data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

خون انسانی جسم کا سب سے اہم نظام ہے جو دل سے لے کر دماغ، پٹھوں، جلد اور ہر عضو تک زندگی کی علامت  آکسیجن اور غذائی اجزا  پہنچاتا ہے۔

طبی ماہرین کے مطابق اگر خون کے اس بہاؤ میں ذرا سا بھی خلل پیدا ہو جائے تو پورا جسم متاثر ہوتا ہے۔ انسان کی 60 ہزار میل طویل شریانوں کا یہ جال اگر کسی مقام پر تنگ، بند یا کمزور ہو جائے تو خون کی روانی گھٹ جاتی ہے، جس کے نتیجے میں مختلف جسمانی مسائل اور خطرناک امراض جنم لے سکتے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ خون کی گردش متاثر ہونے پر جسم خود چند نمایاں اشارے دیتا ہے، جنہیں پہچاننا اور وقت پر علاج کروانا ضروری ہے۔

سب سے پہلی علامت پٹھوں کی تکلیف دہ اکڑن ہے۔ جب شریانوں میں خون کا بہاؤ کم ہوتا ہے تو جسمانی سرگرمیوں کے دوران پنڈلیوں، رانوں یا کولہوں کے مسلز میں درد اور کھچاؤ محسوس ہوتا ہے جو آرام کے بعد کچھ دیر میں ختم ہو جاتا ہے۔ یہ اس بات کا اشارہ ہوتا ہے کہ جسم کے ٹشوز کو مناسب آکسیجن نہیں مل رہی۔

دوسری علامت ہاتھوں اور پیروں کا سن ہونا یا کمزوری ہے۔ اگر خون کی فراہمی متاثر ہو تو ان حصوں میں سنسناہٹ اور جھنجھناہٹ پیدا ہوتی ہے۔ بعض اوقات گردوں کی کمزوری کے باعث پیروں میں سوجن بھی نمودار ہوتی ہے۔

تیسری علامت مستقل تھکاوٹ اور غیر معمولی ٹھنڈ ہے۔ جب جسم کو خون کے ذریعے توانائی نہیں ملتی تو انسان ہر وقت تھکن، سستی اور ٹھنڈ کا شکار رہتا ہے۔ کئی لوگوں کے ہاتھ پاؤں کی انگلیوں کی رنگت بھی نیلی یا زرد پڑ جاتی ہے۔

چوتھی نشانی دماغی کارکردگی میں کمی ہے۔ دماغ کو مسلسل خون کی فراہمی ضروری ہوتی ہے، ورنہ توجہ اور یادداشت متاثر ہونے لگتی ہے۔ اگر یہ کیفیت برقرار رہے تو ذہنی کمزوری بڑھتی جاتی ہے۔

پانچویں علامت مدافعتی نظام کی کمزوری ہے۔ خون میں موجود اینٹی باڈیز جب جسم کے مختلف حصوں تک نہیں پہنچ پاتیں تو بیماریوں سے لڑنے کی صلاحیت کم ہو جاتی ہے، جس سے انسان بار بار بیمار پڑتا ہے۔

چھٹی علامت بالوں کا گرنا اور ناخنوں کا بھربھرا ہونا ہے۔ خون کی کمی کے باعث بالوں کی جڑوں اور ناخنوں تک غذائیت نہیں پہنچتی، نتیجتاً بال کمزور ہوکر جھڑنے لگتے ہیں اور ناخن آسانی سے ٹوٹ جاتے ہیں۔

ساتویں علامت نظامِ ہاضمہ کی خرابی ہے۔ جب خون کی روانی کم ہوتی ہے تو آنتوں کے افعال سست پڑ جاتے ہیں، جس سے قبض، ہیضہ یا پیٹ درد جیسی شکایات پیدا ہوتی ہیں۔

آخر میں سب سے خطرناک علامت سینے میں تکلیف ہے۔ یہ دل کے پٹھوں تک خون نہ پہنچنے کی نشانی ہے، جسے نظر انداز کرنا زندگی کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔

ماہرین کا مشورہ ہے کہ اگر آپ کو یہ علامات محسوس ہوں تو فوری طور پر ڈاکٹر سے رجوع کریں۔ باقاعدہ ورزش، متوازن غذا، پانی کا زیادہ استعمال اور تمباکو نوشی سے پرہیز خون کی گردش کو بہتر بنانے کے قدرتی طریقے ہیں۔ یاد رکھیں، دل کی صحت ہی زندگی کی روانی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: کی روانی متاثر ہو ہوتا ہے جاتی ہے ہوتی ہے خون کی

پڑھیں:

گل پلازہ انکوائری رپورٹ منظرِ عام پر نہ لانے کا فیصلہ، شفافیت اور تفتیشی عمل پر نئی بحث

گل پلازہ آتشزدگی کیس کی انکوائری رپورٹ منظرِ عام پر لانے کے لیے ایم کیو ایم پاکستان کی جانب سے دائر درخواست مسترد ہونے کے بعد عوام کے حقِ معلومات اور جاری فوجداری تحقیقات کے درمیان توازن ایک بار پھر بحث کا موضوع بن گیا ہے۔ سندھ انفارمیشن کمیشن نے قرار دیا ہے کہ چونکہ مقدمہ ابھی زیرِ تفتیش ہے، اس لیے اس مرحلے پر انکوائری رپورٹ جاری کرنا مناسب نہیں ہوگا۔

