خون کی روانی میں رکاوٹ ؟ ایسے 8 اشارے جو صحت کے لیے اہم ترین ہیں
اشاعت کی تاریخ: 8th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
خون انسانی جسم کا سب سے اہم نظام ہے جو دل سے لے کر دماغ، پٹھوں، جلد اور ہر عضو تک زندگی کی علامت آکسیجن اور غذائی اجزا پہنچاتا ہے۔
طبی ماہرین کے مطابق اگر خون کے اس بہاؤ میں ذرا سا بھی خلل پیدا ہو جائے تو پورا جسم متاثر ہوتا ہے۔ انسان کی 60 ہزار میل طویل شریانوں کا یہ جال اگر کسی مقام پر تنگ، بند یا کمزور ہو جائے تو خون کی روانی گھٹ جاتی ہے، جس کے نتیجے میں مختلف جسمانی مسائل اور خطرناک امراض جنم لے سکتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ خون کی گردش متاثر ہونے پر جسم خود چند نمایاں اشارے دیتا ہے، جنہیں پہچاننا اور وقت پر علاج کروانا ضروری ہے۔
سب سے پہلی علامت پٹھوں کی تکلیف دہ اکڑن ہے۔ جب شریانوں میں خون کا بہاؤ کم ہوتا ہے تو جسمانی سرگرمیوں کے دوران پنڈلیوں، رانوں یا کولہوں کے مسلز میں درد اور کھچاؤ محسوس ہوتا ہے جو آرام کے بعد کچھ دیر میں ختم ہو جاتا ہے۔ یہ اس بات کا اشارہ ہوتا ہے کہ جسم کے ٹشوز کو مناسب آکسیجن نہیں مل رہی۔
دوسری علامت ہاتھوں اور پیروں کا سن ہونا یا کمزوری ہے۔ اگر خون کی فراہمی متاثر ہو تو ان حصوں میں سنسناہٹ اور جھنجھناہٹ پیدا ہوتی ہے۔ بعض اوقات گردوں کی کمزوری کے باعث پیروں میں سوجن بھی نمودار ہوتی ہے۔
تیسری علامت مستقل تھکاوٹ اور غیر معمولی ٹھنڈ ہے۔ جب جسم کو خون کے ذریعے توانائی نہیں ملتی تو انسان ہر وقت تھکن، سستی اور ٹھنڈ کا شکار رہتا ہے۔ کئی لوگوں کے ہاتھ پاؤں کی انگلیوں کی رنگت بھی نیلی یا زرد پڑ جاتی ہے۔
چوتھی نشانی دماغی کارکردگی میں کمی ہے۔ دماغ کو مسلسل خون کی فراہمی ضروری ہوتی ہے، ورنہ توجہ اور یادداشت متاثر ہونے لگتی ہے۔ اگر یہ کیفیت برقرار رہے تو ذہنی کمزوری بڑھتی جاتی ہے۔
پانچویں علامت مدافعتی نظام کی کمزوری ہے۔ خون میں موجود اینٹی باڈیز جب جسم کے مختلف حصوں تک نہیں پہنچ پاتیں تو بیماریوں سے لڑنے کی صلاحیت کم ہو جاتی ہے، جس سے انسان بار بار بیمار پڑتا ہے۔
چھٹی علامت بالوں کا گرنا اور ناخنوں کا بھربھرا ہونا ہے۔ خون کی کمی کے باعث بالوں کی جڑوں اور ناخنوں تک غذائیت نہیں پہنچتی، نتیجتاً بال کمزور ہوکر جھڑنے لگتے ہیں اور ناخن آسانی سے ٹوٹ جاتے ہیں۔
ساتویں علامت نظامِ ہاضمہ کی خرابی ہے۔ جب خون کی روانی کم ہوتی ہے تو آنتوں کے افعال سست پڑ جاتے ہیں، جس سے قبض، ہیضہ یا پیٹ درد جیسی شکایات پیدا ہوتی ہیں۔
آخر میں سب سے خطرناک علامت سینے میں تکلیف ہے۔ یہ دل کے پٹھوں تک خون نہ پہنچنے کی نشانی ہے، جسے نظر انداز کرنا زندگی کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔
ماہرین کا مشورہ ہے کہ اگر آپ کو یہ علامات محسوس ہوں تو فوری طور پر ڈاکٹر سے رجوع کریں۔ باقاعدہ ورزش، متوازن غذا، پانی کا زیادہ استعمال اور تمباکو نوشی سے پرہیز خون کی گردش کو بہتر بنانے کے قدرتی طریقے ہیں۔ یاد رکھیں، دل کی صحت ہی زندگی کی روانی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کی روانی متاثر ہو ہوتا ہے جاتی ہے ہوتی ہے خون کی
پڑھیں:
سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں، عدالت عظمیٰ کا بڑا فیصلہ
اسلام آباد:عدالت عظمیٰ نے بڑا فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں ہے۔
سپریم کورٹ کے جسٹس محمد علی مظہر نے مختصر فیصلہ سناتے ہوئے قرار دیا کہ نیب کیسز میں مرکزی اپیلیں اور ضمانت کی درخواستیں وفاقی آئینی عدالت سنے گی ۔ نیب قانون کی شق 32 اور 32 اے کے تحت سپریم کورٹ کو اختیار سماعت ہی نہیں ہے۔
فیصلے میں قرار دیا گیا کہ نیب کے کیسز آرٹیکل 175 اے اور ایف کے تحت کے تحت تمام کیسز وفاقی آئینی عدالت کو ٹرانسفر تصور سمجھے جائیں گے۔
واضح رہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان نے بھی ہائیکورٹ کے ضمانت کیس کیخلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا اور رجسٹرار سپریم کورٹ نے درخواست اعتراضات عائد کرکے واپس کی تھی۔
سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد اب بانی پی ٹی آئی کی ضمانت کا کیس وفاقی آئینی عدالت سنے گی۔