راولپنڈی سیف اینڈ اسمارٹ ریلوے اسٹیشن کا افتتاح کر دیا گیا
اشاعت کی تاریخ: 6th, November 2025 GMT
وزیرِ ریلوے محمد حنیف عباسی نے راولپنڈی ’’سیف اینڈ اسمارٹ ریلوے اسٹیشن‘‘ کا افتتاح کر دیا۔ ایف بلو واو کے تعاون سے راولپنڈی ریلوے اسٹیشن پر جدید ’’سیف اینڈ اسمارٹ اسٹیشن سسٹم‘‘ نصب کیا گیا۔ جدید سسٹم میں 143 کیمروں پر مشتمل فول پروف نگرانی کا نظام فعال کر دیا گیا۔ وزیر ریلوے نے سی آئی پی لاؤنج اور نیا ویٹنگ ایریا کا بھی باقاعدہ طور پر افتتاح کیا۔ راولپنڈی پہلا اسٹیشن بن گیا جسے جدید حفاظتی مانیٹرنگ سسٹم سے آراستہ کیا گیا۔ نیا نظام اسٹیشن، اطراف کے علاقوں اور ریزرویشن آفس کی مسلسل نگرانی یقینی بنائے گا۔ سیف اینڈ اسمارٹ سسٹم سے عملے کی کارکردگی کی مؤثر مانیٹرنگ بھی ممکن ہوگی۔ ملک کے بڑے اسٹیشنز پر جدید سی آئی پی لاؤنجز کی تعمیر جاری ہے جس سے مسافروں کے لیے پُرسکون ماحول کی فراہمی ممکن ہوگی۔ لاؤنجز میں چائے اور ریفریشمنٹ کی سہولت بھی فراہم کی جائے گی جبکہ خواتین اور فیملیز کے لیے علیحدہ ویٹنگ ایریاز قائم کیے جا رہے ہیں۔ تمام بڑے اسٹیشنز پر مفت وائی فائی اور اے ٹی ایم مشینز کی سہولت میسر ہوگی۔ دوسری جانب، پرانی بوگیوں کی ریکس کو ریفربشڈ ماڈلز سے تبدیل کرنے کا عمل جاری ہے۔ لاہور تا راولپنڈی چلنے والی تین ریل کاروں کی ریکس تبدیل کر دیے گئے جبکہ چوتھی 15 نومبر کو تبدیل کی جائے گی۔ ریل کارز میں مسافروں کو لازمی اسنیکس کی فراہمی شروع کر دی گئی، سفر کو مزید آرام دہ بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ وزیرِ ریلوے کا کہنا تھا کہ مسافروں کو ہر ممکن سہولت فراہم کرنا ہماری اولین ترجیح ہے۔ فیصل آباد ریلوے اسٹیشن کی اَپ گریڈیشن مکمل ہوگئی ہے جس کا وزیرِ ریلوے نے دو روز قبل افتتاح کیا۔ فیصل آباد اسٹیشن کی تزئین و آرائش جدید معیار کے مطابق مکمل کی گئی۔ کراچی کینٹ اسٹیشن کا بھی جلد افتتاح کیا جائے گا۔ کراچی کینٹ اسٹیشن میں لاہور سے بھی زیادہ جدید سی آئی پی لاؤنج اور ویٹنگ ایریاز تیار کیے جا رہے ہیں، پاکستان ریلوے جدید، محفوظ اور مسافر دوست نظام کی جانب گامزن ہے جس کے باعث ترقی کا سفر جاری ہے۔ پنڈی اسٹیشن پر میڈیا سے خطاب کرتے ہوئے وزیر ریلوے نے کہا کہ آر ڈی ایم سی کے اشتراک سے 884 کلومیٹر طویل روہڑی نوکُنڈی ٹریک اَپ گریڈ کیا جائے گا، منصوبہ وزیراعظم کی خصوصی دلچسپی اور وژن کے تحت مکمل کیا جا رہا ہے۔ وزیر ریلوے نے کہا کہ ریلوے کے ترقیاتی منصوبے ملک میں جدید سفری سہولیات کے فروغ کا مظہر ہیں، منصوبے کے تحت 400 کلو میٹر کا نیا ٹریک بچھایا جائے گا۔ نیا اور اَپ گریڈڈ ریلوے نیٹ ورک مسافروں اور فریٹ دونوں کے لیے انقلابی تبدیلی لائے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: سیف اینڈ اسمارٹ ریلوے اسٹیشن ریلوے نے
پڑھیں:
سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
پاکستان نے یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے سعودی آئل ٹینکر پر حملے اور بحیرہ احمر میں تجارتی جہاز رانی کو درپیش خطرات کی پرزور الفاظ میں مذمت کی ہے اور سعودی عرب کی سلامتی و خودمختاری کے لیے اپنی مکمل حمایت کا اعادہ کیا ہے۔وزیراعظم شہباز شریف نے جمعرات کو سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ٹیلی فونک رابطہ کر کے بحرِ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حوثی ملیشیا کے حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔وزیراعظم نے حملے کو بزدلانہ اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ ”ایسے اقدامات قطعی ناقابلِ قبول ہیں. یہ بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی ہیں، جہاز رانی اور تجارتی نقل و حمل کی آزادی کے لیے خطرہ ہیں اور علاقائی امن، سلامتی اور استحکام کو نقصان پہنچاتے ہیں“۔