کمیشن نے اپنے فیصلے میں کہا کہ تحقیقات مکمل ہونے اور تفتیشی افسر کی جانب سے چالان عدالت میں پیش کیے جانے کے بعد متعلقہ دستاویزات عدالتی ریکارڈ کا حصہ بن جائیں گی، جس کے بعد ان تک رسائی قانونی طریقۂ کار کے مطابق ممکن ہوگی۔ کمیشن کے مطابق جاری تحقیقات کے دوران معلومات کی فراہمی سے تفتیشی عمل متاثر ہونے کا خدشہ موجود ہے، اس لیے ضروری ہے کہ تحقیقات بلا رکاوٹ اپنے منطقی انجام تک پہنچیں۔

ایم کیو ایم پاکستان نے اپنی درخواست میں مؤقف اختیار کیا تھا کہ گل پلازہ سانحہ عوامی مفاد، شہریوں کے حقِ زندگی اور سرکاری اداروں کی کارکردگی سے جڑا معاملہ ہے۔ پارٹی کے مطابق انکوائری رپورٹ منظرِ عام پر آنے سے ذمہ داریوں کے تعین، شفافیت اور احتساب کے عمل کو تقویت ملے گی، جبکہ مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے بھی رہنمائی حاصل ہو سکے گی۔

سماعت کے دوران یہ پہلو بھی سامنے آیا کہ کیس کی تفتیش کرنے والے افسران نے بتایا کہ انہیں انکوائری رپورٹ دستیاب نہیں تھی، جبکہ مختلف سرکاری اداروں نے مؤقف اختیار کیا کہ مطلوبہ ریکارڈ ان کے پاس موجود نہیں۔ اس صورتحال نے انکوائری، انتظامی کارروائی اور فوجداری تحقیقات کے باہمی تعلق پر بھی کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

گل پلازہ کیس نے دراصل 2 اہم قانونی اصولوں کو ایک دوسرے کے مقابل لا کھڑا کیا ہے۔ ایک طرف عوام کا مطالبہ ہے کہ ایسے بڑے سانحات سے متعلق حقائق منظرِ عام پر آنے چاہییں تاکہ ذمہ داروں کا تعین ہو اور ادارہ جاتی خامیوں کی نشاندہی کی جا سکے۔ دوسری جانب ریاستی اداروں کا مؤقف ہے کہ اگر کسی مرحلے پر معلومات کی فراہمی سے تحقیقات یا عدالتی کارروائی متاثر ہونے کا خدشہ ہو تو تفتیش کو ترجیح دینا قانونی تقاضا ہے۔

حقِ معلومات سے متعلق قوانین کا مقصد سرکاری معاملات میں شفافیت کو فروغ دینا ہے، تاہم ان میں یہ گنجائش بھی رکھی گئی ہے کہ حساس نوعیت کے معاملات میں معلومات کی فراہمی اس وقت تک مؤخر رکھی جا سکتی ہے، جب تک تحقیقات اپنے منطقی انجام تک نہ پہنچ جائیں۔ یہی وجہ ہے کہ گل پلازہ کیس میں اصل سوال صرف رپورٹ کی اشاعت کا نہیں بلکہ اس مناسب وقت کا بھی ہے، جب ایسی معلومات عوامی دسترس میں لائی جانی چاہییں۔

یہ بھی پڑھیے سانحہ گل پلازا: جوڈیشل کمیشن نے انکوائری رپورٹ مکمل کرکے سندھ حکومت کے حوالے کردی

یہ مقدمہ شہری سلامتی کے وسیع تر تناظر میں بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ گل پلازہ آتشزدگی نے عمارتوں کے حفاظتی انتظامات، فائر سیفٹی کے نظام، تعمیراتی ضوابط پر عمل درآمد اور متعلقہ اداروں کی نگرانی سے متعلق کئی سوالات کو جنم دیا تھا۔ ایسے میں انکوائری رپورٹ کو صرف ذمہ داریوں کے تعین کی دستاویز نہیں بلکہ مستقبل کی اصلاحات کے لیے ایک اہم حوالہ بھی تصور کیا جا رہا ہے۔

اب توجہ اس بات پر مرکوز ہے کہ جاری تحقیقات کب مکمل ہوتی ہیں اور عدالتی کارروائی کس مرحلے تک پہنچتی ہے۔ اگر تحقیقات اپنے منطقی انجام تک پہنچنے کے بعد انکوائری رپورٹ یا اس کے نتائج عوامی ریکارڈ کا حصہ بنتے ہیں تو اس سے نہ صرف اس مقدمے سے متعلق کئی سوالات کے جواب مل سکیں گے بلکہ یہ بھی واضح ہوگا کہ اس سانحے سے حاصل ہونے والے اسباق کو ادارہ جاتی اصلاحات میں کس حد تک ڈھالا جا سکا۔

یوں گل پلازہ کیس محض ایک انکوائری رپورٹ تک محدود نہیں رہا بلکہ پاکستان میں شفافیت، مؤثر تحقیقات اور ادارہ جاتی احتساب کے درمیان توازن کا ایک اہم امتحان بن چکا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

متعلقہ مضامین

  • گل پلازہ انکوائری رپورٹ منظرِ عام پر نہ لانے کا فیصلہ، شفافیت اور تفتیشی عمل پر نئی بحث
  • گوگل کا نیا سیکیورٹی فیچر، کیا اب پاس ورڈ کی ضرورت ہی نہیں رہے گی؟
  • نیٹ فلکس کی پہلی پاکستانی اوریجنل سیریز ’جو بچے ہیں سنگ سمیٹ لو‘ کب ریلیز ہو گی؟
  • ’ابھی ہو گیا، بس‘، سونو نگم نے نیٹ احتجاج پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا
  • تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • قائداعظم کے بارے میں سازشی تھیوریز نہ گھڑیں
  • مشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف