پشاور+ اسلا م آباد (نوائے وقت رپورٹ+نمائندہ خصوصی +اپنے سٹاف رپورٹر سے) وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے وزیراعلیٰ خیبر پی کے کے  بیان کی مذمت کی ہے۔ بہادر سپوتوں کے بارے میں بے بنیاد اور حقائق کے منافی بیان ناقابل برداشت  ہے۔ وطن کیلئے جان نچھاور کرنے والوں سے متعلق ایسا بیان کوئی محب وطن نہیں دے سکتا۔ وزیراعلیٰ خیبر پی کے نے ہرزہ سرائی کرکے ازلی دشمن کو خوش کرنے کی کوشش کی۔ سکیورٹی فورسز کی لازوال قربانیوں کی پوری دنیا اور قوم معترف ہے۔ خیبر پی کے میں سکیورٹی فورسز کے جوان سب سے زیادہ شہید ہوئے۔ وزیراعلیٰ نے احسان فراموشی کی حدیں پار کر دیں۔ وزیراعلیٰ کو اشتعال انگیز بیان پر قوم سے معافی مانگنی چاہئے۔ گورنر خیبر پی کے  فیصل کریم کنڈی نے مسلح افواج کے خلاف  سہیل آفریدی کے بیانات پر اظہارِ مذمت کیا۔ انہوں نے کہا ہمارے بہادر سپاہی صوبے کے تحفظ کے لیے اپنی جانیں قربان کرتے ہیں۔ فوج کے عزائم پر سوال اٹھانا حوصلے اور عوامی سلامتی کو نقصان پہنچاتا ہے۔ انٹیلی جنس بنیاد پر آپریشن عوام کے تحفظ اور امن کی بحالی کے لیے ہوتے ہیں۔ وزیراعلیٰ خیبر پی کے  ضبط و تحمل اور قومی یکجہتی برقرار رکھیں۔ سیاست کو قومی سلامتی کے اداروں کو کمزور کرنے کا ذریعہ نہ بنایا جائے۔ تمام سیاسی قوتوں کو دیرپا امن کے لیے مسلح افواج کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے۔ جبکہ پشاور بار ایسوسی ایشن کی جانب سے وزیرِ اعلیٰ خیبرپی کے  سہیل آفریدی کے 6 نومبر 2025 کو دیے گئے اشتعال انگیز اور مذہبی منافرت پر مبنی بیان کی شدید مذمت کی گئی۔ پشاور بار ایسوسی ایشن کے صدر قیصر زمان ایڈووکیٹ نے وزیرِ اعلیٰ خیبرپی کے سہیل آفریدی کے اْس غیر ذمہ دارانہ اور توہین آمیز بیان کی شدید مذمت کی ہے، جس میں انہوں نے یہ کہا کہ ہماری مسجدوں میں سکیورٹی فورسز کتے باندھتے تھے، اور ہمیں کہتے تھے کہ یہ کتے اور آپ ایک ہی چیز ہیں۔ ایسے غیر سنجیدہ، اشتعال انگیز اور نفرت آمیز بیانات کا مقصد صرف عوام کو گمراہ کرنا، اداروں کے خلاف نفرت پھیلانا اور صوبے میں انتشار پیدا کرنا ہے۔ وزیر اعلیٰ فی الفور اپنے بیان پر غیر مشروط معافی مانگیں۔  وکلاء برادری ہمیشہ آئین، قانون اور ریاستی اداروں کے ساتھ کھڑی رہی ہے، اور کسی بھی ایسے بیان یا عمل کی شدید مذمت کرتی ہے جو قومی وحدت اور مذہبی ہم آہنگی کو نقصان پہنچائے۔ کابینہ پشاور بار ایسوسی ایشن نے متفقہ طور پر اس بات پر زور دیا کہ وزیر اعلیٰ کا یہ طرزِ گفتگو ان کے منصب کے شایانِ شان نہیں، اور اس سے صوبے میں انتشار اور بدامنی کو فروغ مل سکتا ہے۔ خیبر یونین آف جرنلسٹس  نے بھی  وزیرِاعلیٰ خیبر پی کے کے بیان پر شدید ردعمل  دیا۔ یونین آف جرنلسٹس نے کہا شہداء  کی قربانیوں کو سیاسی تنازعات میں گھسیٹنا قابل مذمت ہے۔ شہداء کے لہو اور عبادت گاہوں کے احترام پر سوال اٹھانا افسوسناک ہے۔  ایسے بیانات اداروں کے خلاف اشتعال اور نفرت بڑھانے کا باعث بنتے ہیں۔ خیبر یونین آف جرنلسٹس نے مطالبہ کیا کہ وزیراعلیٰ غیرذمہ دارانہ الفاظ واپس لیں۔ سیاست کو سلامتی کے اداروں کے خلاف استعمال کرنا قومی مفاد کے منافی ہے۔وزیراعلیٰ خیبر پی کے کو سکیورٹی فورسز کے خلاف اشتعال انگیزی پر قوم سے معافی مانگنی چاہئے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: سکیورٹی فورسز خیبر پی کے اداروں کے مذمت کی کے خلاف

