اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) پاکستان کی جانب سےافغانستان کےساتھ بارڈرکراسنگ پوائنٹس کی بندش سے ہونے والے نقصانات کی تفصیلات سامنے آگئیں۔ 

پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحدی کشیدگی کے باعث بند کیے جانے والے کراسنگ پوائنٹس کو تقریباً ایک ماہ ہو چکا ہے۔

پاک افغان سرحد کی بندش سے وسط ایشیائی ممالک کوپاکستانی برآمدات بھی متاثر ہوئی ہیں۔ افغانستان کے ساتھ تمام 8 بارڈرکراسنگ پوائنٹس بند ہونے کے باعث ایک ہزار ٹرک کراچی پورٹ پر  پھنس گئے۔

حکومتی ذرائع کے مطا بق عام طور پرپاکستان سے افغانستان ماہانہ تقریبا 15 کروڑ ڈالرزکی درآمدات کرتا ہے۔ افغانستان عام طور پر پاکستان کو ماہانہ تقریباً 6کروڑ ڈالرزکی برآمدات کرتا ہے۔

  27 ویں ترمیم سینیٹ سے منظور کرانے کی حکمت عملی فائنل  ، اتحادی جماعتوں سے ساتھ دینے کا وعدہ لے لیا گیا 

بارڈر کراسنگ پوائنٹس کی بندش سے 20 سے 25 ہزار ورکرز متاثر ہوئے اور افغانستان میں زرعی مصنوعات کی قیمتیں گرگئیں۔ 

افغانی انگور کا 10 کلو گرام کا پیکٹ پاکستانی 4500روپے میں فروخت ہوتا تھا جس کی قیمت گر کر 120سے140روپے پر آگئی ہے، اس بندش سے افغانستان کو کروڑوں روپے کا نقصان ہو ر ہا ہے۔ 

پاکستان اور افغانستان کے درمیان کراسنگ پوائنٹس کی بندش کے ابتدائی 24 روز میں تقریباً 20کروڑ ڈالرز نقصانات کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔

مزید :.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Pakistan

کلیدی لفظ: افغانستان کے کی بندش سے

پڑھیں:

امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر

ایران کی ایئرڈیفنس کے جوائنٹ ہیڈکوارٹرز کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے کہا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ بندی سے قبل جارحیت کے دوران فضائی جنگی صلاحیت اور آلات کو بڑا نقصان پہنچایا۔

ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے ایک انٹرویو میں کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ کے دوران جدید ڈرونز سمیت جنگی آلات کی مد میں کروڑ ڈالر کا نقصان پہنچایا۔

علی رضا الہامی نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو پہنچنے والے نقصانات سے انہیں ایران کے اندر اپنے اہداف کی نشان دہی اور نشانہ بنانے کی صلاحیت پر بدترین اثر پڑا اور اس کے نتیجے میں فضائی کارروائی کی صلاحیت محدود ہوگئی۔

انہوں نے کہا کہ ایران نے منفرد اور مؤثر جواب کے لیے  ڈسپرشن، الیکٹرونک ڈسپشن اور درست نشانہ پر حملوں جیسی ذہین حکمت عملیوں کا استعمال کیا گیا، دشمن کے فضائی حملوں کے اثرات کو نمایاں طور پر کم کر دیا اور اس کی ڈرون صلاحیتوں کو بھی کمزور کر دیا۔

کمانڈر نے کہا کہ ایرانی ایئرڈیفنس نے امریکا اور اسرائیل کے ایئرکرافٹ، ایم کیو-9 ریپر، ہرمیس 900، آربیٹر، لیوکاس اور ہیرمس 450 اور جنگی لڑاکا طیاروں کی فلیٹ کا مقابلہ کرنے کے لیے ریڈار ڈیٹا پروسیسنگ اور دیگر ٹیکنالوجی کا استعمال کیا، دشمن کو اپنے فائر پاور اور جدید ٹیکنالوجی پر انحصار تھا۔

علی رضا الہامی نے کہا کہ ایران کے جدید اور مربوط فضائی دفاعی نیٹ ورک نے حملہ آور دشمنوں کی فضائی قوت کو ایسا بھاری نقصان پہنچایا جو فضائی جنگوں کی تاریخ کے بدترین نقصانات میں شمار ہوتے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • دوسرا ون ڈے: آسٹریلیا نے پاکستان کو 41 رنز سے شکست دے دی
  • امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
  • دوسرا ون ڈے: آسٹریلیا کا پاکستان کو جیت کیلئے 232 رنز کا ہدف
  • پاکستان میں کاروباری اعتماد کمزور، 80 فیصد اداروں نے سرمایہ کاری فیصلے مؤخر کر دیئے
  • بٹ کوائن کی تاریخی گراوٹ، سرمایہ کاروں کے کروڑوں ڈالر ڈوب گئے
  • آزاد کشمیر کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 54 ارب روپے سے زائد فنڈز تجویز
  • 27 مئی تا یکم جون عید تعطیلات، ریلوے کی آمدن میں خاطرہ خواہ اضافہ
  • پی ایس ڈی پی میں ارکان پارلیمنٹ اور ترقیاتی منصوبوں کیلئے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز
  •  کاروباری عدم اعتماد، 80 فیصد اداروں کے سرمایہ کاری فیصلے موخر، اوورسیز چیمبر
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی