چیف جسٹس آف پاکستان ڈمپر مافیا کے خلاف ازخود نوٹس لیں، علامہ باقر زیدی
اشاعت کی تاریخ: 4th, November 2025 GMT
ایک بیان میں رہنما ایم ڈبلیو ایم نے کہا کہ مافیا کے سربراہان کی جانب سے سرِعام فائرنگ، شہریوں کو دھمکیاں دینا اور شاہراہوں کو بند کرنے کا اعلان ناقابلِ برداشت ہے، ایسے عناصر کے خلاف فوری اور سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین کے رہنما علامہ باقر عباس زیدی نے کہا ہے کہ سندھ حکومت کی سرپرستی میں شہرِ قائد میں موت کا خونی کھیل کھیلا جا رہا ہے، ڈمپر مافیا کھلے عام سڑکوں پر دندناتا پھر رہا ہے اور روزانہ کی بنیاد پر شہری، بچے، خواتین، طلبہ اور بزرگ ان بے لگام گاڑیوں کے نیچے آ کر اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہر سال پانچ سو سے زائد افراد ان حادثات کا شکار ہوتے ہیں، مگر سندھ حکومت کی توجہ شہریوں کی جان کے تحفظ کے بجائے صرف ای چالان پر مرکوز ہے، ملک کے کسی اور حصے میں اس قدر اموات نہیں ہوتیں جتنی کراچی میں اس مافیا کی بے خوف سرگرمیوں کے نتیجے میں ہو رہی ہیں۔ علامہ باقر عباس زیدی نے سوال اٹھایا کہ ٹریفک سگنل کی معمولی خلاف ورزی پر ہزاروں روپے جرمانہ کرنے والی حکومت ان ڈمپر ڈرائیورز اور ان کے سرپرستوں کے خلاف کب کارروائی کرے گی جو انسانی جانوں کو کچل رہے ہیں اور قانون کی دھجیاں اڑا رہے ہیں؟
انہوں نے کہا کہ مافیا کے سربراہان کی جانب سے سرِعام فائرنگ، شہریوں کو دھمکیاں دینا اور شاہراہوں کو بند کرنے کا اعلان ناقابلِ برداشت ہے، ایسے عناصر کے خلاف فوری اور سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومتِ سندھ اس خونی کھیل میں برابر کی شریکِ جرم ہے، جو عوام کے تحفظ کے بجائے قاتل مافیا سے مذاکرات میں مصروف ہے، حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ ان واقعات میں جاں بحق ہونے والے شہریوں کو انصاف فراہم کرے اور ان کے متاثرہ خاندانوں کے لیے مالی معاوضے کا فوری اعلان کرے۔ علامہ باقر عباس زیدی نے چیف جسٹس آف پاکستان سے پرزور مطالبہ کیا کہ وہ ڈمپر مافیا کے خلاف ازخود نوٹس لیں، شہریوں کے قاتلوں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے اور ملوث افراد کو سزائے موت دے کر مثال قائم کی جائے تاکہ کراچی کے شہریوں کی جانیں مزید ضائع نہ ہوں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: علامہ باقر مافیا کے کے خلاف نے کہا کہا کہ
پڑھیں:
اے پی ایس شہدا کے لواحقین کو معاوضہ پیکج کی عدم ادائیگی، سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا
سپریم کورٹ آف پاکستان نے سانحہ آرمی پبلک سکول (اے پی ایس) کے شہدا کے لواحقین کو اعلان کردہ معاوضہ پیکج نہ ملنے کے معاملے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا ہے۔
کیس کی سماعت جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے کی۔ دوران سماعت جسٹس عرفان سعادت نے ریمارکس دیے کہ درخواست 25 دن کی تاخیر سے دائر کی گئی ہے۔
درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ شہدا کے لواحقین کو حکومت کی جانب سے اعلان کردہ پیکج تاحال نہیں ملا۔
اس پر جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیے کہ اگر کوئی پیکج دیا گیا ہے تو وہ تمام متاثرہ لواحقین کو ملنا چاہیے۔
انہوں نے وفاقی حکومت کو ہدایت کی کہ وہ عدالت کو آگاہ کرے کہ پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد ہوا ہے یا نہیں۔
سماعت کے دوران یہ بھی بتایا گیا کہ پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد نہ ہونے کے خلاف شہدا کے لواحقین کی جانب سے توہین عدالت کی درخواست دائر کی گئی تھی، تاہم پشاور ہائیکورٹ نے مذکورہ درخواست کو خارج کر دیا تھا۔
بعد ازاں سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کردی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews جواب طلب سپریم کورٹ عدم ادائیگی معاوضہ پیکج وفاقی حکومت وی نیوز