پڑھیں:

دہشتگردی کے خاتمے تک فتنۃ الخوارج و فتنۃ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی، فیلڈ مارشل

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) سے جاری بیان کے مطابق فیلڈ مارشل عاصم منیر نے جنرل ہیڈکوارٹرز (جی ایچ کیو) راولپنڈی میں 20ویں نیشنل ورکشاپ بلوچستان کے شرکا سے خطاب کیا اور کہا کہ دہشت گردی کے خاتمے تک فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی۔

انہوں نے کہا کہ سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مسلسل کوششیں، عوام کی غیرمتزلزل حمایت کے ساتھ بلوچستان میں پائیدار امن کے قیام کو یقینی بنائیں گی۔

فیلڈ مارشل نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں دہشت گردی اور اس کے سہولت کاروں کے مکمل خاتمے تک پوری قوت کے ساتھ جاری رہیں گی، پاکستان میں جہاں بھی دہشت گردوں کا انفرا اسٹرکچر ملکی سلامتی کے لیے خطرہ بنے گا، اسے ختم کرنے کے لیے اپنے غیرمتزلزل عزم پر قائم ہے۔

انہوں نے کہا کہ بیرونی سرپرستی میں کام کرنے والے پراکسی عناصر مسلسل بلوچستان میں بدامنی، عدم استحکام اور امن کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں تاہم مسلح افواج عوام کی یک جہتی اور ثابت قدمی کے ساتھ ان مذموم عزائم کو ناکام بنائیں گی۔

فیلڈ مارشل عاصم منیر نے بلوچستان کو پاکستان کا فخر قرار دیا اور کہا کہ یہ صوبہ بے پناہ قدرتی وسائل، محب وطن، باصلاحیت اور باہمت عوام سے مالا مال ہے، جو بلوچستان کی اصل طاقت ہیں۔

فیلڈ مارشل نے کہا کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں بلوچستان کی سماجی و معاشی ترقی کے لیے عوام دوست اور جامع منصوبوں پر عمل پیرا ہیں، جن کا مقصد صوبے کی تقدیر بدلنا ہے۔

انہوں نے قومی یک جہتی کے فروغ میں سول سوسائٹی، جامعات، میڈیا اور نوجوانوں کے مثبت کردار کو سراہا اور کہا کہ ملک کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے اور روشن مستقبل کی بنیاد رکھنے کے لیے قومی اتحاد، استقلال اور مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں۔

آئی ایس پی آر کے مطابق جی ایچ کیو میں تقریب کے اختتام پر شرکا کے ساتھ تفصیلی سوال و جواب کا سیشن بھی منعقد ہوا، جس میں شرکا نے پاکستان کے استحکام، ترقی، امن اور خودمختاری کے لیے اپنے عزم کا اعادہ کیا۔

 

متعلقہ مضامین

  • عطا اللہ تارڑ نے اب تک معافی نہیں مانگی، وزیراعظم وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لیں، سحر کامران
  • مانجھی خیل چیک پوسٹ حملہ، گورنر خیبرپختونخوا نے رپورٹ طلب کر لی
  • ’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • محسن نقوی کی مستونگ کے قریب  سیشن جج اور جوڈیشل مجسٹریٹ پر فائرنگ کی پرزور مذمت
  • ایرانی وزیر داخلہ سکندر مومنی کی لاہور آمد: وفاقی وزیر داخلہ اور گورنرپنجاب کے ہمراہ مزار اقبال اور دربار بی بی پاکدامن حاضری
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات
  • مریم نواز کا اربن فلڈنگ اور سیلاب سے نمٹنے کے لیے وسائل بروئے کار لانے کا حکم
  • دہشتگردی کے خاتمے تک فتنۃ الخوارج و فتنۃ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی، فیلڈ مارشل