اداکار زاہد احمد نے سوشل میڈیا کو شیطان کا کام قرار دے دیا
اشاعت کی تاریخ: 2nd, November 2025 GMT
معروف اداکار زاہد احمد نے سوشل میڈیا اور اس کے اثرات پر کھل کر گفتگو کرتے ہوئے اسے شیطان کا کام قرار دے دیا۔حال ہی میں اداکار زاہد احمد نے ایک پوڈکاسٹ میں شرکت کی جہاں انہوں نے سوشل میڈیا اور جدید طرزِ زندگی پر سخت مؤقف اپنایا۔انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا شیطان کا کام ہے اور جو لوگ اس پر مواد تخلیق کر رہے ہیں، وہ جہنم میں جائیں گے، انہوں نے تسلیم کیا کہ میرے اس بیان پر تنقید ہو سکتی ہے کیونکہ میں خود بھی سوشل میڈیا پر موجود ہوں، مگر میں محض اپنا ذاتی مؤقف پیش کر رہا ہوں۔اداکار نے کہا کہ اپنی نجی زندگی، بچوں اور روزمرہ کے معمولات کو عوامی سطح پر دکھانا درست عمل نہیں، سوشل میڈیا وہ ایجاد ہے جس نے انسان کو سب سے زیادہ نقصان پہنچایا ہے۔زاہد احمد کے اس بیان نے سوشل میڈیا پر نئی بحث چھیڑ دی ہے، جہاں کچھ صارفین ان کے خیالات سے اتفاق کر رہے ہیں وہیں کئی لوگ انہیں حد سے زیادہ سخت مؤقف اختیار کرنے پر تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔یاد رہے کہ زاہد احمد اپنی ہمہ جہت اداکاری اور گہرے کرداروں کے باعث شہرت رکھتے ہیں، انہوں نے متعدد معروف ڈراموں میں اپنی فنکارانہ صلاحیتوں کا لوہا منوایا، ریڈیو سے اپنے کیریئر کا آغاز کرنے والے زاہد احمد نے تھیٹر اور پھر ٹیلی وژن تک کا کامیاب سفر طے کیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: نے سوشل میڈیا زاہد احمد نے انہوں نے
پڑھیں:
میٹا اے آئی سمیت چیٹ بوٹس کے ذریعے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک ہونے کا خطرہ، ماہرین کی وارننگ
سائبر سیکیورٹی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت یا اے آئی پر مبنی چیٹ بوٹس کے خلاف ایک نئے قسم کے سائبر حملے سامنے آئے ہیں جن کے ذریعے ہیکرز سوشل میڈیا اکاؤنٹس اور ذاتی معلومات تک غیر مجاز رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: دنیا بھر کی اہم شخصیات کے انسٹاگرام اکاؤنٹس ہیک ہونے کا انکشاف، میٹا نے سب بتادیا
ماہرین کے مطابق جدید بڑی زبان کے ماڈلز(ایل ایل ایمز) جن میں میٹا اے آئی سمیت دیگر اے آئی چیٹ بوٹس شامل ہیں کو ایک تکنیک پرومپٹ انجیکشن‘ کے ذریعے دھوکا دیا جا سکتا ہے۔ اس طریقے میں حملہ آور چیٹ بوٹس کے حفاظتی نظام کو بائی پاس کرتے ہوئے انہیں ایسے احکامات پر عمل کرنے پر آمادہ کرتے ہیں جو عام حالات میں ممکن نہیں ہوتے۔
سائبر سیکیورٹی ماہر بروس شنائر کے مطابق ہیکرز اس مقصد کے لیے ’پرولیج ایسکلیشن‘ نامی حکمت عملی استعمال کرتے ہیں جس کے تحت اے آئی ماڈل کو ایسی فرضی شخصیت اختیار کرنے پر قائل کیا جاتا ہے جو حفاظتی قواعد کو نظر انداز کر دے یوں چیٹ بوٹ کی محدود صلاحیتیں وسیع ہو جاتی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق حملہ آور یہ خفیہ ہدایات بظاہر بے ضرر مواد، جیسے ای میلز، ویب سائٹس یا آن لائن پیغامات میں شامل کرتے ہیں۔ اگر چیٹ بوٹ ان ہدایات کو قبول کر لے تو ہیکرز کو صارف کے منسلک اکاؤنٹس اور ڈیجیٹل سروسز تک رسائی حاصل ہو سکتی ہے۔
مزید پڑھیے: اوپن اے آئی نے ’سورا‘ ایپ لانچنگ کے چند ماہ بعد ہی اچانک کیوں بند کردی؟
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایک بار چیٹ بوٹ کے متاثر ہونے کے بعد اسے ذاتی معلومات چرانے، حساس ڈیٹا باہر منتقل کرنے یا صارف کے اکاؤنٹس تک غیر مجاز رسائی حاصل کرنے جیسے اقدامات کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
سائبر سیکیورٹی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ خطرہ اس وقت مزید بڑھ جاتا ہے جب صارفین اے آئی ٹولز کو اپنی ای میل، کیلنڈر یا دیگر ذاتی سروسز تک رسائی دے دیتے ہیں کیونکہ اس سے حملہ آوروں کے لیے نقصان دہ سرگرمیوں کے نئے راستے کھل سکتے ہیں۔
مزید پڑھیں: ’کوئی پڑھے نہ پڑھے اے آئی تو پڑھے گی‘: قدیم زمانوں کے محبت نامے، خفیہ تحریریں آشکار
ماہرین کے مطابق ہیکرز کا حتمی مقصد مالی فراڈ، شناختی معلومات کی چوری اور دیگر نقصان دہ سرگرمیوں کو انجام دینا ہوتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ رجحان ظاہر کرتا ہے کہ مستقبل میں مصنوعی ذہانت کی اپنی استدلالی صلاحیتیں بھی صارفین کے خلاف استعمال کی جا سکتی ہیں جس سے روایتی سائبر سیکیورٹی اقدامات کو مؤثر بنانا مزید مشکل ہو جائے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اے آئی مصنوعی ذہانت ہیکنگ