اللہ پر یقین میری سب سے بڑی طاقت ہے، عثمان خواجہ
اشاعت کی تاریخ: 7th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
آسٹریلوی کرکٹر عثمان خواجہ نے اپنے کیرئیر کے ابتدائی دنوں اور ٹیم کے ماحول سے متعلق اہم انکشافات کیے ہیں۔ ایک انٹرویو میں انہوں نے بتایا کہ جب وہ پہلی بار آسٹریلوی ٹیم کا حصہ بنے تو انہیں محسوس ہوا کہ کھلاڑی اور مینجمنٹ انہیں سمجھ ہی نہیں پا رہے تھے۔
ان کے مطابق یہ احساس اس وجہ سے تھا کہ لوگ انہیں اور اُن کی فیملی بیک گراؤنڈ کو نہیں جانتے تھے۔
عثمان خواجہ نے کہا کہ کیرئیر کے آغاز میں وہ خود کو ٹیم کے اندر فٹ نہیں سمجھتے تھے، لیکن 2015 میں واپسی کے بعد ماحول بدل چکا تھا۔ اُس وقت ٹیم کے نوجوان کھلاڑی ان کے ساتھ کھیل کر بڑے ہو چکے تھے اور انہیں گھر والا ماحول محسوس ہوا۔ اُن کے مطابق اس مرحلے پر ٹیم کے کھلاڑی انہیں بہتر طور پر سمجھتے تھے۔
انہوں نے بتایا کہ شروعات میں اُن کے مذہبی اور ثقافتی پہلو کو بھی لوگ نہیں سمجھ سکے، رمضان میں روزے کے دوران ٹریننگ کے باوجود انہیں محنت نہ کرنے کا طعنہ دیا جاتا تھا۔
عثمان خواجہ کا کہنا تھا کہ ساڑھے 6 بجے تک نہ کچھ کھانے، نہ پینے کے باوجود وہ ٹریننگ مکمل کرتے تھے، لیکن لوگ اس کے پیچھے موجود حقیقت سے ناواقف تھے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اُن کے کیرئیر میں کئی اتار چڑھاؤ آئے لیکن اُن کی اصل طاقت اُن کا ایمان ہے۔ عثمان خواجہ کے مطابق عربی کا لفظ “توکل” ان کی زندگی کا محور ہے، وہ یقین رکھتے ہیں کہ انسان کی محنت کے بدلے میں اللہ کبھی بہتر راستہ ضرور دیتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ فیملی ہمیشہ اُن کی ترجیح رہی ہے اور وہ اسی سوچ کے ساتھ آگے بڑھتے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: عثمان خواجہ ٹیم کے
پڑھیں:
بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
اپنے بیان میں ایم ڈبلیو ایم رہنماء علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جسکا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان صوبہ سندھ کے صوبائی صدر علامہ مقصود علی ڈومکی نے ببرلو بائی پاس پر پریا کماری سمیت لاپتا و مغوی بچوں کی بازیابی کے لئے جاری پرامن دھرنے پر پولیس کے کریک ڈاؤن، خواتین پر تشدد، ان کی بے حرمتی، بزرگ رہنماء لیاقت جلبانی، سوہنی پارس، صحافی ساحل جوگی اور متعدد مظاہرین کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے بچوں کی بازیابی کے لئے سراپا احتجاج مظلوم والدین، خصوصاً ماؤں پر طاقت کا استعمال انتہائی افسوسناک، غیر انسانی اور قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ احتجاج کرنے والے مظلوم خاندانوں پر تشدد کرنے کے بجائے پریا کماری سمیت تمام مغوی بچوں اور بچیوں کی فوری اور محفوظ بازیابی کو یقینی بنائے، گرفتار افراد کو فوری رہا کرے اور صحافیوں کے آئینی و قانونی حقوق کا احترام کرے۔ انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے اور اس حق کو طاقت کے ذریعے سلب نہیں کیا جا سکتا۔
علامہ مقصود ڈومکی نے بلوچستان کے ضلع مستونگ میں دہشت گردی کے افسوسناک واقعے کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے پولیس محافظ کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور زخمی جج طارق علی لاشاری کی جلد و مکمل صحت یابی کے لئے دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بلوچستان میں پیش آنے والے پے درپے دہشت گردی کے واقعات افسوسناک ہیں، اس ہفتے ژوب سے سفر کرنے والے خاندان پر حملہ، کوئٹہ سے کراچی جانے والی مسافر کوچ کا المناک سانحہ اور مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت شامل ہیں، صوبے میں امن و امان کی انتہائی تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔
علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جس کا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے آپریشنز سے نہ امن قائم ہوا، نہ دہشت گردی ختم ہوئی اور نہ ہی مسائل کا مستقل حل نکلا، لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت طاقت کی پالیسی ترک کرکے سیاسی مکالمے، مفاہمت اور سنجیدہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کے عوام کے حقیقی منتخب نمائندوں کو ان کا آئینی و جمہوری حق دیا جائے، عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے اور تمام سیاسی و سماجی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ نتیجہ خیز مذاکرات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ انصاف، سیاسی شمولیت اور عوام کے اعتماد کی بحالی ہی بلوچستان میں پائیدار امن کی ضمانت ہے، جبکہ دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے لئے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