وزیراعظم نے سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کی مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں خود، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور پوری پاکستانی قوم اس نازک وقت میں سعودی قیادت اور مملکت کے برادر عوام کے ساتھ مضبوطی اور عزم کے ساتھ کھڑے ہیں۔انہوں نے مزید یقین دہانی کرائی کہ پاکستان مملکت سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی مکمل حمایت کرتا ہے اور بحرِ احمر، آبنائے ہرمز اور خطے میں سمندری تجارت کی روانی کو یقینی بنانے کے لیے عالمی برادری اور سعودی عرب کے ساتھ مل کر کام کرتا رہے گا۔گفتگو کے دوران سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے پاکستان کی اس مستقل حمایت اور دونوں ممالک کے درمیان قائم قریبی برادرانہ تعلقات کی تعریف کی۔ اس موقع پر وزیراعظم پاکستان نے خادمِ حرمین شریفین، شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کے لیے بھی نیک خواہشات اور خیر سگالی کے جذبات کا اظہار کیا۔
دوسری جانب، دفترِ خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے ہفتہ وار میڈیا بریفنگ کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ”گزشتہ ہفتے بھی حوثیوں کی جانب سے حملہ کیا گیا تھا. جس کی وزیراعظم پاکستان نے فوری مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا تھا“۔طاہر اندرابی نے کہا کہ ہمارے بحری جہازوں پر حملہ ریڈلائن ہوگی. ہم سعودی عرب کے ساتھ باہمی دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور سعودی عرب کے ساتھ تمام معاہدوں کی پاسداری کریں گے۔انہوں نے خبردار کیا کہ یمن کے مسلح گروہوں کی جانب سے سعودی عرب پر ایسے حملے خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید بڑھا سکتے ہیں، اس لیے پاکستان تمام فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور مسائل کا پرامن حل سفارتی راستے سے نکالنے کی اپیل کرتا ہے۔خطے میں امن قائم کرنے اور کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان نے اپنی سفارتی رفت و آمد میں بھی اضافہ کر دیا ہے۔ترجمان کے مطابق حال ہی میں ایران کے وزیر داخلہ اسکندر مومنی نے پاکستان کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے وزیراعظم، فیلڈ مارشل اور وفاقی وزیر داخلہ سمیت اعلیٰ قیادت سے ملاقاتیں کیں تاکہ علاقائی سیکیورٹی کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔اس کے علاوہ پاکستان اور کویت کے وزرائے خارجہ کے درمیان رابطہ ہوا، جبکہ منیلا میں آسیان ریجنل فورم کے موقع پر نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے مصر، عمان، فلپائن، روس اور بنگلہ دیش کے وزرائے خارجہ سے الگ الگ اہم ملاقاتیں کیں۔ان ملاقاتوں کی تفصیل بتاتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ ”مصر کے وزیر خارجہ سے ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے تمام ممالک کی علاقائی سالمیت اور خودمختاری کے احترام پر زور دیا، جبکہ عمان کے وزیر خارجہ نے خطے میں کشیدگی کے خاتمے اور امن و استحکام کے لیے پاکستان کے سفارتی کردار کو سراہا“۔اس کے ساتھ ساتھ روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف اور بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ خلیل الرحمان سے بھی باہمی تعلقات اور تعاون کو آگے بڑھانے پر بات چیت کی گئی۔ترجمان دفترِ خارجہ نے مزید بتایا کہ پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اب شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے وزرائے خارجہ کونسل اجلاس میں شرکت کے لیے بشکیک پہنچیں گے. جہاں ان کی کرغزستان کے صدر اور دیگر رکن ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملاقاتیں متوقع ہیں۔ترجمان نے یہ بھی بتایا کہ کینیڈا کی وزیر خارجہ انیتا آنند نے بھی حال ہی میں پاکستان کا دورہ کیا ہے، جو گزشتہ بیس سالوں میں کسی کینیڈین وزیر خارجہ کا پہلا دورہ تھا اور اس دوران دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات کی مضبوطی کے لیے اعلیٰ سطح پر بات چیت کی گئی۔