معصوم شہریوں کو روندا جانا حکومت و انتظامیہ کی مجرمانہ غفلت ہے، منعم ظفر خان
اشاعت کی تاریخ: 4th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی:۔ گزشتہ رات گارڈن شو مارکیٹ رامسوامی میں ڈمپر کی ٹکر سے جاں بحق ہونے والے نوجوان شاہ زیب کی نمازِ جنازہ ادا کردی گئی، نماز جنازہ میں امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر خان، سکریٹری اطلاعات زاہد عسکری ،مقامی رہنماﺅں، علاقہ مکینوں اور مقتول کے عزیز و اقارب نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔
بعد ازاں منعم ظفر خان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے واقعے پر گہرے رنج و غم اور جاں بحق ہونے والے نوجوان کے اہلِ خانہ سے دلی تعزیت و ہمدردی کا اظہار کیا۔
انہوں نے کہا کہ شہر میں ہیوی ٹریفک کے باعث اب تک 217 قیمتی جانیں ضائع ہوچکی ہیں لیکن حکومت اور انتظامیہ کی مجرمانہ غفلت برقرار ہے۔ ہیوی ٹریفک کو قاعدے اور قانون کا پابند بنایا جائے اور ان کے خلاف موثر کارروائی عمل میں لائی جائے تاکہ مزید قیمتی جانیں ضائع نہ ہوں۔
منعم ظفر خان نے کہاکہ حادثہ کے ذمہ دار ڈمپر ڈرائیور کو قرارِ واقعی سزا دی جائے، لیکن افسوس کی بات ہے کہ اب تک اس واقعے کے ذمہ دار ڈرائیور کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی جس سے متاثرہ خاندان کے زخموں پر مزید نمک چھڑکا گیا ہے۔
منعم ظفر خان نے حکومتِ سندھ اور ٹریفک پولیس سے مطالبہ کیا کہ متاثرہ خاندان کو مالی معاونت اور انصاف فراہم کیا جائے ۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