27ویں آئینی ترمیم کی راہ میں کوئی بڑی رکاوٹ نہیں: وزیر اطلاعات عطااللہ تارڑ
اشاعت کی تاریخ: 6th, November 2025 GMT
وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطااللہ تارڑ نے کہا ہے کہ 18ویں ترمیم کے ساتھ کوئی چھیڑ چھاڑ نہیں ہورہی، میں میٹنگز کا حصہ رہا ہوں، 27ویں آئینی ترمیم کی راہ میں کوئی بڑی رکاوٹ نہیں۔
نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ مجسٹریسی نظام ایک پرانی چیز ہے جسے بحال کیا جارہا ہے، جبکہ تعلیم اور آبادی پر ملک بھر میں ایک پالیسی چاہیے۔
مزید پڑھیں: حکومت کا 27ویں آئینی ترمیم کا مسودہ وفاقی کابینہ سے پاس کرانے کا فیصلہ، اجلاس طلب
انہوں نے کہاکہ آج 9 سیاسی جماعتوں کی آئینی ترمیم پر وزیراعظم شہباز شریف سے مشاورت ہوئی، پیپلز پارٹی کے ساتھ آئینی عدالت کے معاملے پر ہمارا اتفاق رائے ہے۔
انہوں نے کہاکہ آئینی عدالت پر بحث 2005 سے چل رہی ہے، اور کتنا وقت چاہیے؟ مجھے کوئی ایسی چیز نظر نہیں آتی جس پر ہفتوں کی بحث درکار ہو۔
عطااللہ تارڑ نے کہاکہ چوہدری شجاعت کی پرانی تجویز ہے کہ تعلیم کو وفاق کے پاس رہنے دیں، آئین میں وقت اور حاات کے مطابق ترامیم ہوتی رہتی ہے۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی جس طرح کے بیانات دے رہے ہیں انہیں شرم آنی چاہیے۔
مزید پڑھیں: 27ویں ترمیم میں دہری شہریت کے خاتمے سمیت کیا کیا تجاویز دی گئی ہیں؟ رانا ثنااللہ نے بتا دیا
انہوں نے کہاکہ پیپلز پارٹی کے سی ای سی اجلاس کے بعد آئینی ترمیم کابینہ میں پیش کرنے کا فیصلہ ہوگا، ہم وہاں سے اچھے فیصلوں کے منتظر ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews آئینی ترمیم شہباز شریف عطااللہ تارڑ مجسٹریسی نظام وزیراعظم پاکستان وفاقی وزیر اطلاعات وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: شہباز شریف عطااللہ تارڑ وزیراعظم پاکستان وفاقی وزیر اطلاعات وی نیوز انہوں نے کہاکہ عطااللہ تارڑ
پڑھیں:
بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
اپنے بیان میں ایم ڈبلیو ایم رہنماء علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جسکا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان صوبہ سندھ کے صوبائی صدر علامہ مقصود علی ڈومکی نے ببرلو بائی پاس پر پریا کماری سمیت لاپتا و مغوی بچوں کی بازیابی کے لئے جاری پرامن دھرنے پر پولیس کے کریک ڈاؤن، خواتین پر تشدد، ان کی بے حرمتی، بزرگ رہنماء لیاقت جلبانی، سوہنی پارس، صحافی ساحل جوگی اور متعدد مظاہرین کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے بچوں کی بازیابی کے لئے سراپا احتجاج مظلوم والدین، خصوصاً ماؤں پر طاقت کا استعمال انتہائی افسوسناک، غیر انسانی اور قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ احتجاج کرنے والے مظلوم خاندانوں پر تشدد کرنے کے بجائے پریا کماری سمیت تمام مغوی بچوں اور بچیوں کی فوری اور محفوظ بازیابی کو یقینی بنائے، گرفتار افراد کو فوری رہا کرے اور صحافیوں کے آئینی و قانونی حقوق کا احترام کرے۔ انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے اور اس حق کو طاقت کے ذریعے سلب نہیں کیا جا سکتا۔
علامہ مقصود ڈومکی نے بلوچستان کے ضلع مستونگ میں دہشت گردی کے افسوسناک واقعے کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے پولیس محافظ کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور زخمی جج طارق علی لاشاری کی جلد و مکمل صحت یابی کے لئے دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بلوچستان میں پیش آنے والے پے درپے دہشت گردی کے واقعات افسوسناک ہیں، اس ہفتے ژوب سے سفر کرنے والے خاندان پر حملہ، کوئٹہ سے کراچی جانے والی مسافر کوچ کا المناک سانحہ اور مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت شامل ہیں، صوبے میں امن و امان کی انتہائی تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔
علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جس کا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے آپریشنز سے نہ امن قائم ہوا، نہ دہشت گردی ختم ہوئی اور نہ ہی مسائل کا مستقل حل نکلا، لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت طاقت کی پالیسی ترک کرکے سیاسی مکالمے، مفاہمت اور سنجیدہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کے عوام کے حقیقی منتخب نمائندوں کو ان کا آئینی و جمہوری حق دیا جائے، عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے اور تمام سیاسی و سماجی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ نتیجہ خیز مذاکرات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ انصاف، سیاسی شمولیت اور عوام کے اعتماد کی بحالی ہی بلوچستان میں پائیدار امن کی ضمانت ہے، جبکہ دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے لئے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