ہے۔

ایف-6 مرکز میں راوی ریسٹورنٹ اور براڈوے پیزا، ایف-8 مرکز میں بٹ کڑاہی ریسٹورنٹ، آبپارہ میں رائل سٹی ہوٹل، فیض آباد کا محبوب ہوٹل، آئی-9 مرکز میں موو اِن پِک اور بلیو ایریا میں واقع کے ایف سی ریسٹورنٹ بھی محکمہ سیاحت کے ریکارڈ میں رجسٹرڈ نہیں ہیں۔

ذرائع کے مطابق ان غیر رجسٹرڈ ہوٹلز اور ریسٹورنٹس کے خلاف کارروائی کا دائرہ تنگ کر دیا گیا ہے۔

وزارت بین الصوبائی رابطہ کے ذیلی ادارے محکمہ سیاحت نے ان کی رجسٹریشن کے لیے اقدامات تیز کر دیے ہیں، اس سلسلے میں ڈپٹی کنٹرولر محکمہ سیاحت طارق محمود کی سربراہی میں ایک کمیٹی تشکیل دی گئی ہے، جو غیر رجسٹرڈ ہوٹلز، ریسٹورنٹس اور ٹریول ایجنسیوں کو مرحلہ وار نوٹسز جاری کرے گی۔

ذرائع کے مطابق پاکستان ہوٹلز اینڈ ریسٹورنٹس ایکٹ 1976 کے تحت تمام ہوٹلز اور ریسٹورنٹس کی رجسٹریشن لازمی ہے۔

نوٹسز جاری کیے جانے کے باوجود اگر کوئی ادارہ رجسٹریشن نہ کرائے تو اسے بھاری جرمانوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔

محکمہ سیاحت کے اعداد و شمار کے مطابق اسلام آباد میں اس وقت رجسٹرڈ ہوٹلز اور ریسٹورنٹس کی تعداد تقریباً 400 ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: ہوٹلز اور ریسٹورنٹس رجسٹرڈ ہوٹلز محکمہ سیاحت کے مطابق

پڑھیں:

حیسکو میں گھوسٹ، ریٹائرڈ ملازمین کی تنخواہ کے نام پر 1 ارب 6 کروڑ روپے کی خرد برد کا انکشاف

فائل فوٹو 

پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں گھوسٹ، ریٹائرڈ ملازمین کی تنخواہ کے نام پر 1 ارب 6 کروڑ روپے کی خرد برد کا انکشاف ہوا ہے۔

آڈٹ رپورٹ کے مطابق حیسکو کے ڈی ڈی او، ایکسیئن اور سی ایف او آفس کی ملی بھگت سے خرد برد کی گئی۔

سی ای او حیسکو کے مطابق اس کیس میں چار ملازمین کو برطرف کیا جا چکا ہے۔ تین اکاؤنٹس افسران، ایک فنانس افسر کو نوکری سے نکالا گیا۔

ایف آئی اے حکام کا کہنا ہے کہ اس کیس کے 5 مقدمات درج کیے گئے، 130 سے زائد افراد ملوث تھے، اب تک صرف 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • اسلام آباد کچہری میں سموسے کیساتھ چٹنی نہ ملنے پر ہنگامہ
  • اسلام آباد میں گلاسگو 2026 دولتِ مشترکہ کھیلوں کی افتتاحی تقریب
  • اسلام آباد ہائیکورٹ نے اینٹی نارکوٹکس فورس کو نئی بھرتیوں سے روک دیا
  • اسلام آباد ہائیکورٹ: ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی سزا معطلی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ
  • میٹھے پر سجاوٹ کیلئے چیونٹیوں کا استعمال ریسٹورنٹ مالک کو مہنگا پڑگیا
  • آج کہاں کہاں بادل برسیں گے ،محکمہ موسمیات نے بڑی پیشگوئی کردی
  • خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، پنجاب اور کشمیر میں تیز بارشوں کی پیشگوئی، لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
  • حیسکو میں گھوسٹ، ریٹائرڈ ملازمین کی تنخواہ کے نام پر 1 ارب 6 کروڑ روپے کی خرد برد کا انکشاف